لارڈز میں پاکستان ایک بات کا لارڈ،انگلینڈ 18 سال سے محروم،دلچسپ معلومات

0 16

رپورٹ : عمران عثمانی
ہوم آف کرکٹ،لارڈز کرکٹ گرائونڈ پاکستان کے لئے کیسا رہا ہے،کوئی اگر یہ سوال کرے تو اس کے لئے سب کے ذہن میں ورلڈ کپ 1999 کا فائنل آئے گا ،پاکستان ہارگیا،متعدد ٹیسٹ میچز بھی یادداشت سے گزریں گے کہ پاکستان نے یہاں اچھی کرکٹ کھیلی اور کئی تاریخی فتوحات اپنے نام کی ہیں لیکن چونکہ اس وقت سردست مسئلہ یہ ہے کہ قومی ٹیم انگلینڈ میں ایک روزہ سیریز کھیل رہی ہے اور اس کا دوسرا ون ڈے میچ ہفتہ کو لارڈز کے تاریخی گرائونڈ میں کھیلا جائے گا،ٹیم غیر متوقع انداز میں پہلا میچ ہار چکی ہے ،مقابلہ پر چونکہ انگلینڈ کی بی ٹیم ہے،اس لئے کرکٹ فینز اور ممتاز مبصرین شکست ماننے کو تیار نہیں ہیں اور زیادہ تر ایک ہی بات پر زور ہے کہ پاکستان کا دن نہیں تھا،قسمت اچھی نہیں تھی،اس لئے ہارگئے،گویا وہ پاکستان کی لارڈز سمیت تیسرے میچ کی فتح کا بھی یقین رکھتے ہیں .اپنی ٹیم وملک سے جیت کی توقع رکھنا کوئی باعث شرم بات بھی نہیں ہے.
اب اگر بابر اعظم یہ کہیں کہ گھبرانا نہیں ہے،کم بیک کریں گے تو کوئی عجب بات نہیں ہے لیکن اگر شاہین آفریدی یہ بولیں کہ لارڈز کی کنڈیشنز ہمارے لیے سازگار رہتی ہیں ،ورلڈ کپ کے دوران بابر اعظم اور امام الحق نے بھی لارڈز میں اچھا اسکور کیا تھا .میری کیرئیر بیسٹ باؤلنگ بھی لارڈز میں ہی ہے تو کوئی تعجب والی بات نہ ہوگی کیونکہ ریکارڈز دیکھ کر ہی ایسے دعوے کئے جاتے ہیں.
ریکارڈز بک سے پاکستان کی ممکنہ جیت
کرک سین نے بھی سوچا ہے کہ کیوں نہ ریکارڈز بک کی مدد سے پاکستان کی کل کی ممکنہ جیت کا کوئی پہلو نکالا جائے،چنانچہ لارڈز کرکٹ گرائونڈ میں پاکستان کے کھیلے گئے اوور آل ایک روزہ میچز کو دیکھا جائے تو وہ 13 بنتے ہیں،ان کے نتائج یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان نے یہاں تگڑا مقابلہ کیا ہے اور اگر 7 میچز ہارے ہیں تو 6 میں کامیابی بھی اپنے نام کی ہے.یہاں پاکستان کا ہائی اسکور 315 اور کم سے کم اسکور 132 بھی ہے.پاکستان کے تمام 13میچز کا اجمالی جائزہ لیں تو کہانی کچھ یوں بنتی ہے .
لارڈز کی تاریخ میں پاکستان کا پہلاون ڈے
پاکستان نے یہاں پہلا ایک روزہ میچ 13 جون 1983 کو انگلینڈ کے خلاف کھیلا اور 8 وکٹ سے ہار گیا.دوسرا میچ 20 مئی 1992 کو کھیلا یہاں بھی 79 رنزکی شکست مقدر بنی،پاکستان نے یہاں پہلی جیت اپنے تیسرے مجموعی میچ میں اپنے نام کی جب اس نے 22 اگست 1992 کو یہاں 3 رنز سے میدان مارلیا.20جون 1999 کو پاکستان یہاں پہلی بار کسی غیر ٹیم کے سامنے آیا،یہ ورلڈ کپ 1999 کا فائنل تھا جو پاکستان 8وکٹ سے ہارگیا.12 جون 2001 کو پاکستان یہاں انگلینڈ کے خلاف کھیلا اور ایک بار پھر سنسنی خیز مقابلہ کے بعد 2 رنز سے جیت گیا،لارڈز کی پریس گیلری سے راقم الحروف نے یہ میچ براہ راست دیکھا تھا.23 جون 2001 کو اسی 3ملکی سیریز کے فائل کےلئے میں ایک بار پھر لارڈز میں موجود تھا،پاکستان کے لئےاس بار یہاں بہت کچھ پرانا تھا،اس فائنل سے 2سال قبل کے ورلڈ کپ فائنل کی تاریخ دہرائی گئی،آسٹریلیا ہی مدمقابل تھا اور پاکستان ایک بار پھر 9وکٹ سے ہارگیا.22 جون 2003 کو پاکستان یہاں انگلینڈ سے 4وکٹ سے ہارا اور پھر 4ستمبر 2004 کو چیمپئنز ٹرافی کے میچ میں پاکستان یہاں آسٹریلیا سے 10 رنز سے ہارگیا.2 ستمبر 2006 کو پاکستان نے یہاں سے نیا سفر شروع کیا اور میزبان انگلینڈ کو باہمی سیریز کے میچ میں 7 وکٹ سے ہرادیا.4 سال بعد 20 ستمبر 2010 کو ایک بار پھر انگلینڈ کو 38 رنزکی اچھی شکست سے دوچار کردیا.2016کی سیریز میں 27 اگست کو پاکستان انگلینڈ سے 4وکٹ سے ہارگیا.میزبان ٹیم کے خلاف لارڈز میں یہ اب تک کا آخری میچ بھی ہے لیکن 2019ورلڈ کپ کے دوران پاکستان نے یہاں 23 جون کو جنوبی افریقا کے خلاف 49رنزسے کامیابی سمیٹی تھی اور پھر اسی ایونٹ کے 5 جولائی کے میچ میں بنگلہ دیش کو 94رنز سے ہرادیا تھا.جنوبی افریقا کے خلاف حارث سہیل نے 89 رنزبنائے جو بد قسمتی سے اس سیریز سے باہر ہوگئے ہیں،بابر اعظم نے بھی 69 کی اننگ کھیلی.پاکستانی ٹیم میں آج بھی شامل شاداب خان نے تب 50 رنزکے عوض 3وکٹیں لی تھیں.بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں پاکستان نے315 کئے،امام الحق نے سنچری کی جبکہ بابر اعظم 96 کرکے چلے گئے تھے،شاہین شاہ آفریدی نے کیریئر بیسٹ 35رنزکے عوض 6وکٹیں لیں.
8میچزمیں مقابلہ 4-4 سے برابر
یہ تو پاکستان کے تمام ممالک کے خلاف کھیلے گئے میچز کا کچھ تفصیلی ذکر ہوا،اب اگر پاکستان اور انگلینڈ کے باہمی میچزکا جائزہ لیں تو تصویر کچھ یوں بنتی ہے،8میچزمیں مقابلہ 4-4 سے برابر ہے اور یہ انگلینڈ کو پاکستان کی بھر پور ٹکر بھی ہے کہ ہوم آف کرکٹ میں اس نے کمال اور کلاسیکل پرفارمنس پیش کی ہے،یہ ایک بات پاکستان کے حق میں جاتی ہے اور دوسری بات یہ بھی جاتی ہے کہ پاکستان نے آخری عرصہ میں زیادہ کامیابیاں اپنے نام کی ہیں ،پھر انگلینڈ کو سخت میچز میں بھی ہرایا ہے.پاکستان نے 20 ستمبر 10 کو انگلینڈ کو لارڈز میں آخری بار شکست دی تھی جبکہ انگلینڈ نے 27 اگست 2016 کو کامیابی اپنے نام کی تھی.ایک اور بات بھی پاکستان کے حق میں جاتی ہے.
معاملہ ٹاس کا
انگلینڈ جیسے ملک میں اگلی جو بات پاکستان کے حق مین جاتی ہے،وہ اس لئے بھی زیادہ اہم ہے کہ وہاں کی کنڈیشن اور موسم کے کردار کو دیکھتے ہوئے یہ بات بھی پاکستان کے حق میں جائے گی.معاملہ ٹاس کا ہےلارڈز کی فضائوں سے ٹاس کا سکہ زیادہ تر پاکستان کے حق میں گرا ہے،انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے 8میچزمیں سے 6میں پاکستان ٹاس جیتا ہے.یہاں اتفاق سے قومی ٹیم نے 6 بار پہلے اور 2 بار بعد میں بیٹنگ کی ہے.نتائج ملے جلے رہے لیکن زیادہ کامیابیاں پہلے بیٹنگ کر کے ہی ملی ہیں.دوسرا اتفاق ایک اور بھی ہے کہ پاکستان کے یہاں مختلف ٹیموں کے خلاف کھیلے گئے تمام 13میچزکا ٹاس دیکھاجائے تو وہ بھی زیادہ تر پاکستان کے حق میں گرا ہے،کیا کوئی یقین کرے گا کہ 13 میں سے 11 بار ٹاس کا سکہ گھومتا ہوا پاکستان کی جھولی میں آیا ہے .کمال بات یہ ہے کہ 2003 کے بعد پاکستان نے یہاں انگلینڈ سمیت متعدد ٹیموں کے خلاف جو 6 ایک روزہ میچز کھیلے ہیں،سب کے ٹاس جیتے ہیں.پاکستان نے انگلینڈ سے 2003 میں آخری بار ٹاس ہارا تھا پھر 2006،اسی طرح 2010 اور آخری بار 2016 میں یہاں کھیلے گئے ایک روزہ میچز میں میزبان ٹیم کو ٹاس جیتنے نہیں دیا ہے،کہا جاسکتا ہے کہ میزبان ملک پاکستان کے خلاف لارڈز میں 18 سال سے ٹاس کا سکہ اپنے حق میں نہیں موڑ سکا ہے اور گرین شرٹس آخری 6 میچزسے ٹاس کے میچ میں فاتح چلے آرہے ہیں.
لارڈز کرکٹ گرائونڈ کے حوالہ سے پاکستان کے لئے یہ چند خوش کن باتیں موجود ہیں لیکن ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ٹیم کمبی نیشن اچھا ہو تو پاکستان ٹیم ہوم آف کرکٹ میں انگلینڈ کے خلاف کل کا میچ جیت کر یہاں باہمی مقابلوں میں اپنی برتری 4-5 سے ثابت کردے. لندن میں کل بارش کی پیش گوئی بھی موجود ہے.
یہ بھی پڑھیں : کارڈف میں ڈونکی راجہ شو ،ورلڈ کپ سپر لیگ ٹیبل سے جھٹکا

Leave A Reply

Your email address will not be published.