بابر اعظم کے لئے مارکرم آج بڑا خطرہ کیسے،بیٹنگ و بائولنگ میں دلچسپ کشمکش،کس کے لئے مسئلہ

رپورٹ: عمران عثمانی

پاکستان اور جنوبی افریقا کی کرکٹ ٹیموں کے مابین جہاں آج ٹی 20 سیریزکی ٹرافی کی جنگ ہوگی،وہاں کچھ اور بھی مقابلہ میں ہوگا.ٹی 20سیریز کی ٹرافی جیتنے کی ریس سے جنوبی افریقا تو نکل گیا کیونکہ اسے سیریزکی برابری کے لئے آج آخری میچ میں فتح درکار ہوگی کیونکہ وہ 1-2 سے خسارے میں ہے،وہ زیادہ سے زیادہ جیت کر 2-2 سے برابر کرسکتا ہے لیکن پاکستان کے پاس گولڈن موقع ہے کہ وہ پروٹیز کے خلاف ٹی 20 سیریز بڑے مارجن سے جیتے اور ایسا پہلی بار ہوگا اور یہ بھی پہلی بار ہوگا کہ پاکستان مسلسل دوسری سیریز میں پروٹیز کو شکست دے،فروری 2021 میں پاکستان نے اپنے میدانوں میں جنوبی افریقا کے خلاف سیریز جیتی تھی اور اب اپریل میں سیریز جیتنے سے اوپر تلے 2 سیریز کافاتح بننا ایک نرالا کارنامہ ہوگا.

پاکستان اور جنوبی افریقا کی ٹیموں کے مابین جہاں یہ جنگ ہوگی وہاں ان کے پلیئرز کے مابین بھی ایک مقابلہ جاری ہے ،جس کا فیصلہ بھی آج کے میچ کے فوری بعد ہوجائے گا،یہ مقابلہ ہے پاکستان اور جنوبی افریقا کی بیٹنگ لائن کا.ٹاپ بلے بازوں کا اور اسی طرح بائولنگ کا کہ دونوں جانب کے گیند باز کہاں کھڑے ہونگے.

فیصلہ کن ٹی 20 آج،پاکستان کا کیا کچھ دائو پر،3 خاص پیغامات،3 بڑے خطرات

حال ہی میں ایک روزہ کرکٹ میں دنیا کے نمبر ون بیٹسمین بننے والے پاکستانی کپتان بابر اعظم نے گزشتہ میچ میں ایک سنچری بناکر نیامقابلہ چھیڑ دیا ہےکہ 4 میچز کی ٹی 20سیریز کا ٹاپ اسکورر کون ہوگا.بابر اعظم تو ریس میں آہی گئے ہیں لیکن ان کے مقابل جنوبی افریقا کے ایڈن مارکرم کھڑے ہیں .اس وقت تک بابر اعظم 3میچزکی 3 اننگز میں 62 کی اوسط سے186اسکور کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں.جنوبی افریقا کے ایڈن مارکرم اتنے ہی میچز کی اتنی ہی اننگز میں 56کی اوسط سے 168 رنزبناکر دوسرے نمبر پر ہیں اور بابر کے صحیح مقابل ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ بابر نے اگر ایک نصف سنچری اور ایک سنچری بنائی ہے تو مارکرم تینوں میچز میں 3ہاف سنچریز بناچکے ہیں،ان کی کارکردگی میں بلا کا تسلسل ہے.پاکستان کے محمد رضوان بھی 3میچزکی 3 اننگز میں 147کی اوسط سے 147 اسکور کرکے بابر کے بیک اپ پر اور مارکرم کے تعاقب پر ہیں.رضوان کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ ایک ہی بار سیریزمیں صفر پر آئوٹ ہوئے،باقی دونوں اننگز میں ہاف سنچریز بناکر ناقابل شکست گئے.جنوبی افریقا کے ہنریک کلاسین 3میچزکی 3اننگز میں 101 رنزبناکر چوتھے نمبر پر ہیں.ان 4کھلاڑیوں کے علاوہ کوئی بھی بیٹسمین تاحال سیریزمیں 100 اسکور تک نہیں پہنچ سکا.محمد حفیظ کے لئے یہ سیریز دھیمی جارہی ہے،انہوں نے 3میچزکی 2 اننگز میں 45 اسکور کئے ہیں.فہیم اشرف اور فخرزمان کے 35،35 اورحیدر علی کے 3میچزکی 2اننگزمیں صرف 26رنزہیں.

بیٹنگ میں تو پاکستانی کھلاڑی کچھ بہتر ہیں لیکن بائولنگ میں پاکستان کے گیند باز بہت ہی پیچھے جارہے ہیں.پروٹیز کے لیزڈ ولیمز 3میچزمیں 21کی اوسط سے 5وکٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں.محمد نواز 88 اورحسن علی 91رنز کے عوض 4،4 وکٹ لے کر دوسرے و تیسرے نمبر پر ہیں.تبریز شمسی،لنڈے اور ہینڈرک کی 3،3وکٹیں ہیں.شاہین آفریدی نے 3میچزمیں صرف 2وکٹیں لی ہیں.فہیم اشرف کی 3میچز میں ایک اور حارث رئوف کی 2میچز میں صرف ایک وکٹ ہے.

پاکستانی بائولنگ لائن کا جائزہ لینے کے بعد یہ تو واضح ہوا کہ ہماری بائولنگ لائن ناکام جارہی ہے اور بنیادی بائولرز وکٹ لینے میں کامیاب نہ ہوسکے،یہ ایک الارمنگ صورتحال ہے کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب حریف ٹیم میں 3 ٹاپ بیٹسمین نہیں ہیں تو اس کے باوجود اس بائولنگ لائن کا یہ حال کیوں ہوا ہے.اس پر زبردست توجہ کی ضرورت ہے،اسی طرح اگر ایڈن مارکرم آج چوتھی ففٹی کرگئے اور بابر یا رضوان میں سے کوئی ایک بھی نہ چلے ،بھلے محمد حفیظ یا حیدر وغیرہ ہی چل گئے تو پاکستان بیٹنگ کے شعبہ میں پہلی پوزیشن کھودے گا اور یہ کوئی اچھی بات نہیں ہوگی.اسی طرح اگر بائولرزکی کارکردگی بھی گزشتہ میچز والی رہی تو پھر یہاں بھی حریف بائولرز یا ایک بائولر آگے نکل جائے گا تو پاکستان کے بیٹسمین اور بائولرز کو اس شعبہ میں بھی سخت مقابلہ کی توقع ہے.