پاکستان کا دورہ زمبابوے،آخری ٹیسٹ سیریز میں رسوائی،مصباح اور یونس کو پھر خوف

خصوصی رپورٹ:عمران عثمانی

پاکستان اور زمبابوے کرکٹ تاریخ کے انوکھے کردار اس وقت بھی اتفاق سے قومی کیمپ میں موجود ہیں. نوعیت اور عہدے بدل گئے لیکن سوچ اور عادت کبھی بھی بدل سکتی نہیں ہے.

کرک سین نے آج علی الصبح پاک زمبابوے سیریز کے تناظر میں ایک سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پہلا آرٹیکل شائع کیا تھا .اسی سلسلے سے جڑتے ہوئے یہ دوسرا مگر اہم ترین مضمون پیش خدمت ہے.

ٹیسٹ سیریز،زمبابوے کا پاکستان کے خلاف وہ ریکارڈ جو کسی بڑے ملک کے خلاف نہیں،بابر اعظم پریشان ؟

یہ پاکستان اور زمبابوے کی اب تک کھیلی گئی 8 ویں و آخری سیریز کا ذکر ہے جب مصباح الحق پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے. پاکستان کی ٹیم ان کی قیادت میں 2 میچز کی سیریز کھیلنے ہرارے آئی تھی. ستمبر 2013 میں پہلا ٹیسٹ تھا. پاکستان پہلی اننگ کی حد تک ہارگیا تھا کیونکہ گرین کیپس 249 پر ڈھیر ہوگئے تھے اور زمبابوے نے 327 رنز بناکر 78 اسکور کی سبقت لی تھی. اظہر علی نے 78 ،یونس خان نے 3 اور مصباح نے 53 اسکور کئے.زمبابوے کی 10 وکٹ میں سے 7 سعید اجمل نے لی تھیں اور اس کے لئے انہوں نے 95 اسکور دیئے .پاکستان پہلی اننگ میں خسارے میں تھا اورمحمد حفیظ سمیت 3 کھلاڑی 23 پر پویلین لوٹ گئے تھے. یونس کے ساتھ مصباح نے ہمت دکھائی اور اسکور 139 تک لے گئے. یہاں مصباح الحق 52 رنز بناکر چلتے بنے تو اسد شفیق پہلی اننگ کی طرح جلد چلے گئے .عدنان اکمل نے 64 رنز بناکر یونس کا بھر پور ساتھ دیا لیکن آخری وکٹ پر راحت علی کے ناقابل شکست 35 رنز نے یونس کی ڈبل سنچری مکمل کروانے میں اہم کردار ادا کیا .یونس 200 اور راحت 35 پر ناقابل شکست آئے. آخری وکٹ پر ناقابل یقین 88 اسکور بنے. پاکستان نے 419 رنز 9 وکٹ پر اننگ ختم کرکے زمبابوے کو جیت کے لئے 342 رنز کا ہدف دیا.میزبان ٹیم عبد الرحمن اور سعید اجمل کی 4،وکٹوں کی وجہ سے 120 پر آئوٹ ہوگئی. پاکستان 221 رنز سے جیتا. یونس خان میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے.

اس میچ نے 2 باتیں واضح کیں کہ پاکستان کا ٹاپ آرڈر دونوں اننگز میں ناکام گیا.میزبان بیٹسمین اسپنرز کے آگے بے بس رہے کہ سعید اجمل نے میچ میں 11 اور عبد الرحمن نے 4 وکٹیں لیں.

10 ستمبر 2013 کو دوسرا ٹیسٹ پھر ہرارے میں تھا .اس بار میزبان سائیڈ کی پہلی باری تھی اور وہ294 اسکور کرگئی. جنید خان نے 4 اور عبد الرحمن نے 3 آئوٹ کئے .پاکستان پہلے ٹیسٹ کی طرح دوسرے میں بھی پہلی اننگ کی حد تک پھر ہارگیا کیونکہ اس کی اننگ 230 پر تمام ہوگئی. یونس خان نے 77،خرم منظور نے 51 اور مصباح نے 33 رنز کئے. پاکستانی بائولرز نے کم بیک کرکے زمبابوے کو 199 پر چلتا کردیا.اس بار راحت نے 5 وکٹیں لیں.

پاکستان کو 264 رنز کا ہدف ملا تھا .100 پر 4 وکٹیں گری تھیں. چوتھے روز کے اختتام پر پاکستان کا 5 وکٹ پر 158 اسکور تھا .آخری روز مصباح الحق 79 پر ناقابل شکست تھے مگر ساتھ کوئی نہ تھا پاکستان ٹیم 239 پر آئوٹ ہوگئی اور 24 رنز سے میچ ہارگئی. سیریز بھی 1-1 سے برابر ہوگئی .زمبابوے 24 رنز سے جیت گیا تھا. اظہر علی 7 اور صفر پر گئے تھے.

یہ پاکستان کی زمبابوے میں کھیلی گئی اب تک کی آخری سیریز کا احوال ہے. جہاں اوپنرز خرم منظور اور محمد حفیظ کی کارکردگی میں تسلسل تھا نہ جہاں ایک یونٹ کے طور پر ٹیم کی گرفت تھی اور نہ کپتان کو اپر ہینڈ تھا .دونوں میچز کی پہلی اننگ میں پاکستان خسارے میں تھا اور دوسری اننگ میں بھی اگر ایک یونس نہ چلتے تو کہانی برابر تھی لیکن زمبابوے نے دونوں میچ کے اکثر دن کھیل اپنے کنٹرول میں رکھا .

مصباح آج ہیڈ کوچ اور یونس بیٹنگ کوچ ہیں اور اظہر علی بھی موجود ہیں. ان تینوں کے ذہن میں آخری سیریز کا خوف موجود ہوگا. میزبان ٹیم اس وقت بھی کوئی اتنی تگڑی نہ تھی کہ ہم آج لی سائیڈ کو کمزور سمجھیں. آج کی زمبابوے ٹیم پاکستان کو ٹی 20 ہراچکی ہے.