جاوید میاں داد کو اچانک عبد القادر کی یاد آگئی،اہم انکشافات

جاوید میاں داد کو عبد القادر کی یاد ستانے لگی،پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان نے انکشاف کیا ہے کہ عبد القادر مرحوم کی بالز پر فرنٹ فٹ پرآئوٹ نہیں دیاجاتا تھا کیونکہ امپائرز کو عبد القادر کی بائولنگ کی سمجھ ہی نہیں آتی تھی،اس لئے آئوٹ پی جاتے تھے،انتخاب عالم اور مشتاق محمد سے کہیں بڑے کھلاڑی تھے،آج ان کا بیٹا عثمان قادر کھیل رہا ہے مگر دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے.

جاوید میاں داد نے اپنے آفیشل یو ٹیوب چینل پر بتایا ہے کہ عبد القادر نے پاکستان کے لئے جو نام پیدا کیا،اس کی مثال نہیں ملتی،وہ آج دنیا میں نہیں ہیں،حبیب بینک کے لئے جب میں کپتان تھا تو وہ میری کپتانی میں کھیلے،کمال بائولر تھے،لیگ اسپنر تھے،گگلی اور فلپر اسپیشلسٹ تھے،ان کی فلپر پیڈز پر لگتی تھی،آج کھیل رہے ہوتے تو وکٹوں کی لائن لگتی،اکثر ان کی بالیں پیڈز پر لگتی تھیں،امپائرز تک کو سمجھ نہیں آتی تھیں،ایسا لیگ اسپنر پاکستان کی تاریخ میں آج تک نہیں آیا،نہ میں نے دیکھا ہے.

جاوید میاں داد نے کہا ہے کہ وہ کلاسیکل بائولر تھے،وہ بہت پر اعتماد تھے،انہیں اپنے اوپر بہت اعتماد ہوتا تھا،انہیں اپنے اوپر بڑا اعتماد ہوتا تھا،جیسی مرضی فیلڈ لے لو،انہیں اپنی بالز پر کمانڈ تھا،میں خوش قسمت تھا کہ وہ میری کپتانی میں کھیلے.

جاوید میاں داد نے بتایا ہے کہ ہم دونوں بہت اچھے دوست بھی تھے،حبیب بینک کی ٹیم ایک وقت میں بہت اعلیٰ تھی،ہمارے وقت میں یہ‌ٹاپ کی ٹیم تھی،کہاجاتا تھا کہ بینک کی ٹیم کو پاکستان کے نام سے کھلادیا جائے،کبھی ہم رومال باندھ کر اندر جارہے ہوتے تھے،کبھی لائن بناکر جاتے،کچھ نہ کچھ کرتے رہتے تھے،بڑا فرینڈلی ماحول تھا،امپائرز اور پلیئرز میں اچھے تعلقات ہوتے تھے،ہم سب کی عزت کرتے تھے،آج کل کے دور میں ایسا کچھ نہیں ہے،اپنے آپ کو تھنڈا کرکے کھیلنا بھی ایک آرٹ ہے.عبد القادر جیسا بائولر آج تک نہیں دیکھا.

آج تو ریویوز کا دور ہے،بڑے چانسز ہیں،ہمارے دور میں تھرڈ امپائر تک نہیں تھا،ریویوز کا تو تصور ہی نہیں تھا ،وہ مشکل زمانہ کی کرکٹ تھی،میں جب بھی عبد القادر کو کچھ کہتا تھا تو عبد القادر جواب دیتے کہ کپتان ایسا کرلو،اسے اپنے اوپر بلا کا اعتماد تھا.عبد القادر ایک بڑے کرکٹر ہی نہیں بلکہ بڑے انسان بھی تھے.اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں کروٹ کروٹ سکون نصیب فرمائے.وہ بہترین انسان تھے.

عبد القادر پاکستان کے ٹاپ کلاس کوالٹی لیگ اسپنر تھے.2019 میں اچانک دل کے دورے سے وفات پاگئے تھے.پاکستان کے لئے 67 ٹیسٹ میچز کھیل کر 236 وکٹیں لیں جبکہ 104ایک روزہ میچز میں 132کھلاڑی بھی آئوٹ کئے.