کراچی ٹیسٹ کی ٹیم سلیکشن،میچ کا نتیجہ آگیا،اب ایک بات کا انتظار،سنسنی خیز رپورٹ

0 35

پاکستان اور جنوبی افریقا کے ممکنہ کھلاڑٰیوں کے مکمل کیریئرز ،ریکارڈز،اعدادوشمار کی روشنی میں ٹیموں کے کمبی نیشن،طاقت وصلاحیت کا کائونٹر جائزہ،سامنے آنے والے اعدادوشمار کی روشنی میں ٹیم سلیکشن،ممکنہ الیون کا پوسٹ مارٹم،چیف سلیکٹر کے ویژن،تھنک ٹینک کی پلاننگ اور کپتان کی ذہنی پختگی کا آئینہ،پاکستان کی لکھی تقدیر کا ورق پلٹنے کی ایک کوشش
قاعدہ یہ ہے
قاعدہ یہ ہےکہ ٹیم کمبی نیشن،مربوط حکمت عملی ،جاندار پلاننگ مشکل سے مشکل صورتحال میں بھی گھٹنے ٹیکنے نہیں دیتی۔7آئوٹ ہوجائیں یا اسکور بورڈ پر 300 کا پھٹہ لگ جائے اوربائولرز 2سے زائد وکٹ نہ لے پائے ہوں توبھی ٹیم کمبی نیشن،مربوط پلاننگ اورپر مغز حکمت عملی سے 7آئوٹ ہونے کے باوجود بھی ہدف حاصل ہوجاتا ہے اور 300 پر 2آئوٹ سے 338پر پوری اننگ لپیٹ دی جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ ٹیم کے پاس کمبی نیشن،حکمت عملی کی صلاحیت،پلانر اور دماغ موجود ہیں؟
جواب دینے سے پہلے اسی سے متعلق حقیقی پیمانہ کا سہارا لیتے ہیں۔

کراچی ٹیسٹ

جنوبی افریقا کے خلاف کراچی ٹیسٹ آج 26 جنوری سے شروع ہورہا ہے،اس میچ کے لئے پاکستان کی ممکنہ 11 رکنی ٹیم کی پرفارمنس کو دیکھتے اور جمع کرتے ہیں۔کپتان بابر اعظم 29ٹیسٹ میچز میں45کی اوسط سے 2045رنزبناچکے ہیں،5سنچریز،15ہاف سنچریز ہیں۔اوپنر عابد علی کے اتنی ہی اوسط سے 8میچزمیں2سنچریز اور ایک ففٹی کی مدد سے536رنزہیں۔دوسرے اوپنر کے لئے عمران بٹ کا نام آیاہے،ٹیسٹ ڈیبیو کے امیدوار 72فرسٹ کلاس میچزمیں صرف 36کی اوسط سے بلے بازی کرسکے ہیں۔132 اننگزمیں10سنچریز اور 23 ہاف سنچریز ہیں .
دلچسپ بات یہ ہے کہ موصوف 26ویں سال میں داخل ہوچکے ہیں،انہیں انٹر نیشنل کرکٹ کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ٹیم میں سب سے تجربہ کار بیٹسمین اظہر علی نے 83 میچزکی156 اننگزمیں 6302رنزکررکھے ہیں۔17 سنچریز،32 ہاف سنچریز اور 43کی قریب اوسط ہے۔فواد عالم کے 7میچزمیں 33کی اوسط سے 400رنز اور 2سنچریز ہیں۔وکٹ کیپر ونائب کپتان نے11میچزمیں 39کی اوسط سے 588رنزکئے ہیں،6نصف سنچریز ہیں اور کوئی سنچری نہیں۔یہ پاکستان کی متوقع بیٹنگ لائن اپ ہے۔
ٹیسٹ ٹیم میں واپسی
2 سال بعد پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں واپسی کرنے والے حسن علی9میچزمیں 155رنزہیں۔28کیاوسط سے 31وکٹیں ہیں،ایک اور آل رائونڈر فہیم اشرف ہیں جنہوں نے6 ٹیسٹ میچزمیں32 کی اوسط سے2ہاف سنچریز کی مدد سے324رنزبنائے ہیں اور32کی اوسط سے14وکٹیں لی ہیں۔حسن اور فہیم قومی ٹیم میں میڈیم پیسر کم بیٹسمین کے طور پر آئے ہیں۔ایک اور ڈیبیو امیدوار 34 سالہ نعمان علی ہیں،سلو لیفٹ آرم اسپنرکی 79فرسٹ کلاس میچزمیں 285وکٹیں ہیں اور وہ عمر کے اس حصے میں ڈیبیو کرکے روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں گے۔43 ٹیسٹ کھیلنے والے یاسر شاہ کے ایک سنچری کی مدد سے774رنز اور31کی بھاری اوسط سے 227وکٹیں ہیں۔شاہین آفریدی 13میچزمیں صرف 81 اسکور کرسکے اور33کی ایوریج سے 41آئوٹ کرسکے ہیں۔یہ پاکستان کے ان 11ممکنہ کھلاڑیوں کی پرفارمنس ہے جوآج کراچی میں اتریں گے۔
ٹیسٹ الیون کے تمام میچز
ان کے علاوہ کیمپ میں 36 سالہ تابش خان ہونگے،کوئی انٹر نیشنل میچ نہیں ہے۔25 سالہ سعود شکیل ہونگے،کوئی انٹر نیشنل میچ نہیں۔49ٹیسٹ کھیلنے والے سرفراز احمد ہونگے 36سے زائد کی اوسط سے3سنچریز اور 18ہاف سنچریز کی مدد سے2657رنزبنانے والے سابق کپتان شاید پانی پلاتے نظر آئیں گے۔27 سالہ اسپنر ساجد خان ہونگے،کوئی انٹر نیشنل میچ نہیں ہے۔27سالہ حارث رئوف کا بھی کوئی ٹیسٹ میچ نہیں ہے اور2016میں آخری ٹیسٹ کھیل کر واپسی کرنے والے محمد نواز ہونگے جن کے کیریئر میں صرف 3ٹیسٹ ہیں،اسپنر کی 5وکٹیں ہیں.پاکستان کی اوپردی گئی ممکنہ ٹیسٹ الیون کے تمام میچز جمع کئے جائیں تو یہ 209 بنتے ہیں۔11کھلاڑیوں کی مجموعی طور پر 27سنچریز بنتی ہیں۔ان 11کھلاڑیوں میں سے 2نے تو ڈیبیو کرنا ہے ،باقی 9کے11205رنز بنتے ہیں۔بائولرز کے پاس 331 ٹیسٹ وکٹ کا تجربہ ہے،اس میں سے اگر یاسر شاہ کی 227وکٹیں نکال دیں تو پیچھے پیسرز کے پاس صرف 104 ٹیسٹ وکٹیں بنتی ہیں۔پاکستان کی اس ممکنہ ٹیم کا یہ خلاصہ ذہن نشین کرلیں۔
اب جائزہ لیتے ہیں جنوبی افریقا کی ممکنہ 11 رکنی ٹیم کا
وکٹ کیپر اور کپتان کوئنٹن ڈی کاک 49میچز میں5سنچریز اور 21 ہاف سنچریز کی مدد سے38سے زائد کی اوسط سے2962رنزبناچکے ہیں،تجربہ کار فاف ڈوپلیسی کے67میچزمیں 41کی اوسط سے4108رنزہیں اور10سنچریز کے ساتھ 21 ہاف سنچریز ہیں۔ڈین ایلجر کے65میچز میں 40کی اوسط سے4141رنز،13سنچریز اور 15ہاف سنچریز ہیں۔ایڈن مارکرم کے22میچزمیں 1533رنز ہیں39 سے زائد کی اوسط،4سنچریز اور 7ہاف سنچریز ہیں۔
کاگیسوربادانے43میچزمیں 23 سے کم کی اوسط سے 197 وکٹیں لے رکھی ہیں،نورتج کی 8میچزمیں 30وکٹیں ہیں،لنگی نیگیڈی کی 7میچز میں22وکٹیں ہیں،اسپنر کیشو مہاراج32میچزمیں 110آئوٹ کرچکے ہیں۔
میں نے صرف 4 بیٹسمینوں اور 4بائولرز کاجائزہ بطور مثال پیش کیا ہے،دونوں سیکشن میں یہ 4 بیٹسمین پوری پاکستانی ٹیم سے زیادہ میچز،رنز،سنچریز بنانے کا تجربہ رکھتے ہیں،اسی طرح مذکورہ 4بائولرز میں سے خالی 2 ہی پاکستان کے پورے بائولنگ اٹیک سے زیادہ وزن،وکٹیں اپنی پاکٹ میں رکھتے ہیں،ابھی جنوبی افریقا کے ممکنہ اسکواڈز کے کئی اور نام باقی ہیں۔اس بڑے تجزیہ کا مطلب اس سوال کا جواب دینا ہے جو اس آرٹیکل کے آغاز میں کیا تھا کہ
پاکستان کی موجودہ ٹیم کے پاس کمبی نیشن،حکمت عملی کی صلاحیت،پلانر اور دماغ موجود ہیں؟
جواب ہے کہ نہیں ۔چیف سلیکٹر پلاننگ،ٹیم سلیکشن کے سنہری اصول کہ مخالف ٹیم کی طاقت و صلاحیت دیکھ کر ٹیم منتخب کی جائے،کے قاعدے سے دور نظر آئے،مطلب ویژن سے عاری محسوس ہوئے ہیں۔
کپتان اور ہیڈ کوچ جو اس مشاورت میں شامل تھے،اس بڑے اصول کے حامی ہی دکھائی نہ دیئے۔
کوئی معجزہ ہی شکست سے بچاپائے گا
کراچی ٹیسٹ کی ٹیم , اب 11 رکنی سلیکشن اگر یہی ہوئی جو کہ بیان کی گئی ہے تو لکھ لیں کہ کوئی معجزہ ہی شکست سے بچاپائے گا۔کراچی کی وکٹ اسپنرز سے زیادہ پیسرز کے لئے سازگار رہی ہے،یہ کراچی کے 42 ٹیسٹ کی کہانی ہے ،یہ نیشنل اسٹیڈیم کی 65 سالہ تاریخ ہے۔اس کے باوجود اگر حسن علی،فہیم اشرف جیسے پیسرز یہاں کھلائے گئے اور 2اسپنرز ڈالے گئے تو نوشتہ دیوار سامنے ہے۔پروٹیز کے اچھے پیس اٹیک کے سامنے عابدعلی،عمران بٹ اور فواد عالم کے جمنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں،چنانچہ پہلے کھیلیں یا بعد میں،نتیجہ صفر بٹا صفر ہی گا۔کوئی معجزاتی پرفارمنس ہی بچاپائے گی.
خواہش بھی یہی ہوگی کہ ایسا معجزہ ہوجائے لیکن چارٹ یہی بنتا ہےجس کا ذکر کیا۔
چنانچہ پاکستانی ٹیم کا کمبی نیشن خراب،پلاننگ سے عاری سلیکشن اور حکمت عملی سے دور منیجمنٹ دکھائی دے رہی ہے،رہا گیم پلان ؟تو وہ ہم انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی سیریز میں دیکھ چکے،پاکستان میں بھی وہی ہوگا۔
قاعدہ یہ ہےکہ ٹیم کمبی نیشن،مربوط حکمت عملی ،جاندار پلاننگ مشکل سے مشکل صورتحال میں بھی گھٹنے ٹیکنے نہیں دیتی لیکن یہ قاعدہ یہاں فٹ بیٹھتا ہے؟
مزید بھی جواب کی ضروت ہے کیا؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.