پاکستان کرکٹ کی تباہی کی نئی کہانی ، ٹیم منیجمنٹ ایک پیج پرہی نہیں،متعدد اہم انکشافات،بریکنگ نیوز

0 32

دنیائے کرکٹ میں اس وقت بہت کچھ چل رہا ہے،کئی نئی باتیں ہیں اور کئی دلچسپ خبریں ہیں لیکن پاکستان کرکٹ میں ایسی سوگواری کی کیفیت ہے کہ جسپاکستان کرکٹ کی تباہی ,میں خاموشی یا سناٹا نہیں ہے بلکہ چنگھاڑتی تنقید ہے اور نہایت ہی سفاک جملے ہیں،اس میں سابق کرکٹرز بھی پیش پیش ہیں اور ایسے ایسے جملے بول رہے ہیں اور طنز کر رہے ہیں کہ یہ پہلے صرف سوشل میڈیا پر عام صارفین تک محدود رہتے تھے۔اب کوئی عام رہا،نہ خاص۔بس اتفاق بھی ایک ہی ہے کہ ملکی کرکٹ بربادہوگئی ہے،تباہ ہوگئی ہے۔
شعیب اختر نے تو قومی کرکٹرز کو کان پکڑادیئے ہیں اور ملکی بورڈ کی اہلیت پر بھی سوال اٹھادیا ہے۔
اوپر سے لے کر نیچے تک سب ہی سوچیں
انضمام الحق کہتے ہیں کہ کیا اس بات پر کہ ٹیم 186پر ڈھیر ہوگئی،میں یہ کہوں کہ بہت برا کھیلے۔یا اس بات پر کہ ٹیم اننگ اور پونے دو سو رنز سے ہار گئی،تو بہت برا کھیلے۔یقینی طور پر برا ہی کھیلےمگر میں اس پر کیا کہہ سکتا ہوں،یہی کہوں گا کہ اوپر سے لے کر نیچے تک سب ہی سوچیں،بیٹھیں اور دیکھیں کہ کونسے غلط ٹریک پر چڑھ گئے ہیں اور اس کو جلد از جلد ٹھیک کیسے کرنا ہے۔
ملکی کرکٹ کی پچز ہی اکھاڑ دیں
رمیز راجہ کہتے ہیں کہ ملکی کرکٹ کی پچز ہی اکھاڑ دیں اور انگلینڈ،آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی پچز پالش کردیں۔راشد لطیف،عاقب جاوید وغیرہ بھی خوب بول رہے ہیں لیکن سابق کپتان وسیم اکرم کیوں خاموش ہیں،کیا کسی نے غور کیا ہے؟
کرکٹ کانظام اسلام آباد سے نہیں بلکہ لاہور سے چلتا ہے
وسیم اکرم پاکستان کرکٹ بورڈ کی کرکٹ کمیٹی کے وہ رکن ہیں جن کی سفارشات اور رائے کو اہمیت دی جاتی ہے اور اس کی طرف پی سی بی میڈیا ڈائریکٹر سمیع الحسن برنی ایک ٹی وی انٹر ویو میں اشارہ دے چکے ہیں،انہوں نے کہا ہے کہ کرکٹ کانظام اسلام آباد سے نہیں بلکہ لاہور سے چلتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اہم عہدوں پر تقرری یا بڑے فیصلے بڑے سابق کرکٹرز کی رائے وسفارشات پر کئے جاتے ہیں۔
اشارہ کرکٹ کمیٹی کی جانب
یہ واضح اشارہ کرکٹ کمیٹی کی جانب تھا،مصباح کی تقرری،سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر کی فراغت،سابق کپتان سرفراز کی رخصتی سمیت تمام اکھاڑ پچھاڑ،ٹیسٹ کپتان کی تبدیلی یہ سب فیصلے اگر سابق کرکٹرز کے سر ہی تھوپنے ہیں تو ان میں اسے ایک کو پی سی بی چیئرمین،دوسرے کو چیف،تیسرے کو ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ اور چوتھے کو ڈومیسٹک کرکٹ بنادیں،پھر 400 افراد کی فوج ظفر موج کو فارغ کریں،چھری تو بہت سے محکموں پر چل رہی ہے.
بڑے بڑے اداروں سے فراغت نامے جاری ہورہے ہیں توپی سی بی کا بھی نمبر لگادیں۔پھر ذمہ دار جو بھی ہونگے،وہ یہ تو نہیں کہیں گے کہ یہ فیصلے فلاں کے کہنے پر کئے گئے۔کسی کویاد ہے کہ مکی آرتھر کو پاکستان بلا کر انہیں دوسرے معاہدے کی پیشکش کی امید دلاکر انہیں ذلیل کرنے والوں میں پیش پیش کون تھے؟ورلڈ کپ 2019کے بعد جو فلم لاہور میں چلی،وہ بھولنی نہیں چاہئے۔نام نہاد کرکٹ کمیٹی جس نے فیصلہ کیا،اس میں مصباح بھی شامل تھے،وہ فرد جو کسی کو فارغ کروارہا ہو،بعد میں اس عہدے پر ہی نہیں بلکہ ساتھ میں چیف سلیکٹر کے عہدے کو بھی قبول کرلے،وہ کیا کہلائے گا؟
اسے یہ ذمہ داری دینے والے کیا کہلائیں گے؟اس کے بعد یہی نئے ہیڈ کوچ جمع چیف سلیکٹر مصباح الحق بائولنگ کوچ کے لئے ماضی کے ناکام ہیڈ کوچ وقار یونس کو لاتے ہیں،بعدمیں پی سی بی اس جھتے میں مشتاق احمد اور یونس خان کو بھی شامل کردیتا ہےتو ظاہری طور پر بڑی واہ واہ ہوتی ہے۔پھر کیا ہوتا ہے؟پھر یہ کہ کپتان تبدیل،پھر ٹیسٹ کپتان تبدیل اور پھر 16 اور 18 سال کے فاسٹ بائولرز کو دنیا کا بہترین ٹیلنٹ بناکر سامنے لایا جاتاہے اور پھر آسٹریلیا،انگلینڈ اور نیوزی لینڈ میں تاریخی چھترول پڑتی ہے،ہر سیریز میں پلاننگ کا پوسٹ مارٹم ہوتا دکھائی دیتا ہے،ہر سیریز میں نام نہاد ٹیلنٹ کی دھجیاں اڑتی دکھائی دیتی ہیں اور پھر ہر سیریز میں کھلاڑی ایسے کھیلتے دکھائی دیتے ہیں کہ جیسے ان کا کوئی پرسان حال نہ ہو.
بھانت بھانت کی بولیاں
پاکستان میں بھانت بھانت کی بولیاں بولی جاتی ہیں،یونس خان کے چاہنے والے ان سے سوال نہیں کرتے کہ ایک بیٹسمین آخر بار بار جو غلطہ دہرا رہا ہے تو کیوں؟بیٹنگ کوچ کے طور پر انہوں نے کیا کیا؟الٹا ان کی ڈھال بن کر قوم کو یہ درس دیا جاتا ہے کہ ان کی درست جگہ یہ نہیں بلکہ وہ ہے،ان کو غلط جگہ پر رکھنے کا ذمہ دار پی سی بی ہی ہے۔ان سے کوئی یہ پوچھے کہ ناکام فرد کہیں بھی بھرتی ہو،وہ ناکام ہی ہوگا،کامیاب فرد جہاں بھی ہو،کامیاب نہ بھی ہو تو کم سے کم اس کی کامیابی کی بھوک دکھائی دے گی۔اسی طرح فاسٹ بائولرز کے انچارج وقار یونس اپنے پیسرز میں ایک بھی ایسی جھلک نہ دکھاسکے کہ جس سے لگتا کہ انہوں نے واقعی کوئی کام بھی کیا ہے اور رہ گئے ہیڈ کوچ مصباح،ان کا کام تو صرف نگرانی کا ہی ہوگا کہ کوچز کیا کر رہے اور کھلاڑی کیا پڑھ ،سن رہے ہیں۔
بھانت بھانت کی بولیاں بند کی جائیں،بہت ہوگیا۔پاکستان کرکٹ بورڈ اپنی رٹ قائم کرے،انے فیصلے خود کرے اور مصباح سمیت پوری منیجمنٹ کو رخصت کرے اور ہیڈ کوچ صرف ایک ہی رکھا جائے جو بنیادی طور پر تمام شعبوں کا انچارج ہو،بیٹنگ،بائولنگ اور فیلڈنگ کے لئے سپر اسٹارز کی ٹیم نہیں بلکہ باصلاحیت افراد منتخب کئے جائیں جو شہرت میں بھلے وقار یا مصباح جیسے نہ ہوں لیکن کام میں ماسٹر ہوں اور اہم بات یہ بھی ہے کہ مشتاق،یونس،وقار اور مصباح نے اپنا پورا کیریئر لیجنڈری،سپر اسٹارز کی طرح گزارا ہے،یہ بیک وقت ایک جگہ ایک پیج پر نہیں ہوسکتے،ان کو الگ الگ تو رکھا جاسکتا ہے،ایک ساتھ رکھ کر 1988 سے 2018 تک کی 3قسم کی مختلف کرکٹ کے دماغ کو ایک جیسا نہیں بنایا جاسکتا۔ , پاکستان کرکٹ کی تباہی
دفاعی دماغ کے انڈر
پاکستان کرکٹ ایک عشرے سے دفاعی دماغ کے انڈر ہے،جس کا نام مصباح کرکٹ ہے،خدا خدا کرکے وہ ریٹائرہوئے تھے،انہیں پھر لاکر پھر دفاعی کرکٹ کا تسلسل رکھا گیا۔پاکستانی ٹیم کے پاس مستند فاسٹ بائولرز ہیں اور نہ ہی کوالٹی اسپنرز،فاسٹ بائولرز ہیں اور نہ ہی ان سب کا بیک اپ۔ٹیسٹ فتوحات میں عمران خان سے آگے نکلنے سے پاکستان کے کامیاب ٹیسٹ کپتان کا ٹائٹل نہیں مل سکتا لیکن ہمارے ہاں ایک بہت بڑے لیکن نام نہاد بڑے طبقے نے عمران خان کی مخاصمت میں مصباح کو بڑا بنادیا تھا،اس پر اتنا کچھ کردیا گیا کہ شاید پی سی بی حکام بھی ٹرانس میں آگئے۔
سادہ سا سوال
سادہ سا سوال ہے کہ عمران خان کے دور میں 10 سال تک ٹیسٹ کیپ یا ون ڈے کیپ لینے کے لئے کھلاڑی بوڑھے ہوجایا کرتے تھے۔پھر جب 5،5 نئے کھلاڑی شامل کیئے جاتے تھے تو وہ مستقبل کے کپتان بنتے تھے،گویا 5،5 بیک اپ موجود تھے ۔مصباح اپنے دور یا ریٹائرمنٹ کے وقت کوئی ایک بھی پاکستان کرکٹ کی تباہی ,فاسٹ بائولر دے کر گئے؟ایک بھی اسپنر یا ایک بھی میچ ونر دے گئے۔اور تو اور بابر اعظم تاحال میچ ونر نہیں بن سکے ،باقی کی کیابات کریں.
نہاد کرکٹ کمیٹی
پاکستان کرکٹ بورڈ پر لازم ہےکہ اس نام نہاد کرکٹ کمیٹی،ان کے مشوروں سے فوری نجات حاصل کرے اور تھنک ٹینک کمیٹی کے نام سے جدید کرکٹ کے کھلاڑی،اسپیشلسٹ اور سابق ممتاز کرکٹرز میں سے کوئی 3 شامل کر کے ایک ہنگامی پلان مرتب کرے اور ساتھ میں اپنا ویژن بھی دکھائے ورنہ جنوبی افریقا سےٹیسٹ سیریز جیت بھی لی جائے تو بھی یہ ضمانت نہیں ہوگی کہ گھر کے یہ شیر باہر جیت جائیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.