پاک بھارت کرکٹ سیریز،عمران خان ہی بڑی رکاوٹ،جلد خوشخبری کا امکان

عمران عثمانی

پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے مابین باہمی کرکٹ سیریز بحالی کی خبریں پس منظر میں چلی گئی ہیں،بعض اطراف سے اس سال دونوں ممالک میں محدود اوور کی ایک سیریز نیوٹرل مقام پر کھیلے جانے کی باتیں بھی چلی تھیں لیکن کرک سین نے فروری 2021کے آغاز میں خبر دی تھی کہ بھارتی کرکٹ ٹیم اگلے سال پاکستان کا مکمل دورہ کرے گی.کیا یہ پلان اب بھی موجود ہے اور اس میں تیزی کے لئے اس سال کی مجوزہ ٹی 20 سیریز کے امکانات موجود ہیں ؟کہاں ان خبروں میں اتنی تیزی تھی اور کہاں ان میں اتنی خاموشی کیوں واقع ہوگئی ہے.

قریب آگئے دیکھتے دیکھتے،مشن پاک بھارت کرکٹ بحالی،پہلی سیریز کا میزبان پاکستان،بگ بریکنگ نیوز

انٹرنیشنل کرکٹ کا اگلے 8 سال کا ایف ٹی پی بھی فی الحال خاموشی کی نذر ہے،اس کا اعلان تو مئی کے شروع میں ہوجانا چاہئے تھا لیکن وہاں بھی خاموشی ہے،کیا پاکستان بھارت کی کرکٹ بحالی آئی سی سی کے 2023 سے 2031 کے ایف ٹی پی میں کہیں کنیکٹ ہے ؟ کہ جہاں دونوں ممالک کی کرکٹ سیریز کے حوالہ سے خاموشی ہے تو وہاں آئی سی سی کا کلینڈر بھی منظوری سے دور ہے.آخر کیا ایسا راز ہے کہ دونوں جانب مکمل خاموشی ہے.

کرک سین کو ذمہ دار ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاک بھارت کرکٹ بحالی میں ایک ایسی رکاوٹ آگئی ہے جس کی توقع کم تھی لیکن یہ رکاوٹ ایسی نہیں ہے کہ جو مستقل رہے گی،اس کا حال نکال لیا جائے گا،وہ رکاوٹ کیا ہے؟

کرک سین حسب سابق سب سے پہلے،سب سے آگے کے مصدا ق اپنے پڑھنے والوں کو آگاہ کر رہا ہے کہ پاک بھارت کرکٹ بحالی میں موجودہ رکاوٹ کہیں اور سے نہیں بلکہ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم اور سابق کپتان عمران خان کے سخت موقف کی وجہ سے ہے.اب یہ بات حیران کن ہی ہوگی کہ ایک سابق کرکٹر جو اتفاق سے وزیر اعظم بھی ہے،وہ دونوں ممالک کی باہمی کرکٹ بحالی میں کیونکر رکاوٹ کا باعث بن رہا ہے.اس کا سادہ ساجواب ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت جسے عمران خان لیڈ کر رہے ہیں،انہوں نے بھارت سے تعلقات کی بحالی کی بنیادی شرط عائد کردی ہے کہ بھارت پہلے مقبوضہ کشمیر کے حوالہ سے 5اگست 2019 سے قبل کی سابقہ پوزیشن کی بحالی کا اعلان کرے،اس کے بعد ہی بات آگے بڑھے گی،ورنہ کوئی بات نہیں ہوگی،اس سخت موقف کی وجہ سے پس پردہ کئی ماہ سے جاری کئی معاملات میں بحالی کی کاوشوں کے عمل کو دھچکا لگا ہے اور معاملات غیر متوقع طور پر سست ہوئے ہیں.

پاکستانی حکومت کے اعلیٰ سطحی وفد کی حالیہ سعودی عرب دورے کے بعد سے وزیر خارجہ شاہ محمود قرشی کے موقف میں بھی تبدیلی آئی ہے اور انہوں نے بھی وہی لائن اختیار کی ہے جو وزیر اعظم پاکستان کے اس نئے شرط نما اعلان سے قبل چل رہی تھی.کرک سین کا ماننا ہے کہ وزیر خارجہ کےے موقف میں تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ حکومتی سطح پر اب بہت جلد اس حوالہ سے کوئی بریکنگ نیوز سامنے آسکتی ہے لیکن فی الوقت عمران خان کے سخت موقف کی وجہ سے خاموشی ہے.

کرک سین ذرائع نے تصدیق کی ہے بھارت کی جانب سے بھی کسی حد تک اس کے قائم موقف میں تبدیلی آئے گی اور پھر پاکستانی وزیر اعظم کی جانب سے بھی کڑی شرط میں نرمی واقع ہوگی تو کرکٹ سمیت دیگر معاملات میں پہلے کی طرح تیزی آجائے گی لیکن یہ بات اپنی جگہ طے ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم پہلے پاکستان کا دورہ کرے گی اور یہ دورہ اگلے سال ہوگا.

اس صورتحال میں آئی سی سی کے اگلے 8 سالہ ایف ٹی پی کے اعلان میں تاخیر سمجھی جاسکتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ صرف یہی ایک وجہ ہو.کرک سین آئی سی سی ایف ٹی پی پر تو محتاط تبصرہ ہی کرسکتا ہے لیکن پاک بھارت کرکٹ بحالی،عمران خان کی کڑی شرط اور کچھ حلقوں کی جانب سے آنے والے وقت میں عمران خان اور ہمسایہ ملک کے موقف میں تھوڑی نرمی کی خبر کی تصدیق کر رہا ہے کہ مستقبل قریب میں ایسا کچھ سامنے آسکتا ہے،جتنی تاخیر ہوگی،اس سے اس سال نیوٹرل مقام پر ٹی 20 سیریز کے امکانات کم ہوتے جائیں گے لیکن انگلینڈ فی الوقت ایک نیوٹرل مقام کے طور پر ایسی کسی بڑی بریک تھرو کے حوالہ سے پر امید ہے.وقت ہی اس کا فیصلہ کرے گا.