کنگز ٹھس،پشاور زلمی نے کراچی کا پتہ صاف کردیا،آج اسلام آباد سے ٹاکرا

0 32

پی ایس ایل 6 سے کراچی کنگز کا بوریا بستر گول،نمبر 3 رینک کی ٹیم پشاور زلمی نے نمبر 4 رینک کی ٹیم کو ایلیمنٹر ون میں 5 وکٹ سے شکست دے کردفاعی چیمپئن کراچی کنگز کا پتا صاف کردیا،زلمی کے لئے حشمت اللہ زائی نے جارحانہ بلے بازی کرکے 176 رنز کا ہدف آسان بنادیا تھا لیکن شعیب ملک جیسے بوڑھے کھلاڑی اور امام الحق جیسی پچی سلیکشن نے زلمی کو آخر تک سولی پر لٹکائے رکھا اور بظاہر آسان بنے میچ کو بڑی مشکل سے آخری اوور میں اپنے نام کیا ہے.اب پشاور زلمی ٹیم آج اسلام آباد کے خلاف ایلیمنٹر 2 میں مدمقابل ہوگی،اس میچ کی فاتح ٹیم 24 جون کو ملتان سلطانز سے پی ایس ایل 6 ٹرافی کے لئے فائنل میں ٹکرائے گی گی جبکہ آج کی ناکام سائیڈ بھی گھر کی راہ لے گی.
کراچی کا فائدہ
کراچی کنگز کے لئے اطمینان کی بات تو یہ تھی کہ اسکور بورڈ پر 175 کا ہندسہ جگمگا رہا تھا،سامنے کوئی اتنی بڑی یا معتبر بیٹنگ لائن نہیں تھی کہ فکر کی جاتی اور اس ٹیم کو فکر ہوتی بھی کیسے کی جس نے ٹاس جیت کر اپنی مرضی کا بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور 14 اوورز کے بعد وقفہ میں بابر اعظم نے کہا کہ ان کا ہدف 160 اسکور کرنا ہے .کراچی کنگز نے تو اس سے بھی زیادہ 176 کرلیا تھا.کراچی کنگز کو اننگ کےا ختتامی اوورز میں بہت فائدہ ہوا جب پشاور زلمی کے فیلڈرز نے4 آسان کیچز ڈراپ کرکے اسکور بنوانے میں مدد فراہم کی،ایسا لگتا تھاکہ جیسے پشاور کےفیلڈرز بد حواس اور بائولرز بری طرح تھک گئے ہیں کیونکہ گیند بازوں سے بال ہی نہیں ہورہی تھی،اس کا بھر پور فائدہ اٹھا یا گیا.تشارا پریرا نے18 بالز پر 37 کی اننگ کھیل ڈالی،عماد وسیم نے بھی 9 بالز پر 16اسکور لوٹ لئے.اس سے قبل بابر اعظم نے 53کی اننگ کچھ زیادہ اچھی نہیں کھیلی کیونکہ اس کے لئے وہ 45 بالز کھیل گئے تھے،اسی طرح شرجیل خان نے 26 رنز کے لئے 20 بالز لیں،پھر بھی یہ پشاور کی فیلڈنگ کی مہربانی اور آخر کے بلے بازوں کی ہمت تھی کہ انہوں نے اسکور مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹ پر 175 تک پہنچادیا .ایک موقع پر 17 اوورز اور 4 بالز پر اسکور 142 تھا.پشاور زلمی کی جانب سے محمد عرفان نے 21،وہاب ریاض نے 29 اور عمید آصف نے 37 رنز دے کر 2،2 وکٹیں لیں.خالد عثمان مہنگے بائولر رہے جنہوں نے 4 اوورز میں 45 رنز دیئے اور کوئی وکٹ نہیں لی.
وہم و گمان
پشاور زلمی نے جب بیٹنگ شروع کی تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ حشمت اللہ ززائی کا دن تھا،انہوں نے محمد عامر،عماد وسیم سمیت کسی کو نہیں چھوڑا،ان کا کما ل یہ تھا کہ جہاں اور جیسی شاٹ کھیلتے گئے ،اسکور بنتے گئے،انہوں نے شروع سے ہی 10 کی اوسط سے بیٹنگ کی اور وکٹ کے چاروں جانب کلاسیکل اسٹروکس کھیلے،کبھی بلند و بالا چھکے ہوتے تو کبھی تیز شاٹس.کراچی کنگز کے بائولرز کی سب تدبیریں ان کے سامنے فلاپ ہوگئیں.کامران اکمل ان کے ساتھ تھے مگر بڑا فائدہ نہ اٹھاسکے،کہنے کو انہوں نے 28 بالز پر 49 رنزکی اوپننگ شراکت قائم کی تھی لیکن وہ خود 12 بالیں کھیل کر صرف 13 ہی اسکور کرسکے.اس کے بعد امام الحق 17 بالیں ضائع کرکے صرف11کرکے بوجھ ہی ڈال کر گئے.دوسری جانب حشمت اللہ نے جب 70سے زائدا سکور کرلئے تھے تو انہیں اب تیز ہٹنگ کی ضرورت نہیں تھی،وہ آرام سے کھیل کر سنچری کی جانب جاسکتے تھے لیکن شاید انکی طبعیت میں بھی جلاد پن غالب ہے کہ اچھی پوزیشن ہونے اورٹیم کے 100 اسکور 11اوورز میں مکمل ہونے کے باوجود بھی پریرا کی بال پر مارٹن گپٹل کو کیچ دے گئے،انہوں نے صرف 38 بالیں کھیلیں اور 77 اسکور بنائے،جس میں 5 چھکے اور 10 چوکے شامل تھے.ان کے آئوٹ ہونے کے بعد حالت یہ تھی کہ پشاور زلمی کو جیت کےلئے51 بالز پر 73 اسکور کی ضرورت تھی .شعیب ملک اور خالدعثمان نے دفاعی لائن اختیار کی جس کے نتیجہ میں میچ پھنستا نظر آیا لیکن شعیب ملک نے 100 کے اسٹرائیک ریٹ مطلب جتنی بالیں ،اتنے رنزکی پالیسی جاری رکھی.16 ویں اوور کی آخری بال پر چھکا لگا کر صورتحال کو اپنے حق میں کردیا،اب پشاور کو 4 اوورز مطلب 24 بالز پر 33 رنزکی ضرورت تھی.
کشمکش عروج پر
پشاور زلمی اور کراچی کنگز میں کشمکش عروج پر تھی،زلمی کیمپ پریشان تھا تو کنگز کی حالت بھی دیکھنے والی تھی،دونوں بیٹسمینوں نے آسان میچ کو مشکل سے مشکل تر بناڈالا تھا .شکست کا مطلب گھر کا راستہ تھا اور فتح کا مطلب اسلام آباد سے ایک اور ناک آئوٹ کھیل کر فائنل اور پی ایس ایل ٹرافی اٹھانے کا موقع تھا،دونوں ٹیمیں اب ایڑی چوٹی کا زور لگارہی تھیں.محمد عامر نے 17 واں اوور کافی ٹائٹ کیا ،جس سے زلمی کے بلے بازوں ملک اور کالد عثمان کا دبائو میں آنا لازمی تھا ،نتیجہ میں اوور کی آخری بال پر عثمان نے عامر کو چھکا دے مارا اور اپنےلئے حالات تھوڑے کیا بہت اچھے کرلئے.17 اوورز میں ٹیم کا اسکور 154 ہوگیا تھا اور صرف 3 آئوٹ ہوئے تھے جبکہ 7 وکٹیں‌باقی تھیں اور مزے دار بات یہ تھی کہ اب فتح 18 بالز پر 22 رنزکی دوری پر تھی.محمد الیاس نے خالد عثمان کو 17 کےا نفرادی اسکور پر بولڈ کرکے ہلچل مچادی ،ٹیم کا اسکور اس وقت 155 تھا.کراچی کنگز کے کیمپ میں خوشی کی لہر آگئی تھی.پھر بھی زلمی نے جب اوور کا اختتام کیا تو فتح 12 بالز پر 14 رنزکی دوری پرتھی.
کہانی ابھی ختم نہیں
کہانی ابھی ختم نہیں بلکہ عروج پر جارہی تھی.محمد عامر نے تجربہ کار بیٹسمین شعیب ملک کو وکٹ کیپر والٹن کے ہاتھوں کیچ کروادیا،ملک نے 25 بالیں کھیلیں اور 30 رنزبنائے،ایسے وقت آئوٹ ہوئے جب فتح قریب تھی لیکن وہ ٹیم کو نہیں جتواسکے.اسی اوور میں شرفین ردر فرڈ نے عامر کو چوکا رسید کرکے ہدف 10سے کم کردیا کیونکہ آخری اوور میں کم سے کم اسکور کو رکھنا لازمی تھا.عامر کا جب اوور تمام ہوا تو پشاور زلمی ابھی بھی 7رنزکی دوری پر تھا.محمد الیاس کی پہلی بال پر ردر فرڈ کا کیچ ڈرا پ ہوگیا.زلمی نے سکھ کا سانس لیا تو کنگز والے بھی مطمئن رہے کہ سنگل ہی تو بنا ہے.3 بالز پر 5 رنز درکار تھے کہ ردر فرڈ نے چوکا دے مارا،اب 2 بالز پر سنگل لینا تھا،میچ ٹائی ہوگیا تھا.ردر فرڈ نے کیچ کھڑا کردیا تھا لیکن کراچی کنگز کے فیلڈر پکڑنے میں ناکام رہے،ہدف ایک بال قبل 5 وکٹ پر پورا ہوگیا،ردر فرڈ10 بالز پر 17 رنزکےساتھ ناٹ آئوٹ گئے.کراچی کنگز کی جانب سےتشارا پریرا نے 10 رنز دے کر 2 وکٹیں لیں جبکہ محمد عامر ،محمد الیاس اور نور احمد نے ایک ایک آئوٹ کیا.

Leave A Reply

Your email address will not be published.