محمد عباس پر پہاڑ گرگیا،ہاشم آملہ کی مار دھاڑ میں پاکستانی کیمپ کے لئے بڑا سبق

پاکستان کرکٹ ٹیم سے ڈراپ محمد عباس کے لئے کائونٹی کرکٹ کانیا رائونڈ ڈرائونا خواب ثابت ہوا ہے.گزشتہ 2میچز میں آئوٹ کلاس بائولنگ کرنے والے عباس اور ان کی ٹیم ہمشائر کے سر پر بڑا پہاڑ گرا ہے.اوول لند ن میں جاری کائونٹی چیمپئن شپ میچ میں سب سے قبل تو ہمپشائر کی بیٹنگ لائن فنا ہوگئی،پوری ٹیم صرف 92پر پویلین لوٹ گئی،کوئی بیٹسمین ذمہ داری کامظاہرہ نہ کرسکا.جارڈن کلارک نے صرف 21رنز دے کر 6وکٹیں اپنے نام کیں.

جواب میں سرے کائونٹی نے اگلے پچھلے سارے حساب صاف کردیئے ہیں،اس نے صرف 3وکٹ کھوکر 513اسکور کئے،عباس اینڈ کمپنی کا پھینٹا لگانے والا کوئی اور نہیں ہاشم آملہ تھے جو پی ایس ایل میں پشاور زلمی کے کوچنگ اسٹاف کا حصہ ہیں،انہوں نےدوسرے دن کے کھیل کے خاتمہ پر 215 اسکور کرلئے ہیں اور وہ ابھی ناٹ آئوٹ ہیں،انہوں نے اسکے لئے367 بالز کھیلیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ انگلش بیٹسمین اولی پوپ کے ساتھ مل کر انہوں نے تیسری وکٹ پر 257 رنز جڑدیئے،اولی پوپ 75کے اسٹرائیک ریٹ سے 173بالز پر 131رنزبناکر آئوٹ ہوگئے.

پاکستان نے زمبابوے کے خلاف جو کیا،بہتر ہے آئندہ ایسا نہ کرے،شعیب اختر کی سخت وارننگ

ہمپشائر کے لئے ہوا بنے محمد عباس کے حصہ میں گرنے والی 3وکٹوں میں سے ایک بھی نہیں آئی،انہوں نے19اوورز میں 69رنز دیئے،یہ پہلا موقع تھا کہ جب ان کے خلاف کھل کر اسکور بنائے گئے ہیں.محمد عباس کے لئے اس میں خوفناک سبق یہ ہے کہ اس طرح وہ قومی ٹیسٹ ٹیم میں واپسی نہیں کرسکیں گے،انہیں تواتر کے ساتھ بہتر پرفارم کرنا ہوگا،ایسا نہیں چلے گا کہ ایک میچ میں 9وکٹیں اور اگلے میچ میں پٹائی.پاکستان کے لئے 23 ٹیسٹ کھیل کر 84ٹیسٹ وکٹ لینے والے 31 سالہ رائٹ ہینڈ بائولر محمد عباس کے لئے کائونٹی کا ہر میچ بڑا چیلنج ہوگا.

اس کائونٹی میچ سے پاکستانی بیٹسمینوں کے لئے بھی بڑا سبق ہے کہ ہرارے میں جاری ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز فواد عالم کے سوا سب نے 50سے بھی کم اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ بیٹنگ کی ہے،اب یہاں ہاشم آملہ بیٹنگ کر رہے ہیں،انگلش وکٹیں ہیں،سامنے ٹیسٹ کرکٹرز بھی موجود ہیں اور جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والے آملہ نے ناقابل شکست ڈبل سنچری بنادی ہے.پاکستانی بیٹسمینوں کا اگر زمبابوے جیسی کمزور بائولنگ لائن کے سامنے یہ حال ہے تو بڑی ٹیموں کے خلاف تو اس سے بھی بد تر ہوگا.ٹیم انتظامیہ کو اپنے پلیئرز کی اس سوچ کو بدلنا ہوگا،ورنہ بڑی مار پڑے گی.پاکستان کے سابق کھلاڑیوں شعیب اختر اور انضمام الحق نے بھی اسی ایشو پر بات کی ہے،دیکھنا ہوگا کہ خرابی کہاں ہے،کھلاڑیوں کے اوپر جومائنڈ سیٹ کام کر رہا ہے ،وہ وہی ہے جس نے 2010سے 2017 کے درمیان پاکستانی کرکٹ 1980سے پیچھے والی کرکٹ میں دھکیل دی.