پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقا ،تاریخ کاپہلا ٹیسٹ کون جیتا،دونوں کپتان عبرت کا نشان کیسے بنے

عمران عثمانی
Image By cricketcountry/Getty Images
جنوبی افریقا کرکٹ ٹیم پاکستانی سر زمین پر لینڈ کرچکی ہے۔2ٹیسٹ میچز کی سیریز 26 جنوری سے شروع ہوگی۔2007 کے بعد پروٹیز کا یہ پہلا پاکستانی دورہ ہے۔پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ بحالی کی جانب حقیقی اور فیصلہ کن قدم بھی ہے۔
پاکستان اور جنوبی افریقا کی ٹیسٹ تاریخ کے حوالہ سے ایک مفصل تجزیہ پہلے دیا جاچکا ہے،آج سے ہم اب تک کھیلی گئی 11 سیریز کا مختصر جائزہ لیں گے۔
انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے بعد ہی جنوبی افریقا کا پاکستان کے ساتھ ٹیسٹ سفر کا آغاز ہوا۔1995 میں پہلی بار قومی ٹیم نے پروٹیز کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔18جنوری سے جوہانسبرگ میں میچ شروع ہوا۔ہنسی کرونئے اور سلیم ملک کپتان تھے،یقینی طور پر آپ چونکے ہونگے۔
پڑھتا جا،شرماتا جا،پاکستان کا سب سے خراب ترین ٹیسٹ ریکارڈ جنوبی افریقا کے خلاف،سابق کرکٹرز کے لئےخاص
کیا ہی اتفاق ہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقا ٹیسٹ کی تاریخ کی کتاب جب بھی کھولی جائے گی اور جب بھی اس کا مطالعہ شروع کیا جائے گا تو مکمل معلومات رکھنے والا ششدر رہ جائےگا۔کون جانتا تھا کہ دونوں ممالک کی ٹیسٹ کتاب کے پہلے باب کاحصہ بننے والے کپتان بعد میں ہمیشہ کے لئے خود سے ایک کتاب بن جائیں گے۔ہنسی کرونئے میچ فکسنگ میں سزا پاگئے اور پھر ایک طیارے کے حادثہ میں چل بسے،سلیم ملک بھی ایسے ہی الزامات کے تحت معطل ہوگئے اور اب 58 بر س کی عمر میں کلین چٹ لینے کے لئے کوشاں ہیں۔
بہر حال ہم چلتے ہیں دونوں ممالک کے جوہانسبرگ ٹیسٹ کی طرف۔کرونئے نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔جنوبی افریقا نے پہلے دن پاکستانی بائولرز کے غبارے سے ہوا نکال دی اور 7وکٹ پر 354 رنزبنائے۔اگلے روز ٹیم 460رنز بناکر آئوٹ ہوئی،برائن میک ملن نے 113،جونٹی رہوڈز نے 72 اور فائن ڈی ویلیئرز نے 66کی اننگز کھیلیں۔
جنوبی افریقا کرکٹ ٹیم کا کراچی میں کووڈ ٹیسٹ،کل سے ٹریننگ،خواتین ٹیم کوروناسے کلیئر
پاکستانی بائولنگ اٹیک میں کون تھا۔وسیم اکرم جنہوں نے 36 اوورز میں 113رنز دیئے اور 2وکٹ لے سکے۔عاقب جاوید نے 30 اوورز کئے اور102 رنز دے کر 3وکٹ لے سکے۔کبیر خان نے 19 اوورز میں 60 رنز دے کر 2اور عامر نذیر نے 13 اوورز میں 67رنز دے کے 2وکٹیں لیں،عامر سہیل نے 14 اوورز کئے،47رنزدیئے اور ایک وکٹ لی۔خود سلیم ملک نے 8اوورز میں49 رنزکھائے۔64 رنز ایکسٹراز کے دیئے گئے،اندازا کریں کہ 64 فالتو رنزکے ساتھ آخری وکٹ پر 71 رنزبھی بنوائے گئے۔
پاکستان نے 44پر 3وکٹ گنوادیئے۔سعید انور 2،آصف مجتبیٰ صفر اورعامر سہیل 23 رنزبناکر آئوٹ ہوگئے،ایک اینڈ سے سلیم ملک ڈٹے ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود ان کے ساتھ کھڑا ہونے کو کوئی تیار نہ ہوا،نامی گرامی بیٹسمین اعجاز احمد اور انضمام الحق 19،19 اورمعین خان 9رنزبناکر پویلین جا پہنچے۔وسیم اکرم نے 41 رنزبناکر پاکستان کی کچھ عزت بچائی لیکن ان کے آئوٹ ہونے کے بعد پاکستان کی اننگ 230پر تھم گئی،سلیم ملک نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے اور 99پر شکار ہوگئے۔فائن ڈی ویلیئرز کو پاکستانی ٹیم نے ہیروبنادیا،81رنزکے عوض6وکٹیں لیں۔جنوبی افریقا پاکستان کو فالوآن کرنے کے بعد بھی خود کھیلا اور 7وکٹ پر 259کرکر اننگ کلیئر کی،وسیم اکرم اور عاقب جاوید 2،2وکٹ لے سکے۔پاکستان کے لئے 490رنزکا مشکل ترین ہدف سیٹ کیا جاچکا تھا۔ٹیم نے ذرا بھی مزاحمت نہیں دکھائی،وہ بیماری جس کا رونا آج بھی رویا جاتا ے،وہ تب بھی تھی ،کسی نے وکٹ پر رکنے یا آگے بڑھ کر اٹیکنگ اننگ نہیں کھیلی،گرین کیپس 70 اوورز کھیل گئے۔اڑھائی سے بھی کم کی اوسط سے بلے بازی کی اور تمام کھلاڑی 165 پر آئوٹ ہوکر پہلی ناکامی درج کرواگئے۔انضمام الحق 95 اور آصف مجتبیٰ26رنزکے ساتھ نمایاں رہے،فائن ڈی ویلیئرز نے پھر 4آئوٹ کئے،10وکٹ کے ساتھ مین آف دی میچ رہے جنوبی افریقا نے 324رنزکے بڑے مارجن سے پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میںپہلی کامیابی کو گلے لگا لیا۔
پاکستانی اسکواڈ میں لیجنڈری اوپنر عامر سہیل اور سعید انور تھے،دونوں دونوں اننگزمیں ناکام گئے۔آصف مجتبیٰ صفر اور 26کی باری کھیل سکے،سلیم ملک اور انضمام ایک ایک اننگ میں ایسا چلے کہ ایک میں ایک کامیاب تو دوسرا ناکام،مطلب پاکستان کوکوئی فائدہ نہ ہوا۔معین خان بھی دونوں باری میں فلاپ رہے۔
بائولنگ کا حال بھی ایسا ہی رہا،وسیم اکرم نے میچ میں 166رنز دے کر 4 وکٹیں لیں،عاقب جاوید نے 185رنزکھاکر 5 اورعامر نذیر وکبیر خان بھی مار زیادہ ہی کھاتے رہے۔
جنوری 1995 میں پہلا ٹیسٹ کھیلا گیا،اتفاق سے دونوں ممالک کی یہ پہلی سیریز اکلوتے ٹیسٹ پر تھی جو جنوبی افریقا نے جیت لی۔نامی گرامی نام عامر سہیل،سعید انور،آصف مجتبیٰ،سلیم ملک،انضمام،اعجاز،معین اور وسیم اکرم کے ہوتے ہوئے ایک تجربہ کار ٹیم اپنے سے کم قد رکھنے اور اپنے سے تجربہ والی ٹیم سے کیسے ہارگئے اور ہارے بھی اتنا خوفناک انداز میں کہ اس کی مثال ہی نہیں ملتی۔
26 سال بعد اسی جنوری کے ماہ میں ایک بار پھر دونوں ممالک ٹیسٹ کھیلنے والے ہیں،یہ 27 وں ٹیسٹ ہوگا،پاکستان میں 14 سال بعد پروٹیز کی آمد بھی کچھ ایسے ہی ہے کہ جیسے 26 سال پہلے پاکستان جنوبی افریقا میں ٹیسٹ کھیل رہا تھا،دیکھنا ہوگا کہ ایک جیسی مشابہت رکھنے والا وقت یا مثال ایک جیسا نتیجہ ہی مرتب کرواتی ہے یا پاکستان کچھ نیا رقم کرجائے گا۔