ٹرینٹ برج ٹیسٹ کا پہلا روز،انگلش ٹیم کے برج الٹ گئے

0 37

تجزیہ : عمران عثمانی
کرک سین نے 3 روز قبل کچھ لکھا تھا،کسی کو یاد ہو نہ یاد ہو،پھر بھی اس لکھے کا عنوان یاد کرتے ہیں .عنوان کچھ یوں تھا.
بھارت اچانک فیورٹ ،ٹرینٹ برج سے بھارت کو بڑی کمک مل گئی.یہ ایسے ہی نہیں لکھا گیا تھا،یہ بہت کچھ سوچ کر اور بڑی ریسرچ کے بعد تحریرکیا گیا تھا کہ انگلینڈ کے خلاف بھارتی کرکٹ ٹیم پہلے ٹیسٹ کی حد تک فیورٹ ہوگئی ہے اور میچ جیت سکتی ہے،چنانچہ بدھ 4 اگست کو ٹرینٹ برج ناٹنگھم میں بھارت نے انگلش بیٹنگ لائن اپ کی بینڈ بجادی،میزبان پلیئرز دن بھر کی بیٹنگ میں بد حواس رہے اور آخری گھنٹہ میں ہتھیار بھی ڈال گئے،انگلش ٹیم پہلے ٹیسٹ کے پہلے روز صرف 183پررنز پر آئوٹ ہوگئی ہے.یہ بھارت کے خلاف 5 ٹیسٹ میچزکی سیریز کے آغاز کا کمزور ترین لمحہ ہے.
انگلش کپتان جوئے روٹ کا ٹس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کئی افراد کو سمجھ میں نہیں آیا ہے لیکن شاید ان کے پیش نظر اگلے 4 روز کی بارش کی پیش گوئی ہوگی کہ ایسےحالات میں بھارتی ٹیم کو پکڑنا آسان ہوگا،یہ بات تب کامیاب ہوتی کہ جب اس کے بیٹسمین چمکتی دھوپ میں پہلے روز ایک اچھے اسکور کی بنیاد رکھتے ،ایسا نہیں ہوا.انگلش اننگ کا آغاز رائے برنز کے صفر کے ساتھ ہوا.42کے مجموعہ پر زیک کرولی 27 رنزبناکر چلتے بنے اور کھانے کے وقفہ کے بعد 66 کےا سکور پر ڈوم سبلی بھی 18 کرککے رخصت ہوگئے ،اس اہم موقع پر جونی بیئرسٹو اور کپتان جوئے روٹ نے ایک اچھی شراکت قائم کی،اس کا اتنا فائدہ ہوا کہ چائے کے وقفہ پر انگلینڈ کا اسکور 138 ہوچکا تھا اور وقفہ سے لمحہ قبل 29 رنزبناکر محمد شامی کا نشانہ بن گئے،بہر حال 2 سیشن کےکھیل میں 4 وکٹ کا نقصان کوئی بڑا دھچکا نہیں تھا،انگلینڈ کےلئے اصل جھٹکے کا وقت آخری سیشن میں آیا جب اس کے باقی ماندہ 6 بیٹسمین اسکور میں صرف 45 رنزکا اضافہ کرکے آئوٹ ہوگئے.
چائے کا وقفہ انگلش کیمپ پر بھاری پڑا
چائے کا وقفہ انگلش کیمپ پر بھاری پڑا.جسپریت بمراہ کی کوئی بال کسی کو سمجھ نہیں آئی اور 138 رنز 4 وکٹ سے اسکور 160 رنز9 وکٹ ہوگیا،یہ تو سام کرن کے 27 رنزکاکمال تھا کہ آخری وکٹ پر 23 اسکور کا اضافہ ہوگیا اور ٹیم 66ویں اوور میں 183پر آئوٹ ہوگئی.اہم بات یہ بھی ہے کہ انگلش ٹیم چائے کے وقفہ کے بعد صرف 15 اوورز ہی کھیل سکی .جوئے روٹ 64 رنزبناکر ٹھاکر کا شکار بنے،ان کے علاوہ کوئی بیٹسمین نہ جم سکا.انگلش اننگ میں 4 بڑے کھلاڑی صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے.
بھارت کی جانب سے سب سے کامیاب بائولر جسپریتبمراہ رہے،انہوں نے 46رنزکے عوض 4وکٹیں لیں جب کہ محمد شامی نے 28رنز دے کر 3 اور شردول ٹھاکر نے 41رنزکے عوض 2 کھلاڑی آئوٹ کئے.اس طرح بھارتی ٹیم نے اپنے پیس اٹیک پربھروسہ کیا جس نےا سے مایوس نہیں کیا.اسپنر جدیجا کی ضرورت صرف 3 اوورز کی پڑی.
بھارت نے 13 اوورز کی بیٹنگ کی
جواب میں بھارت نے 13 اوورز کی بیٹنگ کی اور اس کے اوپنرز روہت شرما اور کے ایل راہول نے جم کر حصار باندھا اورا یسا باندھا کہ جس وقت کھیل ختم ہوا تو انگلش پاکٹ میں کوئی وکٹ نہیں تھی.روہت شرما نے 40 بالز پر 9 اور راہول نے 39 بالز پر ہی 9رنزکئے.بھارت کا اسکور بغیر کسی نقصان کے 21 ہوگیا تھا اور اسے پہلی اننگ کا خسارہ دور کرنے کے لئے اب صرف 162 رنزدرکار ہیں اور اس کی تمام 10 وکٹیں باقی ہیں .جمی اینڈرسن کا تجربہ کام آیا اور سٹورٹ براڈ کی سیکڑوں وکٹیں،اسی طرح اولی رابنسن بھی کچھ نہیں کرسکے اور سام کرن اکیلے کیا کرسکتے تھے،انگلش کپتان نے 13 اوورز کے وقت میں 4 بائولرز آزمائے لیکن کوئی کامیابی نہیں ملی.بھارتی ٹیم نےپہلے روز کامیلہ اپنے نام کیا ہے.

ٹرینٹ برج ناٹگھم میں تماشائیوں کی موجودگی

ٹرینٹ برج ناٹگھم میں تماشائیوں کی موجودگی میں 2 سال بعد کوئی ٹیسٹ میچ ہورہا تھا،بھارت نے یہاں آخری میچ 2018 کے دورے میں کھیلا تھا جو اس نے جیت لیا تھا،ویرات کوہلی اس میچ کے ہیرو تھےجنہوں نے پہلے 97 اور پھر 103کی اننگز کھیلی تھی،تب بھی انگلش بیٹنگ لائن پہلی اننگ میں ناکام ہوئی تھی اور 200 سے کہیں کم اسکور پر لیٹ گئی تھی،بھارت نے اچھا اسکور کرکے بڑی لیڈ لی تھی.ویرات کوہلی الیون کا اعتماد دیدنی تھا.
انگلینڈ بھارت 2021 کی یہ ٹیسٹ سیریز ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2 کا آغاز بھی ہے اور اتفاق سے اسے سخت سیریز بھی قرار دیا گیا ہے لیکن انگلش کیمپ میں جوفرا آرچر ہیں اور نہ ہی بین سٹوکس،اس طرح ٹیم کمزور تو ہے لیکن چونکہ انگلینڈ کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کا بنچ سٹرینتھ بڑا ہی تگڑا ہے تو اسے کسی کی عدم موجودگی کو جواز نہیں بنانا چاہئے اور جم کر بھارت کو مقابلہ کرنا ہوگا.
ٹرینٹ برج ٹیسٹ انگلینڈ کے ہاتھ سے گیا
اس گرائونڈ میں بھارت اورانگلینڈ کا سابقہ ٹیسٹ ریکارڈ 2-2سے برابر ہے،جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ بھارتی ٹیم آخری 2 میچز سے یہاں ناقابل شکست ہے.2018کا ٹیسٹ جیتا تھا تو 2014 کا ٹیسٹ ڈرا رہا تھا،انگلینڈ نے بھارت کو یہاں 2011 کی سیریز میں مات دی تھی،اس اعتبار سے بھارت کا یہ اعزاز موجود ہے کہ وہ اس سنٹر میں انگلینڈ کا برج الٹ دے.انگلش ٹیم کے ہاتھوں سے بظاہر یہ میچ نکل چکا ہے اور اب ایسی پرفارمنس ہی اسے واپس لاسکتی ہے کہ بھارتی بیٹنگ لائن کسی سیشن میں ہتھیار ڈال دے اور پھر انگلینڈ کے بیٹسمین دوسری اننگ میں بہتر پرفارم کریں تو بھارت کو دبائو میں لایا جاسکے گاورنہ انگلش ٹیم کی شکست کے آثار واضح ہوتے جارہے ہیں.محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے 4دن بارش کی پیش گوئی ہے،دیکھنا یہ ہوگا کہ کتنے روز یہ سلسلہ رہے گا اور میچ کتنا متاثر ہوگا،اگر بھارت نے 180سے 200کی برتری لے لی تو پھر بارش بھی انگلینڈ کو نہیں بچاسکے گی.
تاریخ میں بھارت نے انگلش سرزمین پر صرف 3 سیریز جیتی ہیں اور اس کا ریکارڈ کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے لیکن گزشہ سال آسٹریلیا کا قلعہ فتح کرنے والی بھارتی ٹیم اس بار انگلش کیمپ کو تہس نہس کرسکتی ہے کیونکہ اس کے پلیئرز گزشتہ 2 ماہ سے انگلینڈ میں موجود ہیں،ماحول،کنڈیشن اور وکٹوں سے ایڈجسٹ ہوچکے ہیں اور میزبا ن ملک کے کھلاڑی بھی مکمل فٹ نہیں ہیں اور مسلسل باہر ہورہے ہیں،دیکھنا ہوگا کہ انگلینڈ کے پلیئرز اس میچ میں واپسی کے لئے کون سی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں ،جمی اینڈرسن اور سٹورٹ براڈ کا تجربہ انہیں بہر حال ممتاز کرتا ہے.
اس میچ میں سچ ہوتا پہلے سے کیا گیا تجزیہ یہاں موجود ہے
پہلا ٹیسٹ،بھارت انگلینڈ کے خلاف اچانک فیورٹ،ٹرینٹ برج سےبڑی کمک

Leave A Reply

Your email address will not be published.