مرض بڑھتا گیا،پاکستان 10 ویں سیریز میں بھی 99 پر آئوٹ،پروٹیز پھر ناقابل شکست

عمران عثمانی
Image By thehindu
پاکستان کرکٹ ٹیم کی جنوبی افریقا کے خلاف 12 ویں ٹیسٹ سیریز شروع ہونے کو ہے،اب 24 اور 25 جنوری کے 2دن درمیان میں ہیں،نیشنل اسٹیڈیم کراچی کا میدان سج چکا ہے اور دونوں ٹیموں نے میدان میں قدم بھی رکھ دیئے ہیں،ان صفحات پر ہم کرک سین دونوں ممالک کی سابقہ سریز کا تفصیلی جائزہ پیش کر رہا ہے،اب تک 9 سیریز کا ذکر ہوچکا ہے،آج 10 ویں سیریز کا احوال پیش خد مت ہے ۔کرک سین نے یہ سلسلہ 2وجوہ کی بنیاد پر شروع کیا تھا۔پہلی وجہ یہ تھی کہ 1995 سے 2021 تک کی 26 سالہ ٹیسٹ تاریخ کل ہی کی تو بات ہے۔اس میں شریک کھلاڑی قومی ٹیم،کرکٹ بورڈ اور ڈومیسٹک کرکٹ کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں جڑے ہیں،ان کی کارکردگی اور سوچ سامنے آئے اور وہ اپنے تجربات کی روشنی میں نئے کرکٹرز کی بہتررہنمائی کریں اور دوسری وجہ یہ تھی کہ کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے فینز آگاہ ہوسکیں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم جنوبی افریقا کے خلاف پہلے دن سے کیسے کھیلی تھی۔دنیائے کرکٹ کے دیگر ممالک کے خلاف بہتر ریکارڈ رکھنے والی یہ ٹیم پروٹیز کے خلاف کیوں اتنا ناکام رہی،اس کی وجوہات جان سکیں۔اگلے مضمون کے آخر میں ان وجوہ پر بھی روشنی ڈالیں گے ،پہلے رخ کرتے ہیں 10ویں باہمی سیریز کی جانب۔
حفیظ اسٹین کے نشانہ پر،پاکستان ٹیسٹ تاریخ کے قلیل اسکور پر ڈھیر،مصباح،یونس بھی شامل
پاکستان کرکٹ ٹیم جنوبی افریقا کے خلاف مسلسل دوسری سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیل رہی تھی،اکتوبر 2013میں 2میچز کی سیریز کا پہلا میچ ابو ظہبی میں کھیلا گیا۔پروٹیز کپتان گریم اسمتھ تھے،انہوں نے ٹاس جیت کر فلیٹ وکٹ پر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا،ہاشم آملہ کی سنچری اور جے پی ڈومینی کی نصف سنچری کے باوجود پروٹیز اننگ 249پر تمام ہوئی،محمد عرفان اور ذوالفقار بابر کی 3،3 وکٹیں نمایاں کارکردگی تھی۔پاکستان نے اوپنر خرم منظور اور کپتان مصباح الحق کی سنچریز کی بدولت 442 رنزبناکر 193رنزکی سبقت لی۔پروٹیز دوسری باری میں بھی نہ سنبھل سکےاور سعید اجمل کی 4 وکٹوں ودیگر بائولرز کی عمدہ بائولنگ کے سبب صرف 232 رنزبناسکے۔پاکستان نے 40 رنزکے ہدف کے لئے بھی 3وکٹیں گنوادیں لیکن 7وکٹ کی جیت نے یہ بات پس پشت ڈالدی ۔خرم منظور بہترین کھلاڑی قرار پائے۔پاکستان کی 2006-07کی سیریز میں حاصل کی گئی ٹیسٹ فتح کے بعدپہلی سنگل کامیابی بھی تھی۔
جنوبی افریقا سیریز دبئی،کپتانی مصباح کو منتقل،دفاعی کرکٹ کی بنیاد ررکھ دی گئی
اکتوبر کے تیسرے عشرے میں دبئی ٹیسٹ پاکستان کے لئے ایک اور ڈرائونا خواب ثابت ہوا۔یہاں پاکستانی کپتان نے ٹاس جیت کر وہی فیصلہ کیا جو پہلے میچ میں پروٹیز کپتان نے کیا تھا اور پھرا س کا خمیازہ بھی بھگتا تھا،جنوبی افریقا تو پھر بھی پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں 249کر گیا تھا مگر یہ پاکستان تھا،مصباح الیون 100 اسکور بھی نہ کرسکی ،پوری ٹیم 99 پر باہرتھی اور صرف 37 ویں اوور تک کھیل سکی۔آخری 9وکٹیں صرف 61رنزکا اضافہ کرسکیں،4 صفر کے بعد ٹاپ اسکورر ذوالفقار بابر تھے جنہوں نے 25 کی اننگ کھیلی۔پاکستان کی تباہی کے مرکزی کردارلیگ اسپنر عمران طاہر تھے،پاکستانی نژاد اسپنر نے ٹیسٹ کے پہلے ہی دن32 رنز دے کر 5آئوٹ کردیئے۔اسی وکٹ پر اسی روز سے اگلے دنوں تک گریم اسمتھ نے ڈبل سنچری،اے بی ڈی ویلیئرز نے سنچری بناکر پاکستانی بیٹسمینوں کو ننگا کردیا،اسمتھ نے234 اور ڈی ویلیئرز نے 164 کئے،ٹیم 517 رنزبنانے میں کامیاب ہوئی اور اس کی برتری 418 رنزکی تھی۔سعید اجمل نے 56 واں اوور بھی قریب مکمل کرلیا تھا،151 رنزکھاکر 6آئوٹ کئے۔اسد شفیق کے 130 کے علاوہ دوسری اننگ میںمصباح نے 88 کئے،باقی سب ناکام تھے،ٹیم 326 پر باہر تھی اور اننگ و 92رنزکی شکست ماتھے کا جھومر بنی۔سیریز جیتنے کا خواب پھر بکھر گیا،نتیجہ 1-1 سے برابر ی پرمنتج ہوا۔گریم اسمتھ میچ اور ڈی ویلئئرز سیریز کا ایوارڈ لے اڑے۔
پاکستان ایک اور سیریزمیں ناکام ہی رہا۔سیریز کا فاتحانہ آغاز،اس کے بعد ناکامی،بدحواسی اور بیٹنگ لائن کی تباہ کاری پھر پاکستان کو لے ڈوبی،کپتان بھی گزشتہ سیریز والے تھے،سیریز بھی ہوم بنیاد پر تھی،گرائونڈز وپچ کی تیاری بھی اپنے ہاتھ میں تھی لیکن کچھ نہ بدل سکا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں