انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کا بڑا یو ٹرن،ورلڈ کپ اور ورلڈ ٹی 20 پر اہم فیصلے،بریکنگ نیوز

رپورٹ وتجزیہ:عمران عثمانی

دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا اور میگا ایونٹ ورلڈ کپ ہے،ورلڈ ٹی 20اور باقی سب اس کے مقابلہ میں چھوٹے مقابلے ہیں لیکن اس میں بھی آئے دن اگر نت نئی باتیں ہوں تو سب کے لئے حیرانی ہوتی ہے اور اس میں یہ سب کرنے والا کرکٹ کا گلوبل ادارہ ہو تو حیرت بڑھ جاتی ہے ،کرکٹ شائقین ایک بار پھر حیرت میں مبتلا ہونے کے لئے تیار ہوجائیں اور جان لیں کہ ورلڈ کپ ایک بار پھر 2عشرے کے قریب ماضی والے ورلڈ کپ کی طرح ہونے جارہا ہے.

ایک وقت تھا کہ جب ورلڈ کپ 1975 میں شروع ہوا تو تمام ٹاپ ٹیموں سمیت ایسوسی ایٹ سائیڈز کے لئے بھی دروازے کھلے ہوتے تھے،پھر مزید وقت بڑھا تو ایسوسی ایٹ ٹیموں کی تعداد بڑھا کر 14سے 16 تک کی گئی لیکن پر جانے آئی سی سی کو کیا ہوا کہ اس نے ورلڈ کپ کے دروازے بند کردیئے بلکہ اتنے سخت کردیئے کہ ٹیسٹ درجہ رکھنے والی ٹیم کوالیفائرز کھیلتی دکھائی دی اور حتیٰ کہ ورلڈ کپ کھیلنے سے محروم ہوگئی.1975 سے 1987 تک 8 ٹیمیں 2گروپ کی شکل میں ایکشن میں رہیں.1992ورلڈ کپ کو رائونڈ رابن لیگ میں تبدیل کرکے ایک ٹیم بڑھائی گئی.جنوبی افریقا پر کرکٹ کے دروازے کھل گئے تھے،اس لئے وہ 9ویں ٹیم بن کر آئی.1996 ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد 12کی گئی اور انہیں 2گروپس میں تقسیم کیا گیا.1999میں ٹیموں کی تعداد یہی 12تھیں لیکن سپر سکس کا نیا مگر اچھا مرحلہ متعارف کروایا گیا.

نئی صدی شروع ہوئی تو مجموعی طور پر کرکٹ کے 8ویں اور نئی صدی کے پہلے ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد بڑھا کر 14کردی گئی،اس میں ریکارڈز54میچز ہوئے.2007 ورلڈ کپ میں تو آئی سی سی نے نئی فراخ دلی دکھائی اور ٹیموں کی تعداد 16کرکے 4گروپس کئے گئے.لگتا ہے کہ یہ تجربہ ان کے گلے پڑا کیونکہ روایتی حریف پاکستان اور بھارت ابتدائی رائونڈ سے باہر ہوکر پورا ورلڈ کپ پھیکا کرگئے.سپر 8مرحلہ بھی بس ایسا ہی رہا.2011 کے ورلڈ کپ میں ٹیمیں کم کرکے 14کی گئیں اور 2گروپس بنائے گئے اور ہر گروپ سے 2،2ٹیموں نے کوارٹرفائنل میں جانا تھا.2015 ورلڈ کپ میں بھی 14 ہی ممالک شامل تھے.2 گروپس تھے اور کوارٹر فائنل مرحلہ تھا.

2019 کے آخری ورلڈ کپ میں سب کچھ بدل گیا ،اضافی ٹیموں کا راستہ بند کیا گیا،گروپ سسٹم اڑایا گیا اور 1992 ورلڈ فارمیٹ کی طرح رابن لیگ بنیاد پر 10 ٹیموں میں جنگ ہوئی اور آخر سیمی فائنل ہوئے .2023 کا اگلا ورلڈ کپ بھی اسی فارمیٹ کے تحت بھارت میں کھیلا جائے گا.آپ نے دیکھا کہ آئی سی سی نے اب تک کھیلے گئے 12ورلڈ کپ میں ہاف درجن کے قریب فارمیٹ اپنائے،ٹیموں کو بڑھا کر کم کیا گیا .

آئی سی سی کا نیا یوٹرن

انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے ایک بار پھر ٹیموں کی تعداد بڑھانے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے.ایک بار پھر 10کی بجائے زیادہ ٹیمیں ہونگی.آئی سی سی ایسوسی ایٹ ٹیموں کے ساتھ ٹیسٹ کھیلنے والے تمام 12 ممالک کو موقع ملے گا.آئی سی سی 10 سے 14 ٹیموں کاو رلڈ کپ کرنے جارہا ہے جس کی باقاعدہ منظوری اس ماہ کے آخرمیں شیڈول آئی سی سی چیف ایگزیکٹو میٹنگ میں دی جائے گی .ایسا اس لئے کیا جارہا ہے کہ ورلڈ کپ کے موجودہ فارمیٹ کے تحت 10ٹیمیں کھیل سکتی ہیں لیکن جب 14 ٹیمیں کی جائیں گی تو 12 ٹیسٹ ممالک کے ساتھ 2مزید ملک مواقع رکھیں گے.اسی طرح ایک اور بڑا فیصلہ بھی کیا جارہا ہے کہ ورلڈ ٹی 20 میں بھی ٹیموں کی تعداد کا اضافہ کیا جائے اور اس کے لئے 16کی بجائے 20ٹیمیں کی جائیں.

کرک سین کاماننا ہے کہ انٹر نیشنل کرکٹ کونسل شدید دبائو کا شکار تھی کیونکہ اس کے لئے میگا ایونٹ کو 10ٹیموں تک محدود کرنے کا مطلب یہ تھا کہ ٹیسٹ کھیلنے والے 2ممالک کے ساتھ ساتھ کئی امیدوار ٹیموں کو باہر کردیا جائے،ہرجانب سے پریشر تھا،اس لئے اس نے یوٹرن لے کر سب ممالک کی شکایت دور کر نے انہیں بھرپور مواقع فراہم کرنے کی بات کی ہے.

ورلڈ کپ اور ورلڈ ٹی 20میں ٹیموں کی تعداد کب سے بڑھے گی

یہ سوال اہمیت کا حامل ہے.حوصلہ رکھیں کہ ورلڈ ٹی 20 کے 2ایڈیشن جو اس سال اور گلے سال شیڈول ہیں،ان میں ایسی کوئی ترمیم نہیں ہورہی ہے بلکہ اس کا اطلاق آئی سی سی کے اگلے 8سالہ فیوچر ٹور پروگرام پر ہوگا جس کا سائیکل 2023 سے 2031 کے مابین ہے.اس کا مطلب یہ ہے کہ کرکٹ ورلڈ کپ 2027 اور 2031 کے ایڈیشن میں ٹیمیں 10کی بجائے 14ہونگی اور 2024 سے شروع ہونے والے ورلڈ ٹی 20میں 16کی بجائے 20ٹیمیں شریک ہونگی .انٹر نیشنل کرکٹ کونسل اس ماہ کے آخر میں اپنے 8سالہ فیوچر ٹور پروگرام سائیکل کی بھی منظوری دے گی.

ورلڈ کپ اور ورلڈ ٹی 20 کے حوالہ سے ان تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ورلڈ کپ سپر لیگ کی سیریز و میچزمیں بھی بڑا اضافہ متوقع ہے اور موجودہ حالات کی طرح مخصوص ممالک نہیں بلکہ ہر ٹیم کو ہر ٹیم کے ساتھ سیریز کھیلنے کا پبند کیا جائے گا اور اس میں ہونے والے میچزکی تعداد بھی زیادہ کی جائے گی .

اپنا تبصرہ بھیجیں