پی ایس ایل 6 کی جگہ آج ٹیسٹ اور ون ڈے میچز کا آغاز،کس کا مقابلہ کہاں

پاکستان سپر لیگ کے لئے مختص مارچ کی ونڈو میں کرکٹ شائقین سنسنی خیز مقابلے نہ ہونے کی بنیاد پر نہایت ہی دکھی و افسردہ ہیں کیونکہ ملکی کرکٹ کا یہ میلہ انہیں اپنے حصار میں جکڑے رکھتا تھا لیکن اس سال مقابلے ملتوی ہونے کے باعث نہایت افسردگی ہے،ایسے میں انٹر نیشنل ریڈار پر بھی اس طرح کے مقابلے نہیں ہیں کہ کرکٹ شائقین کی بھر پور توجہ حاصل کرسکیں لیکن اس کے باوجود بھی کچھ نہ کچھ مقابلے ہیں ،جیسے بدھ 10 مارچ کو ایک ٹیسٹ میچ شروع ہونے والا ہے،اسی طرح بدھ کو ہی ایک انٹر نیشنل ون ڈے میچ کھیلا جائےگا جبکہ بھارت میں موجود انگلش ٹیم ٹی 20 سیریز کے لئے ٹریننگ میں مصروف ہے اور 5 میچز کی سیریز کا پہلا میچ جمعہ کو کھیلا جائے گا۔یہ سب پاکستان سے باہر ہوگا ۔

پاکستان ایشین ٹیسٹ چیمپئن کے اعزاز سے محروم ہوگیا
افغانستان اور زمبابوے کے درمیان ابوظہبی میں دوسرا ٹیسٹ میچ کھیلا جائے گا۔زمبابوے نے پہلا ٹیسٹ حیران کن طور پر جیت لیا تھا،اب اس کی نگاہیں سیریز جیتنے پر مرکوز ہونگی کیونکہ یہ اس کے لئے خاص لمحات ہیں۔زمبابوے کے لئے یہ کتنے جذباتی لمحات ہیں ،اس لئے کہ اس نے 2004کے بعد کبھی کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں جیتی تھی،آخری باراس نے 2004میں فتح اپنے نام کی تھی۔

زمبابوے کے لئے پریشانی کی بات یہ ہوگی کہ افغانستان کے کوالٹی اسپنر راشد خان فٹ ہوگئے ہیں اور وہ حقیقی معنوں میںخطرناک بائولر ہیں۔زمبابوے ٹیم کی بھر پور کوشش ہوگی کی یہ سیریز جیت کر وہ اپنے اوپر لگے ناکامی کے لیبل کو دھوڈالے۔ویسے زمبابوے ٹیم کی ملک سے باہر گنتی کی فتوحات ہیں،اس نے اگر یہ میچ جیت لیا تو یہ اس کی 5ویں کامیابی ہوگی ۔

دوسری جانب افغانستان کرکٹ ٹیم کے لئے پریشانی کی بات یہ ہے کہ حالیہ عرصہ میں وہ ایک طاقتور ٹیم کے طور پر ابھری ہے،متعدد فارمیٹ میں اس کی رینکنگ بھی اعلی ہے لیکن اس کے باوجود زمبابوے کے مقابلے میں کمزور اسٹیٹس کے باوجود وہ بیک کرنے کی اعلیٰ صلاحیت رکھتی ہے۔پی ایس ایل 6کے میچز نے دونوں ممالک کے پہلے ٹیسٹ کو پیچھے دھکیل دیا تھاجب زمبابوے کی کامیابی دھندلا کر رہ گئی تھی۔پاکستانی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 10بجے شروع ہوگا،پاکستان کے بغیر یہ پہلی ٹیسٹ سیریز ہونے جارہی ہے جس کا میزبان متحدہ عرب امارات ہوگا۔

دوسری جانب ٹی 20 سیریز میں شکست سے دوچار ہونے والی سری لنکن ٹیم بدھ سے ایک اور فارمیٹ میں ویسٹ انڈیز کے مدمقابل ہوگی۔سری لنکا ٹیم کو ہر گز اس ٹیم کا سامنا نہیں ہوگا جسے چند ہفتے قبل بنگلہ دیش میں 3 ون ڈے میچز میں وائٹ واش شکست ہوئی تھی بلکہ میزبان ٹیم اب اپنی پوری طاقت کےساتھ اپنے میدانوں میں موجود ہے۔ویسے یہ دونوں ٹیمیں ایک روزہ کرکٹ کی لو کیٹیگریز کی رینکنگ رکھتی ہیں،دونوں کی پرفارمنس اوپر نیچے ہی رہی ہے۔اب سری لنکا کو ہی دیکھ لیں کہ گزشتہ 2 سال میں اس نے 24ون ڈے میچز کھیلے ۔14میں اسے ناکامی ہوئی ہے جبکہ 10میں فتح ملی ہے۔میزبان ٹیم کا حال تو اس سے بھی برا ہے اس کا ریکارڈ بھی خراب ہے۔34ایک روزہ میچز میں سےاسے 21میں ناکامی ہوئی ہے جبکہ صرف 13میں کامیابی ملی ہے۔

گزشتہ7 سالہ باہمی ریکارڈ میزبان سائیڈ کے لئے تباہ کن ہے۔اندازا کریں کہ 9ایک روزہ میچز میں سے ویسٹ انڈیز کو محض ایک کامیابی ملی ہے،سری لنکا نے 8میچز جیت رکھے ہیں،ایسا لگتا ہے کہ ہوم گرائونڈمیں ویسٹ انڈیز کے لئے کوئی مدد موجود نہیں ہے،گزشتہ 4سیریزمیں سے اس نے ایک جیت رکھی ہے۔نارتھ سائونڈ میں دونوں ممالک کے درمیان میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے 6بجے شروع ہوگا۔

بھارت اور انگلینڈ کے درمیان 5ٹی 20 میچزکی سیریز کا پہلا میچ جمعہ کو کھیلا جائے گا،یہ سیریز بھی جاندار ہوگی کیونکہ ٹی 20 فارمیٹ میں دونوں ٹیمیں بھر پور طاقت و اہلیت رکھتی ہیں۔