پرفارمنس نہیں،حکمت عملی اور سلیکشن خراب،رمیزراجہ کا بھی کرارا وار

0 13

کرک سین کی خصوصی رپورٹ
پاکستان جب پہلے بیٹنگ کرتا ہے تو بہتر ہوتا ہے،بائولنگ کے ساتھ بعد میں اٹیک کرتے ہیں.پاکستان کی حالت کیوں تباہ کن ہوئی ہے،رمیز راجہ کہتے ہیں کہ پاکستان جس نے محدود اوورز کرکٹ میں 2 لیگ اسپنرز کھلانے کا تجربہ کیا،وہ اس کے بغیر چل رہا ہے اور انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف آج کی کرکٹ میں 2 لیگ اسپنرز کھلادیئے.
سابق پاکستانی کپتان رمیز راجہ نے بھی اپنے یو ٹیوب چینل پر پاکستان کی انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ پاکستان کی پالیسی خراب چل رہی ہے،عثمان قادر موجود ہیں اور انہیں 4 انگلینڈ کے بیٹسمین کبھی اچھا نہیں کھیل سکتے لیکن انہوں نے اسے نہیں کھلایا.رمیز راجہ نے پاکستان کی تیکنیک اور پلان پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ کہانی ایسے نہیں چے گی،بڑا پلیئر اور بڑی ٹیم بننے کے لئے کام کرنا ہوگا.
اتوار کو لیڈز میں انگلینڈ نے پاکستان کو ہراکر 3میچزکی سیریز 1-1 سے برابرکردی ہے اور اب فیصلہ آخری میچ میں کل ہوگا.پاکستان نے سیریز جیتنے کا موقع گنوادیا ہے اب ٹرافی اوپن ہوگئی ہے اور انگلینڈ اچھی ٹیم ہے،اسے قابو کرنا مشکل ہوگا .رمیز راجہ نے بھی پاکستان کی بائولنگ اور مڈل آرڈر پرکڑی تنقید کی ہے.
کرک سین اپنے پڑھنے والوں کو یاد کروانا چاہتا ہے
کرک سین اپنے پڑھنے والوں کو یاد کروانا چاہتا ہے کہ پہلے روز سے ،حتیٰ کہ ایک روزہ سیریز کے آغاز سے قبل یہ لکھا تھا کہ ٹیم کی پالیسی درست نہیں ہے،ریگولر اسپنر کو یہ کھلانے کو تیار نہیں ہیں،یہ وہ سوچ ہے کہ جو 18 سال قبل پی سی بی کے راستے ٹیم میں بھرتی ہوئی تھی کہ اسپیشلسٹ اسپنر ثقلین مشتاق کو نکال دو اور شعیب ملک جیسے اوسط درجہ کے اسپنر کو کھلادو،ٹائٹل یہ دیا گیا تھا کہ آل رائونڈر ہے،بیٹنگ اچھی کرتا ہے.اب انصاف کے ساتھ یاد کریں کہ ثقلین مشتاق نے صرف اپنی بائولنگ کی مدد سے پاکستان کو کیسے یادگار میچ جتوائے اور شعیب ملک اپنی پرفارمنس سے پاکستان کے لئے کیا کرسکے .سب کو علم ہے اورر یہی حال بعد میں اور سب کے ساتھ ہوا.آج کل یہ تھیوری شاداب خان اور عماد وسیم پر لاگو کی گئی ہے کہ اسپنرز بھی ہیں اور بیٹسمین بھی.آپ خود یاد کرلیں کہ دونوں کی آل رائونڈ کارکردگی سے پاکستان کو کیا مل رہا ہے.
ایک اسپیشلسٹ اسپنر یا بائولر
ایک اسپیشلسٹ اسپنر یا بائولرکسی بھی اننگ میں حریف ٹیم کے 5 یا 6 آئوٹ کرکے اس کی کمر توڑدیتا ہے،اس کے بعد کسی آل رائونڈر کی بیٹنگ کی نوبت ہی نہیں آتی مگر یہاں الٹی گنگا چلتی ہے.عماد وسیم اور شاداب خان 10ویں اور 11ویں درجہ کے پلیئر ہیں،ایسے کھلاڑی انگلینڈ،بھارت،آسٹریلیا حتیٰ کہ نیوزی لینڈ کے اسکواڈ میں دوسرے درجہ کی ٹیم کے 15 ویں یا 16ویں‌پلیئر ہوتے ہیں مگر پاکستان میں ایک اٹیکنگ بائولر بناہے اور دوسرا نمبر 4سے نمبر 6 کا مستند بیٹسمین اور 50سےا وپر رنز دے کر 3 وکٹیں لینے والا لیگ اسپنر،اب جو بائولر 50 سے زائد رنز دے کر 3 وکٹیں لیں ،اس کی یہ کارکردگی کس کام کی،ٹیم نے 200 رنز تو بنالئے،پھر بعد میں بیٹنگ کرکے وہ 20 یا 30ا سکور بنابھی دے تو وہ کس کھاتہ میں جائیں گے.اس کا کیا فائدہ ملے گا.
کرک سین ایک عرصہ سے اپنے تبصروں اور تجزیوں‌میں اس بڑی خرابی کی نشاندہی کرتا آرہا ہے اور اسی طرح اس بات کی بھی کہ ٹیم میں مستد فاسٹ بائولرکی کمی ہے ،یہ جزوقتی یا میڈیم پیسرز کی اوقات اتنی ہے جتنی کسی زمانہ میں عبد الرزاق،اظہر محمود یا رانا نوید کی ہوتی تھی ،ان کی باری شعیب اختر،وسیم اکرم،وقار یونس جیسے بائولرز یا آصف اور عامر کے بعد آتی تھی لیکن حد ہے کہ آج کی کرکٹ میں یہ ہمارا فرنٹ اٹیک ہیں.یہ ہمارا بائولنگ اٹیک ہیں.
اسی طرح بیٹنگ آرڈر میں نااہل لوگوں کی بھرتیاں ہیں جو ایک سال سے ٹی 20میں 40 کی اننگ تک نہ کھیل سکے لیکن پرچیاں ایسی چل رہی ہیں کہ پوچھنے والا کوئی نہیں،اس سے بڑی نااہلی،بد دیانتی اور ڈھٹائی کیا ہوگی کہ انگلینڈ میں پہلا ون ڈے ہارنے کے بعد ٹیم تبدیل نہٰیں ہوئی،دوسری شکست کے بعد بھی ایک بھی تبدیلی نہ کی جاسکی اور پھر تیسری ذلت آمیزشکست کو دیکھا گیا.2 ٹی 20 میچز کھیل لئے لیکن کوالٹی لیگ اسپنر باہر موجود ہے.یہ فیصلے کون کر رہا ہے،بابر اعظم اکیلے کر رہے ہیں تو پہلی فرصت میں کپتانی سے فراغت نامہ بنتا ہے اور اگر کوچز بھی ساتھ موجود ہیں تو سب کی چھٹی بنتی ہے،اس ٹیم میں اوور ہالنگ کی ضرورت ہے.
رمیز راجہ نے ایک خاص لفظ بولا
رمیز راجہ نے ایک خاص لفظ بولا ہے کہ ٹیم اپنی کارکردگی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی حکمت عملی کی وجہ سے مار کھاتی ہے،حکمت عملی میں سب کچھ شامل ہے.اتنا کچھ موجود ہے کہ سلیکشن سے لے کر کپتانی تک ،ٹاس سے لے کر بیٹنگ آرڈر تک،اس میں سب کچھ آسکتا ہے،یہ ٹیم 2 پھونکوں کی مار ہے،رضوان اور بابر گئے توسلطنت بابر ڈھے گئی.پاکستانی ٹیم کو ایسے نہیں چلایا جاسکتا،میں پیش گوئی کر رہا ہوں کہ اگر منیجمنٹ نے یہی پالیسی رکھی اور ٹیم میں کل وقت اسپنرز نہیں کھلائے اور یہ جزوقت کریکٹر ہی رہے تو یہ ویسٹ انڈیز میں بھی مار کھائیں گے اور بابر اعظم کا ہر میچ کے بعد یہ کہنا کہ غلطیوں سے سیکھیں گے اور اگلے میچ میں کم بیک کریں گے،ایک بد ترین مذاق بن جائے گا.
انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹی 20 میچ میں عثمان قادر کی شمولیت بہت ضروری ہے،اسی طرح فخر زمان کا نمبر 3 پر بیٹنگ کرنا ہی مفید ہے.اعظم خان کے لئے آخری چانس ہوگا،چلے تو ٹھیک ورنہ خدا حافظ.صہیب مقصود کے دماغ میں ڈالنا ہوگا کہ ہر گیند چھکا نہیں ہوتی اور محمد حفیظ کو باور کروانا ہوگا کہ ایسے نہیں چلے گا.اسی طرح بائولنگ اٹیک میں بہتری کی ضرورت ہے،بائولرز 10کی اوسط سے کیسے رنز دے رہے ہیں،انہیں کوئی یہ بتانے والا نہیں ہے کہ لائن ولینتھ کیا ہوتی ہے اور رنزکیسے روکے جاتے ہیں.
پاکستان انگلینڈ کے خلاف تیسرا ٹی 20 جیت بھی جائے تو بھی ٹیم کی اوور ہالنگ ضروری ہے،یہی لڑکے ایک روزہ کرکٹ بھی کھیل رہے ہیں،انہیں میں سے اکثر ٹیسٹ کرکٹر بھی ہیں،یہ تو اب تک سپر اسٹار ہوتے.بگ بیش کے لئے آسٹریلیا والے،کائونٹی کرکٹ کے لئے انگلینڈوالے پیچھے پیچھے بھاگ رہے ہوتے لیکن ایسا نہیں ہے،کوئی ان سے معاہدے کے لئے تیار نہیں ہے اور کوئی انہیں ہر قیمت پر سلیکٹ نہیں کرنا چاہتا کیونکہ یہ اوسط درجہ میں شمار ہوتے ہیں.
اسے پڑھنا بھی مت بھولیئے
پاکستان انگلینڈ سے کیوں ہارا،اصل حقائق کرک سین پر،انضمام کے بھی انکشافات

Leave A Reply

Your email address will not be published.