پاکستانی کھلاڑی نئے سال کےلئے پرجوش،ورلڈ ٹی 20 بڑا مشن،اہم ٹیمیں پاکستانی سر زمین پرہونگی

عمران عثمانی
Image By cricketworldcup
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بھی دنیائے کرکٹ کے دیگر ستاروں کی طرح نئے سال کے حوالہ سے پرجوش ہیں۔2020میں ٹی 20 فارمیٹ میں سب سے زیادہ رنزبنانے والے پاکستان کے سینئر بیٹسمین محمد حفیظ نے 2021 شروع ہوتے ہی نئے سال کی مبارکباد دی،سلامتی اور صحت کی دعا دی ہے۔سابق کپتان رمیز راجہ نے بھی مبارکباد کا پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نیا سال مبارک ہو اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ سال ہر اعتبار سے بہتر ثابت ہوگا۔محمد عامر نے بھی خوبصورت تصویر شیئر کرتے ہوئے نئے سال کی مبارکباد دی،اس سے قبل شاہد آفریدی سمیت متعدد کرکٹرز بھی نیک خواہشات کا اظہار کرچکے ہیں۔سابق کپتان راشد لطیف نے کہا ہے کہ ایک اور اینٹ نکل گئی دیوار حیات سے،ناداں نے کہدیا نیا سال مبارک۔شعیب اختر نے بھی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے مداحوں کو مبارکباد دی ہے ۔پاکستان کی موجودہ ٹیم نئے سال کے پہلے چیلنج کے لئے کرائسٹ چرچ اتر چکی ہے اور ٹیم جمعہ کو بھر پور پریکٹس کرے گی.
پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے آنے والے سال میں بڑے چیلنجز ہیں،کورونا کے دور میں کرکٹ بحالی کا تسلسل سب سے اہم مشن ہوگا،اس کے ساتھ ہی ٹیم کی ملکی و غیر ملکی مصروفیات بھی بھر پور ہیں۔سال کے شروع کے ایام میں نیوزی لینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز کا دوسرا میچ ہوگا،اس کے بعد اس ماہ اور اگلے ماہ جنوبی افریقا کے خلاف ہوم سیریز ہوگی،پھر پی ایس ایل 6 کا ایڈیشن سامنے ہوگا،اس کے بعد بنگلہ دیش کے خلاف ملتوی شدہ ایک ٹیسٹ ری شیڈول ہوسکتا ہے۔سری لنکا میں ایشیا کپ ٹی 20 کھیلا جانا ہے،محدود اوورز کے دونوں فارمیٹ کے لئے پاکستان نے انگلینڈ جانا ہے۔پھر انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں پاکستان میں ٹی 20 سیریز کے لئے آئیں گی،اکتوبر نومبر میںورلڈ ٹی 20کے لئے بھارت کا سفر ہوگا اور سال کےآخر میں ہوم سیریز ہوگی۔پاکستان نے محدود اوورز سیریز کے لئے جنوبی افریقا بھی جانا ہے۔
پاکستان کرکٹ کے لئے اہم ترین بات یہ ہے کہ اس سال ہمسایہ ملک بھارت میں شیڈول ورلڈ ٹی 20کے لئے موثر ٹیم بنائے اور پھر اس کی اچھی تیاری کرے،اس وقت قومی ٹیم ٹی 20 رینکنگ میں چوتھی پوزیشن پر ہے اور اس میں تنزلی بھی ممکن ہے،اس لئے ضروری ہے کہ ٹیم منیجمنٹ اس کی بھر پور
تیاری کرے کیونکہ فی الحال ٹیم مشکل میں ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم 2020کی انجری سے نجات کے لئے پرعزم ہیں لیکن ان کی کیویز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں شرکت مشکوک ہے۔پاکستان کرکٹ کے لئے اچھی بات یہ ہے کہ اس سال جنوبی افریقا،نیوزی لینڈ،انگلینڈ کی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کرکے انٹر نیشنل کرکٹ بحالی پر مہر ثبت کردیں گی۔پاکستان کے لئے حقیقی اور بڑا چیلنج ورلڈ ٹی 20 ہوگا،بھارت میں شیڈول ٹی 20 کپ میں اس کی کامیابی درجن ورلڈ کپ جیتنے پر بھاری ہونگی۔بھارت کے لئے اپنے ملک میں کورونا کے بعد انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی بہت بڑا اور مشکل مشن ہوگا کیونکہ وہاں ابھی تک کوئی ٹیم نہیں گئی،اگلے ماہ انگلینڈ نے ٹیسٹ اور محدود اوورز کی سیریز کھیلنی ہے،اگر وہ ہوگئی تو پھر بھارت اپنے ملک میں آئی پی ایل اور ورلڈ ٹی 20 کے لئے پراعتماد ہوجائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں