پاکستان کے ورلڈ چیمپئن بننے کا غم،آسٹریلیا کا 23 برس بعد جواب

پاکستان کرکٹ ٹیم نے مارچ میں ہی ورلڈ کپ جیتا تھا لیکن آسٹریلیا کے لئے سب سے زیادہ غمناک تھا کیونکہ یہ اس کے ملک میں ہوا تھا اور وہ اپنی عوام کے سامنے ورلڈ چیمپئن بننے سے محروم تھا ،چنانچہ 1992کا یہ المیہ اس پر سوار تھا.1999 سے 2007 تک مسلسل 3 بار عالمی چیمپئن کہلائے جانے کے باوجود اس کی تسلی نہیں ہوسکی تھی بلکہ الٹا 2011 کے ورلڈ فائنل سے بھی وہ آئوٹ ہوگیا تھا.ایسا لگا کہ جیسے اس کی کہانی ہی ختم ہوگئی ہو لیکن بہت کم لوگ جانتے تھے کہ وہ 2015 ورلڈ کپ کو ہدف بنائے ہوئے ہے جو کہ اس کے ملک میں ہونے والا تھا.

29 مارچ 2015 کو ورلڈ کپ کا فائنل اسی میلبورن کرکٹ گرائونڈ میں کھیلا گیا،جہاں 1992ورلڈ کپ کا فائنل تھا.پاکستان نے 86ہزار سے زائد تماشائیوں کے سامنے ٹرافی اٹھائی تھی تو آسٹریلیا کے سامنے ان کا اپنا کرائوڈ 93ہزار کی تعداد میں موجود تھا.مقابلہ پر نیوز لینڈ کی ٹیم تھی جو شروع کے 2گھنٹے تو اچھا کھیل سکی لیکن اس کے بعد بیٹنگ و بائولنگ میں فلاپ ہوگئی.آسٹریلیا نے اس روز ورلڈ کپ جیت لیا تھا.یہ اس کا مجموعی طور پر 5واں عالمی کپ تھا لیکن اپنے ملک میں اپنی عوام کے سامنے یہ پہلی بار تھا،اس لئے بھی کپتان مائیکل کلارک کے لئے ایک اعزاز تھا جو اور کسی چیمپئن کپتان کو نہ ملا.یہ وہی ورلڈ کپ ہے کہ جس کے کوارٹر فائنل میں پاکستان کے وہاب ریاض نے شین واٹسن کے خلاف وہ تیز وتاریخی اسپیل کیا تھا جس کی گونج اب بھی باقی ہے.

آج ہی کے روز بھارت کے اوپنر وریندر سہواگ نے اپنے ملک کی جانب سے پہلی ٹرپل سنچری کرنے کا اعزاز حاصل کیا،انہوں نے یہ کارنامہ ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں 29 مارچ 2004 کو سر انجام دیا جب بھارتی ٹیم ملتان میں ٹیسٹ میچ کھیل رہی تھی.وہ ٹرپل سنچری کرنے والے پہلے بھارتی کرکٹر بنے تھے.