پلئیرز رینکنگ،تینوں فارمیٹ سے پاکستان آئوٹ،واحد پوزیشن ہولڈر ٹیم سے باہر

تجزیہ:عمران عثمانی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے تینوں فارمیٹ کی نئی پلیئرز رینکنگ جاری کر دی ہے.ٹیسٹ کرکٹ ہو یا ایک روزہ میچ،ٹی 20 ہو یا بائولنگ کا باب،پاکستانی بائولرز تینوں قسم کی فارمیٹ کے ٹاپ 10 میں نہیں ہیں.ایک فارمیٹ میں ایک بائولر نمبر 6 سے نمبر 9 تک گرگیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ٹیم سے باہر ہے.

اس کنڈیشن میں اگر یہ کہا جائے کہ پاکستانی بائولرز آئی سی سی پلیئرز رینکنگ کے بائولنگ کے ٹاپ 10 سے باہر ہیں تو بے جا نہ ہوگا .ایک روزہ کرکٹ کے اکلوتے بائولر عامر جب ٹیم سے باہر گئے تو ٹاپ 6 میں تھے. وہ اب 9 ویں نمبر پر چلے گئے ہیں .کرکٹ سے ریٹائر ہیں تو فی الحال کھیل ہی نہیں سکتے تو ان کا نمبر 9 کیا نمبر 3 پر ہونا بھی اہمیت نہیں رکھتا تھا. دوسری جانب ٹیسٹ اور ٹی 20 فارمیٹ میں تو سرے سے کوئی بائولر ٹاپ 10 میں نہیں ہے.

بیٹنگ کی بات کی جائے تو پاکستان کے اکلوتے بیٹسمین بابر اعظم ٹاپ تھری میں ہیں.ایک روزہ کرکٹ میں وہ ویرات کوہلی کو پچھاڑ سکتے ہیں.اس کے لئے ضروری یہ ہے کہ وہ جنوبی افریقا میں 3 اننگز میں 180 کے قریب اسکور کریں.ٹی 20 میں وہ پہلے ہی کوہلی سے آگے ہیں.ٹیسٹ میں بھی وہی پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں.

بین سٹوکس ون ڈے کرکٹ کے دوسرے بہترین آل رائونڈر بن کر سامنے آئے ہیں.ہم نے اب اس بحث میں رہنا ہے کہ بابر نے کویلی کو پیچھے چھوڑ دیا،موقع گنوادیا،دلچسپ ریس،ٹی 20 کے بعد بابر ون ڈے میں بھی کوہلی سے بہتر،آئی سی سی کا فیصلہ آگیا. یہ ہوگیا اور وہ ہوگیا.

اس بحث سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستانی بائولرز کہاں ہیں.اپنے آپ کو بائولنگ کی نرسری کہلوانے والا پاکستان،پی سی بی،بھاری بھرکم کوچز،خود بائولرز کہاں کھڑے ہیں.یہ نعرہ ایک وقت تک مقبول تھا. اب اس نعرے کی بجائے عملی طور پر کچھ کرنے کا وقت ہے.