آئی پی ایل 2021، کوہلی اور روہت شرما آمنے سامنے،پہلی ناکامی کس کی،روایت سے نتیجہ واضح

آئی پی ایل کی 5 بار کی چیمپئن ممبئی انڈینز کا یہ ریکارڈ ہی اس کے وزن میں اضافہ کے لئے کافی ہے ،2013میں پہلی بار اپنے ماتھے پر چیمپئن کا تاج سجانے والی ٹیم اس کے بعد 2،2 سال کے وقفہ سے 2015،پھر 2017 اور پھر 2019 میں فاتح بنی.پھر اس نے اس لائن کو بھی تبدیل کردیا جب گزشتہ سال 2020میں بھی وہ جیت گئے.گویا مسلسل 2بار چیمپئن بن گئے،2021 میں اس کی مہم کس سے شروع ہورہی ہے.رائل چیلنجرز بنگلور سے آمنے سامنے آکر وہ ایک اور ٹائٹل کے لئے تیاری شروع کرے گی.

اب جبکہ بھارت میں تازہ ترین ایام میں ایک لاکھ سے زائد کورونا ٹیسٹ مثبت آگئے ہیں ،ایسے میں انڈین پریمیئر لیگ 2021 کی وسل بجنے کو ہے.جمعہ 9 اپریل کو چنائی میں پہلا میچ کھیلا جارہا ہے.گزشتہ سال ان ایام میں آئی پی ایل کے التوا کی خبریں کنفرم ہوگئی تھیں. پھر یہ ایونٹ ستمبر کے آخر میں عرب امارات میں شروع ہوااور نومبر کے وسط میں جاکر ختم ہوا.

پانچ ماہ بعد ایک بار پھر دنیا کے ریڈرا پر آئی پی ایل ہے جس نے 30 مئی کو ختم ہونا ہے .گویا 30 مئی تک گزشتہ 7 ماہ میں سے 4 ماہ کے قریب کا عرصہ ڈومیسٹک لیگ کے لئے وقف ہوگیا اور آئی سی سی گلوبل ایونٹسن جیسے ورلڈ ٹی 20 اور خواتین ورلڈ کپ اور اس کے کوالیفائرز سمیت کئی ممالک کے باہمی دورے بھی شدید متاثر ہوئے اور ملتوی ہوگئے.اس بار تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے بھارتی بورڈ نے طے کر رکھا ہے کہ ہرحال میں ایونٹ ہوگا.جمعہ کو ابتدائی معرکہ میں موجودہ بھارتی تاریخ کے 2 کامیاب بیٹسمین آمنے سامنے ہونگے.حال کے کپتان ویرات کوہلی اور ان کا متبادل نامزد کرنے والوں کے پسندیدہ کھلاڑی روہت شرما قیادت کرتے دکھائی دیں گے.

ممبئی انڈینز جس نے 5 ماہ قبل ٹرافی اٹھائی ،اسے قلیل عرصے میں پھر دفاع کا چیلنج درپیش ہوگا .روہت شرما کی قیادت میں کھیلنے والی ٹیم کے لئے ایک بڑا مسئلہ بھی ہے اور ایک اچھا ریکارڈ بھی. دوسری جانب کئی سالوں سے آئی پی ایل میں ناکام چلے آرہے ویرات کوہلی کے لئے ایک بار پھر سنگین سوال ہوگا کہ وہ بنیادی طور پر اچھے کپتان ہیں یا نہیں کیونکہ جب بھی وہ لیگ کھیلتے ہیں ،اکثر ناکام ہوتے ہیں اور ان کے ناقدین پھر بھارتی محدود اوورز ٹیم کے لئے ان کا متبادل روہت شرما تجویز کرتے ہیں .کل ان کے پاس غیر ملکی پلیئرز کی خاصی بیٹری موجود ہوگی لیکن ٹریک ریکارڈ پر ان کے اپنے حوالہ سے کچھ خاص موجود نہیں ہے .البتہ ممبئی ٹیم کے ساتھ چلی آرہی ایک بدقسمت روایت ان کی معاون ہوسکتی ہے.پہلے ٹریک ریکارڈ کی بات کر لیتے ہیں.آخری سال اس نے سپر اوور میں فتح نام کی تھی. یہ ایک مثبت بات ہے مگر کوہلی کی ٹیم آخری 10 باہمی میچز میں سے 8 ہاری ہوئی ہے .یہ نہایت ہی سنگین خطرے کی بات ہے .مجموعی طور پر دونوں میں 27بار مقابلہ ہوا ہے.18میچز ممبئی انڈینز کے حصہ میں آئے جبکہ 9میچزمیں رائل چیلنجرز ٹیم کا میاب ہوئی.

بد قسمت روایت کی بات کریں تو وہ کوہلی کے لئے خوش قسمت ہوسکتی ہے اور روہت شرما کے لئے مزید گلے کا تعویذ .وہ یہ کہ ممبئی انڈینز گزشتہ 8 سال سے ایونٹ کا پہلا میچ ہارتی آرہی ہے .یہ جھکڑ اب بھی چلا تو اس کا کوہلی کو فائدہ ہوسکتا ہے لیکن باقی اوور آل ریکارڈ میں خسارہ ہی خسارہ ہے.اس کی کمی دور کرنے کے لئے کوہلی کے پاس ڈی ویلیئرز،گلین میکسویل،ڈینیل کرسٹین،کیل جیمسن بھی موجود ہیں جو رائل چیلنجرز بنگلور میں بجلی بھر سکتے ہیں .ممبئی انڈینز کیرون پولارڈ،ٹرینٹ بولٹ اور جمی نیشام کی خدمات حاصل ہونگی.وکٹ پر بڑے اسکور کی توقع کم ہے.تاس جیتنے والی ٹیم فیلڈنگ کو ترجیح دے گی.پاکستانی وقت کے مطابق میچ رات 7بجے شروع ہوگا.ممبئی انڈینز روایات کے تحت شکست کے ساتھ کھاتہ کھول سکتی ہے اور یہ بات کوہلی کے لئے باعث خوشی ہوگی.

اپنا تبصرہ بھیجیں