پاکستان ورلڈ کپ سے باہر،بنگلور ٹیسٹ کی تاریخی جیت،حیران کن چیمپئن نمودار

دنیائے کرکٹ میں 17مارچ کا دن ہنگامہ خیزیوں سے بھر پور ہے،سابق عالمی چیمپئن کے ورلڈ کپ سے ذلت آمیز انداز میں باہر ہونے کادن،ایک ایسے ملک کے ورلڈ چیمپئن بننے کا دن کہ جس کے لئے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا.پاکستان کی بھارت میں پہلی ٹیسٹ سیریز کی جیت کا دن.

17مارچ 2007کو انضمام الحق کی قیادت میں کھیلنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے تاریک دن تھا جب ویسٹ انڈیز میں 9ویں ورلڈ کپ کے ابتدائی رائونڈ میں پاکستان باہر ہوگیا اور شکست بھی ایک ایسی ٹیم سے ہوئی جس کے بارے میں کچھ سوچنا ہی احمق پن تھا لیکن جب میچ ختم ہوا تو کروڑوں پاکستانیوں کو 11کھلاڑی احمق بنانے میں کامیاب ہوگئے تھے.کنگسٹن جمیکا میں گروپ ڈی کا 9واں میچ تھا،آئرلینڈ کے خلاف 1992کے ورلڈ چیمپئن 132پر ہتھیار پھینک چکے تھے.اس بد ترین کارنامہ میں محمد حفیظ بھی شامل تھے اور شعیب ملک کا بھی حصہ تھا.70پر 4اور 113پر 7وکٹ گنوانے والی ٹیم نے ہمت نہیں ہاری اور نیل اوبرائن کے 72رنزکی بدولت ٹیم 3وکٹ سے کامیاب ہوگئی لیکن یہ محض آئرش ٹیم کی کامیابی کی بات نہیں تھی بلکہ ورلڈ کپ سے پاکستان کا بوریا بستر گول ہونے کی تاریخ لکھی جارہی تھی،اس سے اگلے روز ایک اور جھٹکا پاکستان کا منتظر تھا جس کا ذکر کل ہوگا.اسی روز بنگلہ دیش نے بھارت کو 5وکٹ سے ہراکر ایونٹ سے باہر کردیا،اس طرح روایتی حریفوں کے لئے یہ ایونٹ تاریخ کا بد ترین ورلڈ کپ ثابت ہوا.

اسی روز لاہور میں ایک ایسی ٹیم ورلڈ چیمپئن بن گئی جس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا.سری لنکا نے چھٹے ورلڈ کپ 1996کے فائنل میں آسٹریلیا کو ہرا کر ورلڈ چیمپئن بننے کا اعزاز اپنے نام کرلیا.پاکستان کوارٹر فائنل اور بھارت سیمی فائنل میں ہارگئے تھے.سری لنکا کا ورلڈ چیمپئن بننا ناقابل یقین کارنامہ تھا.

گزشتہ سال 17مارچ کے روز پاکستان سپر لیگ 5کا ایڈیشن پلے آف مرحلے پر ملتوی کردیا گیا،یہ ایونٹ بعد میں نومبر میں مکمل ہوا لیکن اس سال پی ایس ایل کا چھٹا ایڈیشن آدھے میچز کی تکمیل سے قبل مارچ ہی میں ملتوی ہوا ہے کیونکہ کورونا سال بعد بھی سب کے لئے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے.

اسی روز 17مارچ 1987 کو پاکستان نے بھارت میں بنگلور کا تاریخی ٹیسٹ اپنے نام کیا تھا،پاکستان کی یہ کامیابی اس لئے بھی بڑی تھی کہ اسی میچ کی وجہ سے پاکستان بھارت میں پہلی ٹیسٹ سیریز جیتا تھا،یہی نہیں بلکہ پاکستان کی بھارت میں بھارت کے خلاف 35سال بعد یہ پہلی کامیابی تھی.بھارت کو محض 221رنز درکار تھے اور سیل گاواسکر چٹان کی طرح وکٹ پر موجود تھے لیکن پاکستان نے عمران خان کی قیادت میں 16رنز سے تاریخی جیت نام کی.میچ کے مرکزی کردار اقبال قاسم اور توصیف احمد تھے جنہوں نے پہلی اننگ میں 5،5 اور دوسری اننگ میں 4،4 وکٹیں لیں اور یہی نہیں بلکہ بھارت کی گرنے والی 20میں سے 18وکٹیں ان دونوں کی تھیں .سنیل گاوسکر 96پرآئوٹ ہوئے.اس سیریز میں متنازعہ امپائرنگ کا بھی بھر پور چرچا رہا تھا.پاکستان کی تاریخی جیت کا ذکر اب بھی قابل فخر انداز میں کیا جاتا ہے.