پاکستان فاتح ،فخر اور نواز ہیرو،گرین کیپس کی روایت برقرار،پروٹیز کی ٹوٹ گئی

رپورٹ : عمران عثمانی

پاکستان نے جنونیہ افریقا کے خلاف تاریخی کامیابی حاصل کرلی،سنچورین میں کھیلے گئے 3میچزکی سیریز کے تیسرے وفیصلہ کن میچ میں پاکستان نے پروٹیز کو رنز 28رنزسے شکست دے کر سیریز 1-2 سے جیت لی،ورلڈ کپ سپر لیگ میں یہ پاکستان کی مسلسل دوسری سیریز فتح ہے،اس طرح پاکستان نے پروٹیز کے خلاف 3میچزکی سیریز اپنے نام کرنے کی روایت برقرار رکھی جبکہ جنوبی افریقا 2015 کے بعد پہلی بار فائنل میچ میں ہارگیا،پاکستان کی فتح کا سہرا فخر زمان،محمد نواز اور حسن علی کے نام رہا،بابر اعظم نے بھی اچھا حصہ ڈالا.پروٹیز 320کے جواب میں 292پر ہتھیار پھینک گئے.

جنوبی افریقا نے 321رنزکے تعاقب میں بہتر آغاز کیا اور9اوورز میں 54رز کا اسٹینڈ لیا.پاکستان کو پہلی کامیابی شاہین آفریدی نے دلوائی،نہایت خطرناک بیٹسمین ایڈن مارکرم 18رنزبناکر وکٹ کیپر سرفراز کو کیچ دے گئے.نئے بیٹسمین جے سموٹ 17رنزبناکر عثمان قادر کے ہاتھوں کلین بولڈ ہوگئے،یہ قادر کی ڈیبیو وکٹ بھی تھی،انہوں نے اس موقع پر خوبصورت اشارہ بھی کیا.کپتان تیمبا باوو ما اوپنر جانی مین میلان کے ساتھ اسکور 127تک لے گئے،50 رنزکی یہ شراکت خطرناک بننے جارہی تھی کہ محمد نواز نے خطرناک اوپنر جانی مین میلان کو 70پر ایل بی کرکے پاکستان کو بڑی کامیابی دلوادی.اگلے کھلاڑی ایک رن کے ضافہ سے آئوٹ ہوگئے.کپتان باووما 20پر نواز کے ہاتھوں بولڈ ہوئے.ہنریک کلاسین بھی4رنزبناکر نواز کا نشانہ بنے،بلاشبہ محمد نواز نے 3بڑی وکٹیں لے کر پروٹیز کی کمر توڑ دی جو127رنز 2وکٹ سے 140رنز5وکٹ کے خسارے میں چلے گئے.چھٹی وکٹ پر فلکوایو اور ویرنن نے 108رنزکا اضافہ کرکے اسکور 248تک پہنچا دیا اور میزبان ٹیم کو ایک امید دلوادی.خطرناک بننے والے ویرنن 62رنز بناکر آئوٹ ہوئے،اہم کامیابی حارث رئوف نے دلوادی .7ویں وکٹ 251پر جب گری تو پاکستان کی فتح یقینی ہوگئی کیونکہ خطرناک کھلاڑی فلکوایو54رنزبناکر حسن علی کا شکار بن گئے،اس کے بعد پروٹیز ٹیم مقابلہ نہ کرسکی.3گیندیں قبل 292پر آئوٹ ہوگئی.پاکستان 28رنز سے جیت گیا.

پاکستان کی جانب سےمحمد نواز کامیاب بائولر رہے جنہوں نے 7 اوورز میں 34رنز دے کر 3 اور حارث رئوف نے 45رنز دے کر 2،اسی طرح شاہین نے58رنز دے کر 3 اور عثمان قادر48رنز دے کر ایک ،حسن علی نے بھی ایک وکٹ لی.

اس سے قبل جنوبی افریقا نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا،ٹیم میں سرفراز احمد،عثمان قادر،حسن علی اور محمد نواز کی واپسی ہوئی جبکہ شاداب خان تو ان فٹ ہونے کی وجہ سے باہر تھے ،ان کے علاوہ دانش عزیز،آصف علی اور محمد حسنین کو ڈراپ کیا گیا.پروٹیز ٹیم میں بھی 5 تبدیلیاں کی گئی تھیں.9کی جانے والی تبدیلیوں میں عثمان قادر ڈیبیو حاصل کرنے والے اکلوتے پلیئر تھے.

پاکستانی اننگ کا آغاز نہایت ہی پراعتماد تھا،سنچورین کی پچ،صبح کے موسم میں میزبان بائولرز زیادہ فائدہ نہ اٹھاسکے کیونکہ شاید نوکیا،نیگیڈی اور ربادا جیسے پلیئرز موجود نہ تھے.پاکستان نے امام الحق اور فخر زمان کی 112 رنزکی شراکت کی وجہ سے پر اعتماد آغاز لیا لیکن 22ویں اوور تک 112 اسکور وکٹ نہ گرنے کے باوجود سلو در سلو تھا،بہر حال یہاں پر مہاراج نے اپنی ٹیم کو پہلی کامیابی دلوادی انہوں نے 57رنزبنانے والے امام کو نشانہ بنایا جو 73 بالز کھیل کر پہلے ہی بوجھ بن رہے تھے.دوسری جانب فخر زمان گزشتہ میچ والی فارم بحال کئے ہوئے تھے،ان کا ساتھ دینے بابر اعظم آئے دونوں نے پاکستان کا اسکور36 ویں اوور میں 206تک پہنچادیا،اس موقع پر سنچری مکمل کرنے والے فخرزمان بھی مہاراج کا شکار بن گئے،انہوں نے 3چھکوں اور 9چوکوں کی مدد سے 104بالزپر 101رنزبنائے.اس کے بعد پاکستانی بیٹنگ لائن کا وہی مسئلہ شروع ہوا جو پہلے میچ سے چل رہا تھا.

محمد رضوان 2،سرفراز احمد 13،فہیم اشرف ایک اور محمد نواز 4رنزبناکر پویلین لوٹے توپاکستان نے 10 اوورز میں 51رنز کے دوران 5وکٹیں گنوادیں،یہ وہ نقصان تھا کہ جس سے 350 پلز بننے کی امیدیں دم توڑگئیں.اس تباہی کے ہیرو کیشو مہاراج تھے جنہوں نے45رنز دے کر 3 اور ایڈن مارکرم نے 48رنز دے کر 2وکٹیں لیں.ان 10 اوورز میں بابر وکٹ پر موجود تھے لیکن انہوں نے تیز اسکور نہیں کیا.وہ 48 اوورز تک بھی سلو سٹرائیک ریٹ سے کھیل رہے تھے،یہ تو بھلا ہو حسن علی کا انہوں نے 49ویں اوور میں 25 رنز بٹورے اور پاکستان نے ان کی 11بالز پر بنائی گئی 34کی ناقابل شسکست اننگ کی مدد سے 320 کا مجموعہ حاصل کرلیا.آخری اوورمیں بابر نے بھی 17رنز چرائے اور وہ آخری بال پر 94رنزبناکر آئوٹ ہوگئے .پاکستان کا اسکور 7وکٹ پر 320 تھا،بابر نے82بالز کھیلیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں