پاکستان جنوبی افریقا کے سامنے سرنڈر

عمران عثمانی
Image by rekordeast.co.za
پاکستان اور جنوبی افریقا کی ٹیموں کے درمیان تاریخ کی 12 ویں ٹیسٹ سیریز منگل 26جنوری 2021 سے کراچی میں شروع ہورہی ہے۔اب تک کھیلی گئی 11 سیریز میں سے 10 کا احوال مختلف اقساط میں یہاں کرک سین پرپیش کیا جاچکا ہے،اس مضمون میں 11ویں اور آخری سیریز کاپوسٹ مارٹم کیا جارہا ہے۔
2018 کے آخر میں گرین کیپس 3 ٹیسٹ میچز کے لئے انگلینڈ پہنچے،محدود اوورز کی سیریز بھی تھی کیونکہ ورلڈ کپ 2019 قریب تھا۔3میچزکی سیریز کے لئے اس وقت کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے ٹیم منتخب کی ۔سرفراز احمد اور فاف ڈو پلیسی قیادت کر رہے تھے۔26 دسمبر سے سنچورین میں باکسنگ ڈے ٹیسٹ شروع ہوا۔پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی اور ٹیم کی پہنچ 181 تک ہی ہوسکی۔امام الحق صفر،فخرزمان 12،شان مسعود 19،اظہر علی 36،اسد شفیق 7رنزبناسکے،اکیلے بابر اعظم نے 71رنزکئے۔کپتان سرفراز احمد کا صفر اور حسن علی کے 21رنز بھی تھے۔اولیور نے 37رنز دے کر 6آئوٹ کئے۔جنوبی افریقا کی اننگ بھی زیادہ لمبی نہ چل سکی،عامر اورشاہین کی 4،4 وکٹوں کی وجہ سے 223 تک محدود رہی۔یہاں تک صرف 42 رنزکا خسارہ تھا۔دوسری اننگ میں تھوڑی ذمہ داری کی ضرورت تھی لیکن سرفراز الیون کا کیا کریں ،اس کو 44 کا آغاز بھی مل گیا تھا۔101پر ایک ہی کھلاڑی آئوٹ تھا کہ اگلے ایک سیشن یعنی 26 اوورز میں باقی تمام 9وکٹیں اسکور میں صرف89 رنزکے اضافہ کے ساتھ گر گئیں۔امام کے 57 اور شان مسعود کے 65 رنز رائیگاں جاتے دکھائی دیئے،فخر کی سوئی پھر 12 پر اڑگئی۔کپتان سرفراز کو پھر صفر کا چسکا اٹھانا پڑا،ساتھ ہی اظہر علی بھی کھاتہ کھولے بنا گئے۔بابر اور اسد شفیق 6،6 کرسکے،گرین کیپس 190پر باہر تھے،ہیرو پھر اولیور تھے۔
مرض بڑھتا گیا،پاکستان 10 ویں سیریز میں بھی 99 پر آئوٹ،پروٹیز پھر ناقابل شکست59رنزدے کر 5آئوٹ کر گئے۔میچ میں 96 رنزکے عوض 11 شکار ان کے لئے گولڈن پرفارمنس کا درجہ اختیار کرگئے،جنوبی افریقا 4وکٹ پر 151رنزکر کے میچ جیت گیا،سیریز میں برتری بھی حاصل کر لی۔میچ 3دن میں ختم تھا۔
کیپ ٹائون میں 3جنوری کوپاکستان کو دعوت ملنے پر بیٹنگ کرنی پڑی اور ٹیم نے پہلے میچ کی کارکردگی کا تسلسل جاری رکھا،52ویں اوور میں شاہین177پر باہر تھے۔امام 8،فخر ایک،شان 44،اظہر 2،اسد 20،بابر اعظم 2 رنز کرسکے،سرفراز نے56کی اننگ کھیلی،اولیور نے پھر 4کھلاڑی آئوٹ کردیئے۔پروٹیز نے اس بار دوسرا موقع بھی نہ دیا اور فاف ڈو پلیسی کی سنچری کی مدد سے 431رنزبناکرسبقت لے لی۔شان مسعود کے 61،اسد شفیق کے 88 اوربابر کے 72رنزکی مدد سے پاکستان 294 رنزکر کے اننگ کی شکست کو ٹال گیا۔باقی بیٹسمین ناکام رہے۔پروٹیز نے 43 کا ہدف ایک وکٹ پر حاصل کرکے سیریز اپنے نام کرلی۔
جوہانسبرگ ٹیسٹ بھی جنوبی افریقا نے107رنز سے جیت کر پاکستان کو کلین سویپ کردیا۔پروٹیز کے 262 اور 303 رنز اس لئے بھاری تھے کہ پاکستان مسلسل تیسرے ٹیسٹ میں 200سے کم پر جانے کی روایت پر قائم تھا،اسکور185 اور 273 رہا۔پاکستان کی یہ 11سیریز میں 7ویں شکست تھی،اکلوتی فتح کے ساتھ 3سیریز ڈرا کھیلی گئیں۔کوئی بیٹسمین تسلسل کے ساتھ اسکور کرسکا اور نہ کوئی بائولر مسلسل آئوٹ کرپایا۔
کرک سین اپنے اگلے تجزیے میں ان 11 سیریز کا مکمل نچوڑ اور کھلاڑیوں کی انفرادی و مجموعی پرفارمنس کے ساتھ وہ وجوہات بیان کرے گا کہ خرابی کہاں تھی اور مرض کیا تھا اور مریض کیوں بنے رہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں