کنگسٹن جمیکا،پہلے ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم میں کون کون اور بارش کا کتنا خوف

0 23

تجزیہ : عمران عثمانی
ایک جانب انگلینڈ بھارت ٹیسٹ سیریز کا چرچا ہے،جب ٹرینٹ برج میں فتح بھارت کی مٹھی سے نکل گئی اور بارش کی وجہ سے میچ ڈرا ہوگیا،دوسرے ٹیسٹ کے لئے لارڈز میں صف بندی ہورہی ہے اور اس کے لئے انگلش کیمپ کو معین علی کی یاد آگئی ہے جنہیں درجنوں بار ڈراپ کرکے واپس لایا جارہا ہے،سٹورٹ براڈ کے ان فٹ ہونے کی باتیں ہیں تو انگلش ٹیم میں 3 تبدیلیوں کی بات کی جارہی ہے.دوسری جانب اسی 12 اگست سے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں پہلے ٹیسٹ کے لئے تیاری کرچکی ہیں،ٹیم نے منگل کو جمیکا میں جم کر نیٹ پریکٹس کی اور درمیان میں اب ایک ہی روز باقی ہے،ایسے میں اگر انگلش کیمپ میں بھارت کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے لئے ٹیم سلیکشن کلیئر ہوچکی ہے تو سوال ہورہا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں پہلا ٹیسٹ کون کون کھیلے گا.
پاکستان نے آخری ٹیسٹ سیریز زمبابوے میں کھیلی تھی اور اس سے قبل ہوم گرائونڈز میں جنوبی افریقا کے خلاف،دونوں ہی اگر چہ جیتی تھیں لیکن دونوں مقام کمزور تھے،مطلب پاکستان کے لئے زیادہ قابل تعریف نہیں تھے،پھر پرفارمنس بھی ملی جلی ہی دیکھی گئی تو ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں کون کون ہوسکتا ہے.
پہلے ٹیسٹ کے اوپنرز
عمران بٹ اور عابد علی اوپنرز کے طور پر آئیں گے،اگرچہ عابد علی نے گزشتہ پورا سال مشکل میں گزارا،آخر میں زمبابوے کے خلاف وہ کطھ فارم میں آئے لیکن وہ ایک کمزور حریف سائیڈ ہے،اس لئے ابھی انہیں اپنے آپ کو بہتر کرنا ہوگا،عمران بٹ کا ٹیسٹ کرکٹ میں سٹرائیک ریٹ زیادہ اچھا نہیں ہے،اس لئے ان کے حوالہ سے بھی کسی خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے.
ٹاپ آردڑز اور مڈل آرڈرز
اگلے نمبرز پر بابر اعظم،اظہر علی ہونگے،ان میں سے دونوں کا چلنا ضروری ہے،اظہر علی زیادہ تجربہ کار ہیں،گزشتہ دورہ ویسٹ انڈیز میں 2 سنچریز کرچکے ہیں،اس لئے ان کا اعتماد بحال ہوگا.2017کے دورہ ویسٹ انڈیز میں بابر اعظم کے لئے ابھی شروعات کا دور تھا،اس کے باوجود انہوں نے چند ہاف سنچریز بنائی تھیں لیکن اب انہیں بھی تھری فیگر اننگ کی ضرورت ہوگی.فواد عالم اور محمد رضوان بھی لازم و ملزوم ہیں.فواد عالم ہر سیریز میں سنچری کرتے آئے ہیں،ان کی ملک سے باہر سنچریز زیادہ ہیں،ویسٹ انڈیز میں سنچری اننگ کا مطلب یہ ہوگا کہ انہیں دنیا ایک مستند بیٹسمین تسلیم کر لے گی.آل رائونڈر کے طور پر حسن علی ہی چوائس ہونگے جو پاکستان کی گزشتہ 2 ٹیسٹ سیریز سےکم بیک کرنے میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے بال اور بیٹ دونوں سائیڈز سے اپنی اہمیت واضح کی تھی.اسپنرز میں یاسر علی اور نعمان علی شامل ہیں ،اب دیکھنا یہ ہوگا کہ دونوں کھلائے جاتے ہیں یانہیں.اگر دونوں کھیلتے ہیں تو پاکستان کو حسن علی سمیت 3 پیسرز کے ساتھ جانا پڑے گا اور ویسٹ انڈیزکی وکٹوں پر یہ مشکل ہوگا.نعمان علی نے جنوبی افریقا اور زمبابوے کے خلاف اپنی پرفارمنس سے جگہ بنائی تھی،ان کو ڈراپ کر کے یاسر شاہ ہی کو کھلانا بڑا فیصلہ ہوگا.پیسرز میں شاہین آفریدی کے ساتھ کون ہونگے.شاہ نواز دھانی،نسیم شاہ،محمد عباس،حارث رئوف اور فہیم اشرف موجود ہیں.حسن علی کے ساتھ فہیم اشرف کو نہیں کھلایا جاسکتا،اب محمد عباس نے بھی طویل وقت و ناکامی کے بعد واپسی کی ہے.
نئی ٹیسٹ کیپ
شاہ نواز دھانی کو پہلے ہی ٹیسٹ میں کیپ کا ملنا ایک خوشگوار عمل ہوگا لیکن یہ نہایت ہی مشکل لگتا ہے.محمد عباس پہلی چوائس بنیں گے اور ان کے ساتھ نسیم شاہ بھی لیکن اگر پاکستان 2 اسپنرز کے ساتھ گیا تو پیسرز میں شاہین،عباس اور نسیم ہوسکتے ہیں،ورنہ نسیم کی جگہ شاہ نواز کو مل سکتی ہے.
پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی ممکنہ الیون
جیسا کہ اوپنرز اور ٹاپ آرڈر کا ذکر ہوچکا ہے،عبد اللہ شفیق اور سعود شکیل بھی موجود ہیں لیکن یکدم یہ منیجمنٹ اتنے زیادہ رسک نہیں لے گی،انساف کی بات دیکھی جائے تو نسیم شاہ ،یاسر شاہ اور محمد عباس اپنی ناکام پرفارمنس کی وجہ سے ہی ڈراپ کئے گئے تھے،اب ان کی واپسی کسی بڑی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں ہے،اس لئے ان کے اعتماد کی بحالی کی کوئی بات کی نہیں جاسکتی،البتہ چونکہ تجربہ کار ہیں،اس لئے ان کی سلیکشن کی توقع کی جاسکتی ہے.
پاکستانی ٹیم منیجمنٹ کی عادت اور موڈ
مصباح الحق،وقار یونس اور بابر اعظم کے ٹرائیکا کے بارے میں گزشتہ ایک سال سے یہ دیکھا گیا ہے کہ دفاعی سوچ ہے،نئے لڑکوں کو شکست کے ڈر سے کھلایا نہیں جاتا ہے،اس لئے ویسٹ انڈیز کی سیریزمیں بھی یہ خوف غالب رہے گا،چنانچہ جنوبی افریقا اور زمبابوے کے خلاف سیریز کا کمبی نیشن برقرار ہوگا ،البتہ چونکہ ویسٹ انڈیز میں سیریز ہے تو اس کے لئے تجربہ کار پلیئرز پر انحصار کرنا مجبوری ہوگا.شاہ نواز دھانی کو اگر ٹیسٹ کیپ مل جائے تو یہ اچھا ہوگا،پاکستان کے لئے وہ بہتر ثابت ہونگے اور ویسٹ انڈین بیٹسمینوں کے لئے وہ کھلا سر پرائز ہونگے،باقی محمد عباس اپنی سپیڈ کھوچکے ہیں،کائونٹی کرکٹ میں اس سال وہ زیادہ کامیاب نہیں ہوئے ہیں،اسی طرح یاسر شاہ کے لئے بھی مسئلہ ہوگا.پاکستان اگر نسیم شاہ اور محمد عباس کے ساتھ بیک وقت کھیلنے گیا تو مشکلات ہونگی،ان میں سے ایک کا کھلانا بنتا ہے،اسی طرح چوتھے پیسر کے لئے دونوں کھیل سکتے ہیں.ٹیم میں حسن علی کے ساتھ شاہین آفریدی،شاہ نواز دھانی اور محمد عباس موزوں رہیں گے،ادھر ایک اسپنر کے لئے یاسر شاہ بہتر چوائس ہونگے کیونکہ ان کے پاس 2017 کی ویسٹ انڈیز سیریز میں حاصل کی گئی 25 وکٹوں کا بڑا تجربہ ہے اور وہ مین آف دی سیریز بھی قرار پائے تھے.
پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی شکل کچھ یوں بنتی لگتی ہے کہ عابد علی اور عمران بٹ کے بعد اظہر علی،بابر اعظم،فواد عالم،محمد رضوان،حسن علی،یاسر شاہ،شاہین آفریدی،محمد عباس اور شاہ نواز دھانی.ٹیم منیجمنٹ وکٹ کو دیکھے یا نہ دیکھے،سمجھے یا نہ سمجھے،ویسٹ انڈیز میں پہلے 2 روز پیسرز کے لئے ماحول اچھا ہوتا اور وکٹ مدد گار ہوتی ہے،آخری دنوں میں اسپنرز کا کردار اہم ہوجاتا ہے لیکن پاکستان کی ابتدائی ٹی 20 سیریز مکمل طور پر بارش کی نذر ہوچکی ہے اور اب نہایت افسوسناک بات یہ ہے کہ میچ کے تمام پانچوں روز شدید بارش کا امکان ہے،اس لئے یہ ٹیسٹ میچ بھی متاثر ہوسکتا ہے.
یہ پوسٹ بھی اسی سے متعلق ہے
ویسٹ انڈیز میں 59 برس بعد جب پاکستان پہلی ٹیسٹ سیریز جیتا

Leave A Reply

Your email address will not be published.