پاکستان اور بھارت کا کرکٹ میچ سیٹ،ورلڈ ٹی20کی ممکنہ سیمی فائنلسٹ ٹیمیں،سابقہ ریکارڈز

0 10

رپورٹ وتجزیہ : عمران عثمانی
انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے پاکستان اور بھارت کو ایک بار پھر ایک آمنے سامنے کردیا ہے،ورلڈ ٹی 20 کے لئے روایتی حریفوں کو ایک ہی گروپ میں ڈال کر ابھی سے ہی کرکٹ فینز میں ہیجان مبتلا کردیا گیا ہے،سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ میرٹ پر ہوا ہے یا ضرورت کے درجہ میں؟ورلڈ ٹی 20 اس سال متحدہ عرب امارات اور عمان میں کھیلا جائےگا.میزبانی بھارت ہی کے پاس ہے جبکہ کورونا کی وجہ سے آئی سی سی نے میگا ایونٹ پہلے ہی ادھر منتقل کرنے کا اعلان کردیا ہے.کرکٹ فینز کو اس بات کا شدت سے انتظار تھا کہ روایتی حریف کہاں ہونگے،ایک گروپ میں نہ ہوئے تو کسی وجہ سے سیمی فائنل یا فائنل میں آمنے سامنے نہ آسکے تو ایونٹ کو چار چاند لگیں گے اور نہ ہی منتظمین کو دولت مل سکے گی.
آئی سی سی کے اعلان کردہ فریم کے مطابق ورلڈ ٹی 20 کے سپر 12 مرحلے کے 2 گروپس ہونگے.ان گروپس کو نمبر ایک اور نمبر 2 کا درجہ دیا گیا ہے جس میں 6،6 ٹیمیں رکھی گئی ہیں.
گروپ ایک میں آسٹریلیا،انگلینڈ،ویسٹ انڈیز،جنوبی افریقا اور گروپ اے کی ونر کے ساتھ گروپ بی کی رنر اپ ہوگی.
گروپ 2 میں پاکستان،بھارت،نیوزی لینڈ،افغانستان اور گروپ بی کی ونر کے ساتھ گروپ اے کی رنر اپ ٹیم شامل ہوگی.
ورلڈ ٹی 20 میں گروپ اے اور گرو پ بی کیا ہے
ورلڈ ٹی 20 میں 16 ٹیموں نے شرکت کرنی ہے،8 ٹیموں کو براہ راست سپر 12 میں شمولیت کا موقع ملا ہے اور یہ 8 ٹیمیں آئی سی سی ٹی 20 کی رینکنگ کی بنیاد پر پہلے سے ہی فائنل تھیں جب کہ باقی ٹیموں کو کوالیفائر ٹیموں کے ساتھ کھیل کر ان 8 ٹیموں کے ساتھ شامل ہونا ہے جو سپر 12میں پہلے ہی ہیں.سری لنکا اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں چونکہ پہلی 8 ٹیموں میں شامل نہیں تھیں ،اس لئے انہیں باقی 6 ٹیموں کے ساتھ سپر 12 سے قبل معرکہ آرائی کرنی ہے.
گروپ اے اور گرو پ بی ٹیموں کی تفصیلات
ورلڈ ٹی 20 کے 2021 ایڈیشن میں سپر 12سے قبل 8 ٹیموں کے میچز ہونگے،یہ ایک قسم کا منی ورلڈ ٹی 20 بھی ہوگا جس میں سری لنکا اور بنگلہ دیش کی عزت دائو پر لگی ہوگی لیکن چونکہ دونوں کو الگ الگ گروپ میں رکھا گیا گیا ہے اور ہر گروپ سے 2،2 ٹیموں نے سپر 12 میں جانا ہے،اس لئے امید کی جاسکتی ہے کہ بنگلہ دیش اور سری لنکا ورلڈ ٹی 20 میں شامل ہونگے،اس کے لئے گروپ اے میں سری لنکا،آئر لینڈ،نمیبیا اور ہالیںد شامل ہیں جبکہ گروپ بی میں پاپانیو جینیا،بنگلہ دیش،عمان اور سکاٹ لینڈ شامل ہیں.
گروپ اے اور گروپ بی سے گروپ 1 اور 2 کا کیسا سفر
ورلڈ ٹی 20 کے مقابلے 17 اکتوبر سے شروع ہونگے.23 اکتوبر تک گروپ اے اور بی کی 8 ٹیموں کے میچزہونگے،ان کے اختتام پر ہر گروپ کی 2،2 ٹیموں کو سپر 12 کی ٹکٹ ملے گی،جیسا کہ اوپر ذکر ہوچکا ہے کہ گروپ ون کے لئے گروپ اے کی پہلی اور گروپ بی کی دوسری نمبر کی ٹیم حقدار بنے گی،چنانچہ سری لنکا کے ساتھ سکاٹ لینڈ یا عمان میں سے ایک گروپ 1کی طرف مارچ کرسکتی ہیں اور وہاں ورلڈ چیمپئن ویسٹ انڈیز سمیت اچھی ٹیمیں موجود ہونگی.اسی طرح گروپ 2 کے لئے بنگلہ دیش اور آئر لینڈ آسکتے ہیں.
سپر 12 مرحلے کا آغاز،گروپ کی پوزیشن وطاقت
ورلڈ ٹی 20 میں سپر 12 مرحلے کا آغاز 24 اکتوبر سے ہوگا،یہاں سے 2 گروپ کی ٹیمیں گروپ کے حساب سے آپس میں میچز کھیلیں گی اور ہر گروپ کی 2 ٹاپ ٹیموں سیمی فائنل کی ٹکٹ کٹوائیں گی،اب اگر ابھی سے دیکھاجائے کہ کون سی 4 ٹیمیں سیمی فائنل میں جاسکتی ہیں تو گروپ 1 مشکل اور سخت دکھائی دے رہا ہے ،آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے کہ اس میں ورلڈ ٹی 20 کی دفاعی چیمپئن ویسٹ انڈیز ہے،انگلینڈ کی اچھی ٹیم ہے،آسٹریلیا بڑا حریف ہے،جنوبی افریقا کی اہمیت اپنی جگہ ہے اور توقع کے مطابق اس میں سری لنکا نے بھی آنا ہے تو سری لنکا بھی سابقہ ورلڈ ٹی 20 چیمپئن ہے،اب سیمی فائنل کی 2 ٹکٹ کے لئے انگلینڈ اور آسٹریلیا کے اپنے بڑے خواب ہیں ،ویسٹ انڈیز کو بھی اپنی پوزیشن کے اعتبار سے دفاعی چیمپئن ہونا ثابت کرنا ہے،پھر جنوبی افریقا اور سری لنکا خود اچھے امیدوار ہیں تو یہاں کلاس کی جنگ ہوگی،نہایت ہی سنسنی خیز مقابلے ہونگے،بظاہر انگلینڈ اور آسٹریلیا مضبوط ہیں لیکن عرب امارات کی پچز پر کچھ بھی ممکن ہے .سری لنکا کی ایک قسم کی گھر کی وکٹیں ہونگی.
اس کے مقابلہ میں گروپ 2 بہت آسان لگتا ہے،افغانستان کا بظاہر بڑا سٹیٹس نہیں ہے،یہ ٹیم ٹی 20 کی اچھی سائیڈ ہے لیکن اسے ابھی کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں ہے،اسی طرح یہاں بنگلہ دیش نے آنا ہے،اس کے ساتھ آئرلینڈ بھی ہوسکتے ہیں تو بنگلہ دیش ،آئرلینڈ اور افغانستان حریف ٹیموں کے لئے قدرے آسان ہونگے،پھر بھارت ہے،پاکستان ہے اور نیوزی لینڈ کی ٹیم ہے،یہاں کیوی ٹیم کو عرب امارت کی پچز نے مشکل دی تو بظاہر پاکستان اور بھارت سیمی فائنل میں جاسکتے ہیں.یہ گروپ بظاہر آسان ہے لیکن اس میں ڈارک ہارس زیادہ ہیں،کئی بڑی ٹیمیں ان میں سے کسی کا شکار ہوکر پورے گروپ کو ہلابھی سکتی ہیں،ٹیم کو باہر بھی کرسکتی ہیں.پاکستان اور بھارت سابقہ چیمپئن ہیں ،باقی کوئی ٹیم نہیں جیتی ہے.اس گروپ مٰیں پاکستان اور بھارت کا میچ بہت بڑا اور سنسنی خیز ہوگا.
پاکستان اور بھارت کے باہمی ٹی 20میچز
پاکستان اور بھارت کے درمیان چونکہ باہمی سیریز نہیں ہوتی ہیں تو اس لئے دونوں ممالک میں اب تک صرف 8 میچزہی ہوسکے ہیں ،ان میں سے پاکستان صرف ایک میں کامیاب ہوسکا ہے،7 میں شکست ہوئی ہے،6میں براہ راست اور ایک میں ٹائی میچ کھیل کر بعد میں شکست مقدر بنی،پاکستان کی اکلوتی فتح 2012 کے دورہ بھارت کی باہمی سیریز میں ممکن ہوئی تھی جب 2میچزکی سیریز 1-1 سے برابر رہی تھی.ورلڈ ٹی 20 کی تاریخ میں روایتی حریف 5 بار آمنے سامنے آئے،پاکستان کو 4 میں براہ راست اور ایک میں ٹائی میچ کھیل کر بھی وکٹ تھرو میں شکست ہوگئی تھی،جب کہ ایک میچ میں یہ ایشیا کپ میں سامنے آئے،وہاں بھی باھرت کامیاب تھا.2007 ے ورلڈ ٹی 20میں گروپ میچ برابر اور پھر شکست پر ختم ہوا،فائنل میں بھی پاکستان ہارگیا.2009ورلڈ ٹی 20 میں یہ آمنے سامنے نہیں تھے،2010 کے ایونٹ میں بھی ایسا ہی ہوا،پھر 2012سے 2016 کے 3 ایڈیشن میں پاکستان بھارت سے مسلسل ہاراتھا.اب 2021 میں ایک بار پھردونوں روایتی حریف آمنے سامنے ہونگے.
یہ بھی پڑھیں :
پاکستان کا آج ٹی 20میچ،ٹرینٹ برج سے ایک خاص مدد حاصل،فتح ممکن ؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.