چیمپئنز ٹرافی میں بھارت سے شکست پاکستان کا فائدہ کیسے کرگئی،ظہیر عباس کی ڈبل سنچری

انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے ایک بار پھر چیمپئنز ٹرافی بحال کر دی ہے،اگر اس نے اسے ختم نہیں کیا ہوتا تو اب 2021میں اس کا انعقاد ہونا تھا کیونکہ 4 برس قبل یہ ایونٹ کھیلا گیا تھا،اتفاق سے اسی ماہ اس کا آغاز ہوا تھا.

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2017 میں آج یعنی 4جون کے دن ایونٹ کا چوتھا میچ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایج باسٹن برمنگھم میں ہوا،پاکستان کے نہ روایتی حریف کے خلاف نہ جیتنے کی روایت برقرار رہی اور نتیجہ یہ نکلا کہ ٹیم بد ترین انداز میں 124رنز سے ہارگئی،بھارت نے 3وکٹ پر 319 کئے،پاکستانی بیٹنگ لائن فلاپ ہوگئی،آخر میں بارش کے سبب ہدف 41 اوورز میں 289 ہوگیا لیکن سرفراز الیون 34ویں اوور میں 164 پر ہمت ہارگئی.

پاکستان کا آغاز ہی تباہ کن تھا،چیمپئنز ٹرافی میں اب ہارنے کا مطلب گھر جانا تھا لیکن پاکستان نے چند روز بعد دنیا کو حیران کردیا،بھارت کو سکتہ میں ڈال دیا،اس کا ذکر دن کی مناسبت سے کریں گے.کہہ سکتے ہیں کہ نئے کپتان سرفراز احمد اور ان کی پوری ٹیم کے لئے بھارت سے شکست خواب غفلت سے بیدار ہونے کا سبب بنی تھی کیونکہ اس شکست اور اس قسم کی پرفارمنس پرکپتان سمیت پوری ٹیم شدید ترین تنقید کی زد میں تھی.

کیا ہی اتفاق ہے کہ یہی ایج باسٹن کا گرائونڈ تھا،پاکستان کے مایہ ناز بیٹسمین ظہیر عباس نے انگلینڈ کے خلا ف ا پنے کیریئر کے دوسرے ہی ٹیسٹ میں ڈبل سنچری جڑدی،جب انہوں نے200 رنز مکمل کئے تو وہ 4 جون 1971 کا دن تھا،آج 2021میں اسی جون میں 3تاریخ کو لارڈز کے میدان میں کیوی بیٹسمین ڈیون کونوے کی بنائی گئی ڈبل سنچری کا ذکر ہے.ظہیر عباس نے اس کے بعد بھی انگلینڈ میں ڈبل سنچری کی تھی،اس کا ذکراپنے وقت پر آئے گا.

آج کا دن انگلینڈ کے موجودہ زمانے کے ابھرتےہوئےآل رائونڈر بین سٹوکس کی پیدائش کا دن بھی ہے،وہ 1991 میں پیدا ہوئے ،ان دنوں انگلش ٹیم میں شامل نہیں ہیں،وہ بھارت کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز میں واپسی کریں گے.