لارڈز سے جمیکا،فتح و شکست کا بنیادی فرق،رمیز وانضمام بھی آگاہ

0 61

تبصرہ : عمران عثمانی
ایک پاکستان کرکٹ ٹیم تھی،جو ایک رات قبل ویسٹ انڈیز کے خلاف چوتھی اننگ میں مشکل ترین پچ پر 168 رنزکے ساتھ لڑ رہی تھی،سبائناپارک کنگسٹن جمیکا میں یہ آسان چیلنج تھا کیونکہ وہاں بال کا کوئی علم نہیں تھا کہ کہاں جائے گی،ایسے میں پاکستانی ٹیم نے 111 پر 7 کھلاڑی آئوٹ کردیئے،پھر 151پر ویں وکٹ بھی اڑادی،اب فتح کی راہ میں کیا حائل تھا لیکن ویسٹ انڈیز کے آخری3 ٹیل اینڈرز ،حتیٰ کہ آخری جوڑی نے بھی وہ کردیا جو نہیں ہونا چاہئے تھا اور اگلے روز ہوم آف کرکٹ لارڈز کرکٹ گرائونڈ میں بھارتی ٹیم تھی.159 کی لیڈ تھی.6 وکٹیں نکل گئیں،پھر 184 کی لیڈ تک ٹاپ 8 وکٹیں گر گئیں.وکٹ پر 2 بائولرز موجود تھے،شامی اور بمراہ نے برتری 271 تک کردی.یہی نہیں پھر انگلش ٹیم کی بیٹنگ تھی.میچ ختم ہونے میں صرف 23 اوورز باقی تھے،5 وکٹیں تھیں کہ بھارتی گیند بازوں نے 2 کھلاڑی آئوٹ کردیئے،انگلینڈ نے پھر مزاحمت کی تو میچ ختم ہونے میں صرف 10 اوورز باقی تھے کہ بھارتی بائولرزکا وار پھر ہوا اور 3 وکٹیں 9 بالوں پر اڑاکر میچ 151 رنز سے جیت لیا.انگلینڈ 120 پر ڈھیر ہوگیا.پاکستان 168 کے مقابل 168کرواگیا جب کہ انگلینڈ نے 271کے مقابل آدھے بھی اسکور نہیں کئے،بھارت بہت آگے رہا،سوال ہوگا کہ لارڈز سے جمیکا،فتح و شکست کا بنیادی فرق کیا تھا،رمیز وانضمام بھی آگاہ کر رہے ہیں مگرکیوں.دونوں جانب میزبان سائیڈ چوتھی اننگ کھیل رہی تھی تو دونوں جانب پاکستان اور بھارت کے بائولرز لگے تھے،یہ فرق کیوں آیا،ایک کو فتح ملی اور دوسری ٹیم کیوں ہاری.
رمیز راجہ کا بھارت کی جیت پر رد عمل،پاکستان کو چٹکی
آگے بڑھنے سے قبل سابق کپتان رمیز راجہ کو دیکھتے ہیں کہ انہوں نے بھارت کی فتح پر کیا کہا ہے،اپنے آفیشل یو ٹیوب چینل پر کرکٹ راجہ رمیز راجہ کہتے ہیں کہ بھارت کو یہ کامیابی ان کی پرفارمنس یا کرکردگی پر نہیں ملی بلکہ اسپرٹ پر ملی ہے کیونکہ ٹیم اسپرٹ تھا،ایکا تھا کہ جان لڑانی ہے اور جیتنا ہے.بھارت کے سب کھلاڑی بھوکے لگے کہ جیتنا ہے.صبح ایسا لگ رہا تھا کہ بھارت ہار جائے گا لیکن شامی نے کلاس بیٹنگ کرکے میچ بدل دیا.بھارت نے بھانپ لیا کہ انگلینڈ کو قابو کرسکتا ہے.
بڑے بڑے تیس مارخان
محمد سراج ایک مشکل صورتحال میں کمال بال کرتے ہیں،ان میں ایک لگن ہے اور ٹرپ پے کہ دنیا میں کوئی نام بنانا ہے،اس لئے اپنا نام بنارہے ہیں.شامی نے کمال دکھائی،بمراہ نے اسپرٹ دکھائی،یہ ٹیل اینڈرز نے میچ بنایا ،یہی فرق ہوتا ہے کہ جس سے ڈریسنگ روم والے کھڑے ہوجاتے ہیں،اگر یہ میچ ڈرا ہی ہوجاتا اور انگلینڈ کی 8 وکٹین گری ہوتیں تو بھی میچ کا مطلب انگلینڈ کا ہارنا ہوتا.پھر بھارت نے انگلینڈ کو فورس کرکے کہا کہ ہم اٹیک کرنے آرہے ہیں،بچ کر دکھائو،پھر انگلینڈ کی بیٹنگ لائن دب گئی.اوپنرز کسی کام کے نہیں ہیں،بھارت کے ایسےا ٹیک کے سامنے انگلینڈ کیا بڑے بڑے تیس مارخان سیدھے ہوئے ہیں،اس فتح کے بعد بھارت اوپر چلا گیا،انگلینڈ کا شیرازہ بکھر گیا ہے،دونوں ہی ٹیسٹ اچھے ہوئے لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ پاکستان بھی ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیاب ہوتا.
پاکستان اور بھارت کی کارکردگی کا بنیادی فرق
رمیز راجہ کا تبصرہ آپ نے پڑھ لیا ہے،اب ذرا اس مضمون کے آغاز کو ذہن میں لائیں اور راجہ کی کچھ باتیں ذہن میں رکھیں تو پاکستان اور بھارت کی کارکردگی کا بنیادی فرق سمجھ میں آجائے گا.پہلی بات یہ ہے کہ پاکستان کی ٹیم سرے سے ٹیم نہیں ہے،اس میں چند اسٹارز ہیں،چند بنے ہوئے ہیں اور چند بنائے گئے ہیں،چنانچہ ایک دوسرے کو ٹیم کے لئے سپورٹ کرنے والی کوئی اہلیت ہی نہیں ہے.پھر اوپنرز اوسط درجہ کے ہیں،پھر مڈل آرڈر کسی کام کا نہیں ہے اور ٹیل اینڈرز تو کھڑی نہیں ہوسکتی،اسی طرح نام نہاد پیسرز ہیں ،فہیم اشرف ٹیسٹ کھیل رہے ہیں،جس ٹیم کا پیس اٹیک فہیم اشرف،حسن علی ہو،وہ شامی سراج اور بمراہ کا کیا مقابلہ کرے گا.تو پاکستانی ٹیم کا پہلا فرق یہ تھا کہ اوپنرز میں خرابی،دوسرا مڈل آردڑ میں کوئی نہیں،پھر تیسرا ٹیل اینڈرز فارغ.
ٌلارڈز اور جمیکا میں کیا ہوا
پاکستانی اوپنرز ناکام ہوئے تو مڈل آرڈر سے سہارا معمولی تھا،ٹیل اینڈرز تو چلے ہی نہیں.بھارتی ٹیم کے اوپنرز چل گئے اور خوب چلے.مڈل آرڈرز سمیت سب ناکام لیکن ٹیم 364 کرگئی کیونکہ اوپر سے سنچری تھی جبکہ پاکستان کے 217 رنزمیں ایک ہاف سنچری تھی.پھر بھارتی ٹیم انگلینڈ کو اپنے سے کم اسکور پر ڈھیر نہیں کرسکی،پاکستانی ٹیم بھی نہ کرسکی .ویسٹ انڈیز نے 217 پر 253 اور انگلینڈ نے 364 پر 391 کئے لیکن دوسری اننگ مین بھارت کے اوپنرز نہیں چلے تو مڈل آردڑ سے 100کی شراکت ملی اور ٹیل اینڈرز نے میچ ہی اپنے ہاتھ میں لے دیا،چنانچہ اپنی مرضی سے 298 رنز8 وکٹ پر اننگ ختم کی،ادھر پاکستانی ٹیم کے ٹاپ آرڈرز فلاپ ہوئے،مڈل آرڈر سے سہارا ملا لیکن ایک آئوٹ ہوتے ہی ٹیل اینڈرز سمیت سب ناکام ہوگئے اور ویسٹ انڈیز کے لئے 168 کا ہدف سیٹ ہوا،اب بائولرز کا کمال تھا،پاکستان کے پاس اسکور کم تھے تو بھارت کے پاس وقت کم تھا،مطلب دونوں جگہ پریشانی تھی لیکن ایک فرق تھا اور وہ تھا ٹیم اسپرٹ،فیلڈنگ کا اور صلاحیت کا.پاکستان کے پاس کوالٹی،ورائٹی بائولزر نہیں ہیں جب کہ بھارت نے یہ سب کلاس دکھائی تو ایک جانب حقیقی ٹیم کھیلی ہے اور دوسری جانب نام نہاد اسٹارزکی ٹیم،فرق سامنے ہے.
انضمام الحق بھی بھارت کی جیت پر خوش،ایک شارہ
ایک اور سابق کپتان انضمام الحق کہتے ہیں کہ بھارت جیسی جیت کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے.لارڈز میں انگلینڈ کو باندھ دیا،ویسے مجھے حیرانی ہوئی ہے کہ انگلینڈ اتنے کم اسکور پر گرگیا،جب سے یہ نئے لڑکے آئے ہیں،ان کی کارکردگی میں نکھار آیا ہے،یہی وجہ کہ ملک سے باہر بھارت مسلسل جیت رہا ہے اور یہ بڑی بات ہے،بھارت کی اپروچ کمال کی ہے،ان کی طاقت اور سٹرینتھ ان کی ٹیل اینڈرز سے پتہ چلتی ہے،شامی نے 50سے زائد اسکور کرکے یہ بتایا کہ ٹیم ایسی ہوتی ہے تو بھارتی بائولرز نے بھی کلاس دکھائی.میرے لئے زیادہ متاثر کن بات یہ ہے کہ جس اپروچ اور جس سوچ سے بھارت کھیل رہا ہے،یہ ایک فتح تک بات نہیں رہتی،ایک کامیابی سے بہت باتیں ملتی ہیں .
کرک سین کے میچ سے قبل بیان کئے گئے خدشات درست
دونوں پاکستانی سابق کرکٹرزنے بھی کچھ ایسے ہی اشارے کئے ہیں کہ میچ ٹیم ورک اور پلان سے کھیلے اور جیتے جاتے ہیں،ایک کی کمی دوسرا شعبہ دور کرتا ہے اور یہ سب تب ہی ہوتا ہے جب 11 کے 11 کھلاڑی ٹاپ کوالٹی کے ہوں،کرک سین نے میچ سے قبل لھکھا تھا کہ اس پچ پر شاہ نواز دھانی کو کھلانا اچھا ہوگا مگر مصباح اینڈ کمپنی دفاعی سوچ کی ٹیم ہے ،یہ فیصلہ نہیں کرے گی ایسا ہی ہوا.پھر یہ لکھا تھا کہ یہ لوگ محمد عباس اور یاسر شاہ کو لائے ہیں جو دونوں ہی آئوٹ آف فارم ہیں ،یہ بوجھ بنیں گے،ایسا ہی ہوا،اسی طرح اوپنرز کے بارے میں لکھا تھا کہ عمران بٹ اور عابد علی لائے جائیں گے ،یہ کامیاب نہیں ہونگے.بائولنگ اٹیک کمزور ثابت ہوگا،یہ تمام باتیں سچ ثابت ہوئی ہیں لیکن ٹیم منیجمنٹ کو اس کی کوئی پرواہ نہ تھی.
یہ خبر بھی اسی سے متعلق ہے
پہلا ٹیسٹ،پاکستان کو ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست،44 سالہ ریکارڈ بھی گیا

Leave A Reply

Your email address will not be published.