خسارے کے باوجودپاکستان ون ڈے سیریز کیوں جیت سکتا،کووڈ رپورٹ بھی آگئی

تجزیاتی رپورٹ :عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ ٹیم اتوار 28 مارچ سے ےجنوبی افریقا میں ٹریننگ کا آغاز کر رہی ہے.جمعہ 26 مارچ کو جوہانسبرگ میں لینڈ کرنے والی ٹیم کے لئے آج کا دن بھاری رہا.بظاہر کمروں میں بند تھے،آرام تھا.کہیں آنا ،جانا بھی نہ تھا لیکن جنوبی افریقا میں اترنے کے بعد ہونے والی پہلی کووڈ رلورٹ کا انتظار تھا جو نتیجہ کے اعتبار سے مفید رہا.ہفتہ کی شام آنے والی رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقا میں موجود قومی اسکواڈ میں شامل تمام 34 ارکان کی کوویڈ 19 ٹیسٹ رپورٹ منفی آگئی ہے .
اس اچھی خبر کے بعد قومی ٹیم سپر اسپورٹس پارک سینچورین میں اپنی ٹریننگ کا آغاز کل اتوار کو کرے گی.ٹیم نے 2 اپریل سے ایک روزہ سیریز کھیلنی ہے .3 میچز کی سیریز آئی سی سی ورلڈ کپ سپر لیگ کا حصہ ہے.

دونوں ممالک کی ایک روزہ تاریخ دیکھی جائے تو پروٹیز کا غلبہ ہے.میچز دیکھ لیں تو 79 بار آمنا سامنا کرنے والی سائیڈز میں پروٹیز فتوحات کی مکمل ففٹی کے ساتھ بہت آگے ہیں اور پاکستان کے حصہ میں صرف 28 بار کامیابی آئی.اس میں مختلف ایونٹس کے میچز بھی شامل ہیں .باہمی سیریز کا جائزہ لیا جائے تو خسارہ ہی خسارہ ہے.پاکستان اور جنوبی افریقا کا 9 باہمی ون ڈے سیریز میں ٹاکرا ہوا.پاکستان اکلوتی سیریز ہی جیت سکا.8 سیریز کی ٹرافی پروٹیز کے حصہ میں آئی.دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان نے واحد سیریز 2013-14 کے سیزن میں جنوبی افریقا میں جیتی تھی. دوسرا اتفاق یہ ہے کہ یہ سیریز مصباح الحق کی قیادت میں کھیلی تھی جو اس وقت بھی ہیڈ کوچ کے طور پر کیمپ کا حصہ ہیں اور تیسرا عجب اتفاق یہ ہے کہ یہ سیریز 3 میچز کی تھی جو پاکستان کے حصہ میں آئی.اس سے قبل اور اس کے بعد کی تمام 8 باہمی سیریز 5 میچز پر مشتمل تھیں. گویا پاکستان 5 میچز اور جنوبی افریقا 3 میچز کی سیریز کا چیمپئن کبھی بھی نہیں بن سکا ہے اور اس بار اتفاق سے 3 میچز کی ہی سیریز ہوگی.

ایک اور عجب اتفاق بھی چلا آرہا ہے کہ کوئی ملک دوسرے کو وائٹ واش نہیں کرسکا.گرین کیپس اور پروٹیز میں ہمیشہ کانٹے کا مقابلہ ہوا اور ہر سیریز میں فتح ٹیم کے حصہ میں ضرور آئی.بعض سیریز فائنل میچ تک گئیں.8میں سے 6 سیریز اتنی کلوز رہیں کہ 3.2 سے جنوبی افریقا جیتا.اسی طرح پاکستان بھی واحد سیریز 2.1 سے جیت سکا تھا.

دونوں ممالک میں آخری بار لارڈز میں ورلڈ کپ 2019 کا مقابلہ ہوا جو پاکستان 49 رنز سے جیتا تھا لیکن اسی سال کے شروع میں پروٹیز اپنے ملک میں اب تک کی کھیلی گئی آخری ایک روزہ سیریز3.2 سے جیت گئے تھے. جنوبی افریقا کا پاکستان کے خلاف بڑا ٹوٹل 6 وکٹ پر 392 رنز کا ہے جو 2007 میں سنچورین میں بنایا گیا جبکہ پاکستان نے بھی اسی سال ،اسی سیریز میں ڈربن میں 4 وکٹ پر 351 رنز جوڑ کر بڑا ہدف سیٹ کیا تھا.

ایک روزہ میچز اور سیریز میں پاکستان بہت پیچھے ہے اس لئے بابر اعظم الیون کے پاس اس سال اس برے ریکارڈ سے دامن چھڑوانے کا سنہری موقع موجود ہے.پاکستانی ٹیم کل دوپہر کو جنوبی افریقا میں پہلی ٹریننگ کرے گی.