پاکستان 47 سال سے انگلینڈ میں ناکام،اس بار کیانیا،بابر اعظم کے پاس کیوں سنہری موقع

0 9

ہم جب یہ بات کرتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم انگلینڈ میں مسلسل چھٹے سال کرکٹ کھیل رہی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ ہمارا ریکارڈ،ہماری مانگ اور ہماری  پاکستان 47 سال سے انگلینڈ , چاہت ہی بہت زیادہ ہے ،پرفارمنس اعلیٰ ہی ہےتو انگلینڈ کرکٹ بورڈ اپنے ملک میں پاکستان کو کھلاتا ہے اور اپنی عوام کی تفریح کا سامان کرتا ہے،واقعہ میں جواب تو یہی بنتا ہے لیکن چونکہ کرکٹ کے مختلف فارمیٹ ہیں،سو نتائج بھی مختلف ہیں،اس لئے 100 فیصد یہ بات درست نہیں ہے.انگلینڈ میں چونکہ طویل فارمیٹ کے کھیل کی چاہت زیادہ ہے،ٹیسٹ میچز میں گرائونڈ فل پیک ہوتے ہیں،تماشائیوں کا جوش بھی عروج پر ہوتا ہے،پاکستان کا اس فارمیٹ میں بہر حال ریکارڈ بھی بہتر ہے اور کسی بھی ایشین ٹیم سے اعلیٰ ہے لیکن اس بار قومی ٹیم محدود اوورز سیریز کے لئے انگلینڈ موجود ہے اور 50اوورز کے ساتھ 20اوورز کرکٹ کے 3،3میچزکھیلے جائیں گے،دیکھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا انگلینڈ میں میزبان ٹیم کے خلاف ایک روزہ کرکٹ کا ریکارڈ کیسا ہے اور کیا گرین کیپس انگلش وکٹوں پر اتنے سخت حریف ثابت ہوتے آئے ہیں کہ انگلش ٹیم کو ٹف ٹائم دے سکے.
نہایت افسوس کے ساتھ
نہایت افسوس کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ انگلینڈ میں پاکستان ٹیم کی ایک روزہ پرفارمنس نہایت ہی مایوس کن بلکہ افسوسناک ہے،کسی طرح بھی یاد کئے جانے کے قابل نہیں ہے،ریکارڈ کی خرابی کے ساتھ انگلش اسکواڈ کے سامنے آنے والے 16 رکنی ممبرز کو دیکھ کر کیا امید کی جاسکتی ہے کہ گرین کیپس اس بار نئی تاریخ رقم کرسکیں گے؟بابر اعظم وہ کچھ کرسکیں گے جو عمران خان،جاوید میاں داد،وسیم اکرم،وقار یونس،انضمام الحق،مصباح الحق اور سرفراز احمد بھی نہ کرسکے،کرکٹ فینز اور اعدادوشمار کے شوقین حضرات یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ پاکستان انگلش سرزمین پر 47 سال سےایک بھی ون ڈے سیریز ہی نہیں جیت سکا ہے،پے درپے شکستیں اور ناکامیاں مقدر بنی ہیں،اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ پاکستان انگلینڈ میں نصف صدی کے قریب کے عرصہ میں واحد ایک روزہ سیریز ہی جیت سکا ہے تو اتنے خراب ریکارڈ اور اتنے ناکامی والے ٹریک پر کامیابی کیوںکر ممکن ہوگی .بابر اعظم عجب امتحان میں پھنسیں گے،انہیں وہ کام کرنا ہوگا جو 47 سال سے کسی نے نہیں کیا.
تمام سیریز کا اجمالی جائزہ
ذیل میں ہم پاکستان کی انگلینڈ میں کھیلی گئی تمام سیریز کا اجمالی جائزہ لیتے ہیں اور ساتھ میں نتائج بھی دیں گے.ان سیریز میں مجموعی طور پر 48 ون ڈے میچز کھیلے گئے،ان میں دیگر ایونٹس کے میچ بھی ہیں،پاکستان کو صرف 16 فتوحات ملیں اور 30 ناکامیاں مقدر بنیں،2میچز کا نتیجہ نہیں نکلا.اگست 1974 میں پاکستان نے انگلینڈ میں پہلی باہمی ون ڈے سیریز کھیلی،2میچز کی یہ سیریز پاکستان نے 0-2سے جیت کر شاندار شروعات کیں.
پاکستان نے عمران خان کی قیادت میں 1987 میں 3 ایک روزہ میچزکی سیریزکھیلی لیکن پاکستان1-2 سے ہارگیا،اس دورے میں ٹیسٹ سیریز جیتی تھی.انگلینڈ میں پاکستان پہلی بار ٹیسٹ ٹرافی کا حقدار قرار پایا تھا.
مئی 1978 میں پاکستانی ٹیم انگلینڈ گئی تو میزبان ٹیم نے بدلہ لے لیا اور 2میچزکی سیریز 0-2 سے جیت لی.
جولائی 1982میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نےپھر 2میچزکی سیریز کھیلی اور اسے 0-2 سے شکست ہوگئی.
پاکستان کو 1992کے دورہ انگلینڈ میں جاوید میاں داد کی قیادت میں 5میچزکی سیریز میں 1-4کی بڑی شکست ہوئی،حالانکہ پاکستان تازہ تازہ ورلڈ چیمپئن بنا تھا اور ورلڈ کپ جیتنے کے بعد پہلی سیریز کھیل رہا تھا،اس نے انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز 1-2 سے جیت لی تھی.پاکستان کو 1996 کے دورہ انگلینڈ میں بھی 3میچزکی سیریز میں 1-2 سے شکست ہوگئی،وسیم اکرم کپتانی کر رہے تھے.جون 2003میں پاکستان نے انگلینڈ میں 3ایک روزہ میچزکی سیریز کھیلی اور اسے ایک بار پھر1-2 سے شکست ہوگئی،پاکستان تاریخ بدلنے میں ناکام رہا.
2006 میں پاکستان نے انضمام الحق کی قیادت میں 5 میچزکی سیریز 2-2سے ڈرا کھیلی،ٹیم شکست سے بچ گئی لیکن ٹرافی بھی جیت نہیں سکی.
2010میں کھیلی گئی 5میچزکی سیریز میں پاکستان نے سخت مقابلہ کیا لیکن اسے 2-3 سے شکست ہوگئی،گویا پاکستان پھر ہار گیا.
پاکستان نے 2016میں 5میچزکی سیریز میں 1-4 سے ناکامی اپنے گلے کا ہاربنائی.یہ بھی بد ترین کارکردگی تھی.
پاکستان نے انگلینڈ میں انگلینڈ کے خلاف اب تک کی آخری باہمی سیریز کھیلی اور 5میچزکی سیریز میں اسے تاریخ کی بدترین شکست یوں ہوئی کہ ٹیم اس سیریز کا ایک میچ بھی نہیں جیت سکی،4میچز ہاری جبکہ ایک میچ بارش کی نذر ہوگیا. 
پاکستان پست
آپ نے یہ تمام اعدادوشمار دیکھ لئے اور اس سے علم ہوا کہ پاکستان نے انگلینڈ میں انگلینڈ کے خلاف 10 باہمی ون ڈے سیریز کھیلی ہیں.ایک میں اسے فتح ملی جبکہ پاکستان ایک سیریز میں شکست سے بچ سکا،سیریز ڈرا کھیلی گئی جب کہ 8میں اسے ناکامی ہوگئی ،یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ پاکستان صرف انگلینڈ میں ہی ناکام نہیں رہا بلکہ اپنے ملک یا متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی 8 سیریز میں بھی پیچھے ہی رہا ہے،2 میں کامیاب ہوا،5میں ہارا،ایک ڈرا کرسکا،اس طرح ہوم گرائونڈ ہوں یا انگلینڈ کے،پاکستان پیچھے ہے. 
ورلڈ کپ سپر لیگ کی سیریز بھی
2021 میں پاکستان انگلش سر زمین پر مجموعی طور پر 11ویں سیریز کھیل رہا ہے،انگلینڈ نے اپنے جو 16 کھلاڑی فائنل کئے ہیں،ان میں بین سٹوکس جیسے کھلاڑی نہیں ہیں بلکہ سری لنکا کے خلاف کھیلنے والی حالیہ سیریز کے پلیئرز برقرار رکھے گئے ہیں،اس ٹیم میں ایک پرابلم ہوسکتی ہے کہ ٹاپ آردڑ پر پاکستان بڑا شگاف ڈال دے،نتیجہ میں انگلش بیٹنگ لائن دفاعی پوزیشن پر جائے گی تو بڑے ٹوٹل کو سیٹ نہیں کرسکے گی،اس اعتبار سے گرین کیپس کامیاب ہوسکتے ہیں .دوسرا پاکستان کا اپنا مڈل آرڈر زیادہ اچھا نہیں ہے،ٹاپ آرڈر کے بیٹسمین اگر انگلش وکٹوں پر ناکام گئے تو ٹیم شاید 50 اوورز بھی پورے نہ کھیل سکے،اتفاق سے یہ ورلڈ کپ سپر لیگ کی سیریز بھی ہے،اس لئے بھی اہم ہے کہ فتح پوائنٹس کے حصول کا سبب ہے اور ناکامی ٹیموں میں نیچے جانے کا ذریعہ بن سکت ہے.پاکستان کو ایک فائدہ اور بھی ہوگا کہ ڈیوڈ میلان اس سیریز میں نہیں ہونگے،وہ خاصے سخت جاں اور جارح مزاج پلیئر ہیں. 
انگلینڈ اس وقت ورلڈ چیمپئن بھی ہے اور اسے اپنی فال سٹرینتھ کا ساتھ بھی نہیں ہے،بابر اعظم الیون کوشش کرکے 47 سالہ تاریخ بدل سکتی ہے لیکن یہ آسان بھی نہیں ہے،اس کے لئے سخت محنت کی ضرورت ہوگی،پاکستان اگر اپنی حتمی الیون کو معتدل کر لے اور بابر اعظم تسلسل کے ساتھ 2 لمبی اننگ کھیل گئے تو واقعی تاریخ بدل سکتی ہے،ورنہ جاری کرکٹ ہسٹری میں ایک اور شکست درج ہوجائےگی.

Leave A Reply

Your email address will not be published.