پاک افغان سیریز،یو اے ای کا میزبانی کی تصدیق سےا نکار،وجہ آئی پی ایل یا کچھ اور

تجزیہ ورپورٹ : عمران عثمانی

پاکستان اور افغانستان کی مجوزہ ایک روزہ سیریز میں آئی پی ایل کی انٹری،متحدہ عرب امارات کا تاحال وینیوز کی کنفرمیشن سے اجتناب،افغانستان کرکٹ حکام کے دورے بھی کارگر نہیں رہے .آئی پی ایل سے ایک نیا ٹوئسٹ آسکتا ہے،پاک افغانستان کی ایک روزہ مجوزہ سیریز بھی متاثر ہوسکتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک 3 ملکی ٹی 20 کپ کا پلان بھی خراب ہوسکتا ہے.

معاملہ یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان اس سال ستمبر میں 3 ایک روزہ میچز کی سیریز کے لئے تیار ہیں،یہ سیریز افغانستان کی ہوم سیریز ہوگی لیکن چونکہ افغانستان میں انٹر نیشنل کرکٹ ممکن نہیں ہے،اس لئے افغان ٹیم اپنی ہوم سیریز کبھی بھارت اور کبھی عرب امارات میں کھیلتی ہے.پاکستان کی سیریز کے لئے اس نے عرب امارات کے 3مقامات شارجہ،دبئی اور ابو ظہبی میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا ہے اور اس کا اختیار بھی میزبان ملک کو دیا ہے لیکن عرب امارات حکام نے تاحال افغانستان کو تصدیق نہیں کی ہے .

کرک سین بخوبی اندازا کرسکتا ہے کہ چونکہ ستمبر،اکتوبر میں متحدہ عرب امارات میں بھارت اپنی ملتوی شدہ سیریز آئی پی ایل کا انعقاد چاہتا ہے اور اس کے 30سے زائد میچز باقی ہیں اور ورلڈ ٹی 20 کی وجہ سے وقت بھی کم ہوگا،اس لئے اسے بھی تینوں مقامات کی ضرورت ہوگی،اس کے پروگرام کے حتمی ہونے تک عرب امارات شاید افغانستان کو کوئی ایک سینٹر دینے کی حامی نہیں بھر پارہا ہے.

افغانستان کو دوسری تشویش بھی ہے کہ اس کے 3 ملکی کپ کے پلان کو آئی پی ایل سبو تاژ کرسکتی ہے.ورلڈ ٹی 20 سے قبل افغانستان یو اے ای میں ایک 3 ملکی ٹی 20کپ کی میزبانی کرنا چاہتا ہے جس میں دیگر 2 ٹیمیں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کی ہونگی.یہ کپ پاکستان افغانستان ون ڈے سیریز کے بعد ہوگا .آئی پی ایل کی 100 فیصد کنفرمیشن کے بعد افغانستان کے یہ دونوں منصوبے کھٹائی میں پڑسکتے ہیں اور یا پھر کم سے کم اس کے شیڈول میں بڑی قسم کی تبدیلی کا سبب تو بن ہی سکتے ہیں.

پاکستان نے افغانستان کے خلاف کبھی بھی باہمی سیریز نہیں کھیلی ہے ،دونوں ٹیمیں آئی سی سی ایونٹ میں تو کھیلی ہیں لیکن باہمی سیریز نہیں کھیلے،اس کا بنیادی ملبہ افغانستان حکام پر پڑتا ہے کہ ماضی میں لاہور کی سیریز طے کرکے ایک واقعہ کے باعث دورے سے بھاگ گئے اور ساتھ میں پاکستان پر الزام بھی عائد کردیا تھا،یہ بات تو پہلے دن سے واضح ہوگئی تھی کہ افغانستان کرکٹ میدان میں بھی بھارت کے زیر اثر چلا گیا ہے اور یہ معاملہ اب بھی جاری ہے.

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے دورہ کابل کے دوران افغان ٹیم بھی وہاں موجود تھی،افغان کرکٹرز و کرکٹ حکام کی درخواست پر وزیر اعظم پاکستان نے کرکٹ سیریز بحالی کی ہدایات جاری کی تھیں جس کے بعد پی سی بی نے افغان کرکٹ بورڈ کو گرین سگنل دے دیا تھا.پاکستان کرکٹ ٹیم نے ستمبر میں نیوزی لینڈ اور اکتوبر میں انگلینڈ کی میزبانی کرنی ہے،ایسے میں پاک افغان ون ڈے سیریز ستمبر کے پہلے ہفتہ میں ہوگی جبکہ پاکستان کا دورہ ویسٹ انڈیز اگست کے اختتام پرمکمل ہوگا،ان حالات میں بھی سخت شیڈول بنتا ہے.