بھارت انگلینڈ ٹیسٹ سیریز میں کوہلی الیون پر پاکستان سوار ہوگیا،دلچسپ رپورٹ

0 22

تجزیہ : عمران عثمانی
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2 کی وسل بجنے کو ہے،پہلی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا زیادہ ترحصہ کوروناکی نزر ہونے کے باوجود آئی سی سی اسے اس سال مکمل کروانے میں کامیاب ہوگیا جب جون میں نیوزی لینڈ نے بھارت کوہرا کر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا.دوسری ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا آغاز اب ہونے کو ہے جب 4 اگست سے بھارت اور انگلینڈ 5 میچزکی سیریزکے پہلے ٹیسٹ میچ کے لئے ناٹنگھم میں مدمقابل ہونگے.دنیائے کرکٹ میں ایک عرصہ سے بھارت ٹیسٹ رینکنگ میں راج کر رہا ہے،چیمپئن شپ کا فائنل بھی کھیلا ہے تو اس اعتبار سے انگلینڈکو ہوم گرائونڈ میں بڑے چیلنج کا سامنا ہونا چاہئے اور کرکٹ فینز بھی ایک دلچسپ اور سنسنی خیز ٹیسٹ سیریز کی توقع کرتے ہیں ،اس لئے بھی کہ انگلینڈ میں جیتنا آسان نہیں ہوتا اور اس لئے بھی کہ خود انگلش ٹیم بھی طویل فارمیٹ کی ٹاپ ٹیموں میں سے ایک ہے.سوال یہ ہے کہ کیا بھارتی ٹیم انگلینڈ کو ٹف ٹائم دے سکے گی؟وہاں ٹیسٹ سیریز جیت سکے گی.تمام غیر ملکی ٹیموں کو انگلش کنڈیشنز میں کھیلنے میں مشکلات ہی پیش آتی ہیں اور ایشیائی ٹیموں کو کچھ زیادہ ہی تو کیا بھارت اپنے موجودہ سٹیٹس کے مطابق انگلینڈ کا درست سامنا کرسکے گا؟
یہ سوال نہایت ہی اہم ہے،تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو بھارت کا انگلینڈ میں ٹیسٹ ریکارڈ نہایت ہی بد ترین ہے،اس سے تو کہیں بہتر پاکستان کا ریکارڈ ہے کہ اس نے انگلینڈ کو انگلینڈ میں ہمیشہ ناکوں چنے چبانے پر مجبور کیا ہے،اس کے مقابلہ میں بھارت انگلیند کے لئے حلوہ ثابت ہوا ہے،یہ نئے پڑھنے والوں کے لئے ناقابل یقین بات ہوگی لیکن بھارت انگلینڈ کی ٹیسٹ تاریخ یہی کچھ بتاتی ہے کہ بھارت انگلینڈ میں ناکام اور پاکستان کہیں زیادہ کامیاب رہا ہے.
انگلینڈ اور بھارت کےمجموعی ٹیسٹ میچزکا جائزہ
سب سے قبل انگلینڈ اور بھارت کے مجموعی ٹیسٹ میچزکا جائزہ لیا جائے تو اس میں انگلینڈ کو واضح سبقت حاصل ہے.اب تک کھیلے گئے126 میچزمیں سے انگلینڈ نے 48 میچ جیتے،بھارت کے حصہ میں 29 فتوحات آئی ہیں اور49 میچز ڈرا ہوئے ہیں گویا اس سیریز میں دونوں ممالک میں ٹیسٹ میچز کے ڈرا ہونے کی ہاف سنچری بھی مکمل ہوسکتی ہے اور انگلینڈ کی بھارت کے خلاف ٹیسٹ فتوحات کی ففٹی بھی بن سکتی ہے.انگلینڈ کا بھارت کے خلاف فتح کا تناسب ایک اعشاریہ 65 ہے.اسی باب میں پاکستان اور انگلینڈ کے باہمی ٹیسٹ میچز پر نگاہ ڈالیں تو 86 میچزمیں سے انگلینڈ اگر 26 جیتا ہے تو پاکستان سے اسے 21 میں ناکامی بھی ہوئی ہے اور 39 میچز ڈرا گزرے ہیں،اس طرح انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کامیابی کا تناسب ایک اعشاریہ 28 فیصد ہے جو بھارت سے کہیں کم ہے،اس طرح مجموعی احوال میں بھی پاکستان کو ٹیسٹ میچز میں انگلینڈ کے خلاف بھارت پر واضح سبقت ہے.
انگلینڈ کے میدانوں میں بھارت کی ٹیسٹ پرفارمنس
انگلینڈ کے میدانوں میں بھارت کی ٹیسٹ پرفارمنس تو پاکستان کے مقابلہ میں کہیں بد تر ہے،آپ اندازا کریں کہ بھارت نے انگلش میدانوں میں جو 62 ٹیسٹ میچزکھیلے ہیں،ان میں سے اس کی گنتی کی صرف 7 فتوحات ہیں .34 میں شکست ہوئی ہے اور صرف 21 میچز وہ برابر کھیل سکا ہے،اس طرح انگلینڈ کی کامیابی کی شرح 4 اعشاریہ 85 کی ہے،بھارت 5 ناکامیوں کے بعد ایک کامیابی حاصل کرسکا ہے،اب پاکستان کے انگلینڈ میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے ٹیسٹ میچز کو دیکھیں تو 56 میچز میں سے پاکستان نے 12 کامیابیاں اپنے نام کی ہیں اور انگلینڈ کو صرف 24 میں جیتنے دیا.20میچز ڈرا کھیلے،ہر 2میچز کی ناکامی کے بعد ایک کامیابی کا تناسب بنتا ہے،جب کہ بھارت کا5 میں ناکامی پر ایک فتح کا باب کھلتا ہے،بھارت 70فیصد سے بھی زائد ناکام ہے.
انگلینڈ میں کھیلی گئی سیریز کا جائزہ
دونوں ممالک کی انگلینڈ میں کھیلی گئی سیریز کا جائزہ اور بھی بھارت کے لئے قابل ندامت ہے کیونکہ بھارت وہاں صرف 3 سیریز جیت سکا ہے اور ایسا پہلی بار 1971،دوسری بار 1986 اور تیسری بار 2007 میں ہوا تھا لیکن انگلینڈ نے 14 سیریز اپنے نام کی ہیں اور ٹوٹل 18 میں سے ایک سیریز2002 میں بھارت ڈرا کھیل سکا تھا.اب اس کے مقابلہ میں پاکستان کی انگلینڈ میں جو 17 سیریز ہوئی ہیں،گرین کیپس بھی 3 ہی جیت سکے ہیں،1987 میں پہلی،1992 اور 1996 میں مسلسل 3 سیریزمیں پاکستان کا غلبہ رہا ،چلیں سیریزکی فتوحات میں پاکستان اور بھارت 3،3 سے برابر ہیں لیکن اس لئے بھی برابر نہیں ہیں کہ بھارت سے پاکستان کی2 سیریز کم ہیں اور اس لئے بھی برابر نہیں ہیں کہ انگلینڈ بھارت سے 18میں سے 14 جیتا ہے جب کہ پاکستان کے خلاف 16میں سے صرف8 جیت سکا ہے اور 5 سیریز پاکستان ڈرا کھیلنے میں کامیاب ہوا.
بھارت پاکستان سے سیکھے
اگر یہ کہا جائے کہ انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز کیسے جیتی جاتی ہے اور یا یہ کہ انگلینڈ میں ٹیسٹ شکست سے کیسے بچا جاسکتا ہے تو اس کے لئے بھارت کو پاکستان کے نقش قدم پر چلنا ہوگا،ایک متوازن ٹیم سیٹ کرنی ہوگی جس میں اسپنرز بھی ہوں اور پیسرز بھی،مڈل آرڈر بھی ہو اور اوپنر بھی اچھے ہوں لیکن اصل بات یہ ہے کہ بھارت کے پاس یہ سب پاکستان سے کہیں بہتر ہے اور بڑے بڑے نام ہین خود ویرات کوہلی دور حاضر کے سچن ٹنڈولکر یا ڈان بریڈ مین کے قریب سمجھے جاتے ہیں لیکن انگلینڈ میں وہ بھی نہیں چل پاتے اور اتفاق سے کپتان بھی ہیں لیکن وہاں کھیلا کیسے جاتا ہے اور جیت کیسے ممکن ہوتی ہے،بھارت کے اچھے سے اچھے پلیئرز بھی پاکستان کے مقا بلہ میں انگلینڈ میں ناکام ہیں.
انگلش میدانوں میں کامیاب بائولنگ،گھومتی گیندیں اور جم کر بیٹنگ پاکستان سے سیکھنے کے لئے بھارتی پلیئرز کو پہلے یہ ماننا ہوگا کہ پاکستانی کھلاڑی اس باب میں ان سے بہتر ہیں،یہ کسی ایک سیریز یا دورے کی بات نہیں ہے بلکہ نصف صدی سے زائد کا قصہ ہے.پاکستان نے تو انگلینڈ میں 2010 سے 2020کے درمیان 2 ٹیسٹ سیریز تواتر کے ساتھ ڈرا کھیلی تھیں.1987 سے 1996 کی 3سیریز مسلسل جیتی تھیں،گویا یہ ثابت کیا تھا کہ اس کی کارکردگی اتفاقی حادثہ نہیں ہے اور اس کی چڑھائی میں میں صلاحیت کا ہی کردار ہے.ویرات کوہلی الیون کے لئے انگلینڈ کی ٹیسٹ سیریز پاکستان کےئ تقابلی جائزہ کے حوالہ سے بھی ایک چیلنج کا درجہ اختیار کرچکی ہے کیونکہ یہ باتیں اب عام ہونے لگی ہیں کہ انگلینڈ میں بھارت ناکام اور پاکستان کامیاب رہتا ہے اور یہ ہیڈ لائن بھارت جیسے ملک کے لئے کیسے قابل قبول ہوسکتی ہے.
یہ بھی پڑھیں
کشمیر پریمیئر لیگ،پاکستان دیکھتا رہ گیا،بھارت آئی سی سی کے پاس پہنچ گیا،ڈرامائی صورتحال

Leave A Reply

Your email address will not be published.