ویسٹ انڈیز کتنے پر آئوٹ ہوگا،بابر اعظم کی اصل ضرورت کیا،رمیز راجہ بتاگئے

0 31

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے ٹیسٹ میچ کے پہلے روز کے کھیل پر بھی کسی سابق کرکٹر کا تبصرہ ضروری تھا،کرک سین نے گزشتہ رات جیسا کہ اشارہ بھی کیا تھا کہ ہمارے سابق کپتانوں کا پلیٹ فارم فوری مہیا نہیں تھا اور یا پھر شاید میچ کے ایک روز کے کھیل کے مکمل ہونے کا انتظار تھا،جو بھی تھا،سابق اوپنر،کمنٹیٹر اور تجزیہ نگار رمیزراجہ نے آخر اس پر لب کشائی کی ہے اور کہا ہے کہ جب پاکستان اور ویسٹ انڈیز جیسی ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں تو جج کرنا،رائے دینا اور فیصلہ کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے.رمیز راجہ کا یہ تبصرہ اچھا ہے.
پاکستان اور ویسٹ انڈیز،صبح کا پتہ نا شام کا
رمیز راجہ کہتے ہیں کہ دونوں ٹیموں کی حالت ہی ایسی ہے،گویا اس کے لئے کرک سین تو یہی کہے گا کہ صبح کی خبرنہ شام کا پتہ،بہر حال اپنے آفیشل یوٹیوب چینل پر رمیز راجہ نے کہا ہے کہ کونسی ٹیم جیتے گی،کون سی ہارے گی.کون آگے جائے گا،کس کا پلہ بھاری رہے گا،کسی کو کچھ نہیں کہہ سکتے.ان کے میچ میں کچھ بھی ہوسکتا ہے.دونوں ٹیمیں غیر متوقع نتائج کے لئے ٹاپرز ہیں،اچھا دن ہوگا تو گویا کرکٹ ان پر ختم ہے اور برا دن ہوگا تو شاید کرکٹ ہی ختم ہونے کو ہے کہ ایسی بری مثال مل جاتی ہے.
پہلے دن پھر یہی کچھ نظر آیا
رمیز کے نزدیک جمیکا ٹیسٹ کے پہلے دن پھر کچھ ایسا ہی دکھائی دیا،سب کچھ مکس تھا،سب ناکام تھے اور سب کامیاب تھے.پاکستان والے 217 صرف 217 ہی اسکور کرسکے،ایسا لگتا ہے کہ گرین کیپس پھنس گئے ہیں کیونکہ ٹیسٹ کرکٹ کی پہلی اننگ کےا سکور نہایت ہی اہم ہوتے ہیں تو بیٹ کے ساتھ معاملہ خراب ہوا لیکن پھر پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے 2 کھلاڑی 2 پر آئوٹ کر کے واپسی کی،عباس نے نئے بال سے اچھی گیند کی.ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کی امیدیں قائم دائم رہتی ہیں. کیونکہ یہ بھی غلطیوں کے پہاڑو انبار لگانے والی ٹیم ہے.پاکستان کو بائولنگ کے ساتھ ہی کم بیک کرنا پڑے گا.
رمیز راجہ کا ٹیم سلیکشن پر سوال،ایک اور اسپنرضروری قرار
پاکستانی ٹیم اس ٹیسٹ میں ایک سپنر کے ساتھ گئی ہے.رمیز راجہ کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ 2 اسپنرزکے ساتھ جانا چاہئے تھا ،یاسر شاہ پہلے سے آئوٹ آف فارم چلے آرہے ہیں.یاسر کا ویسٹ انڈیز کے خلاف ریکارڈ سب سے اچھا ہے،46 وکٹیں لے رکھی ہیں ،ہمیشہ ان کا مقابلہ کیا ہے تو ان کے ساتھ ایک اور اسپنر ہونا چاہئے تھا کیونکہ ویسٹ انڈیز ٹیم اسپنرز کے خلاف ہمیشہ ہی ناکام رہی ہے،اس لئےپاکستان نےایسا کیوں نہیں سوچا،جو کیا اچھا نہیں ہوا،اب تو اسی ٹیم کے ساتھ ہی آگے جانا ہوگا جو 11 کھلاڑی کھلائے ہیں.پاکستان نے کم بیک کا زور لگایا ہے لیکن ابھی منزل دور ہے.
پاکستانی بیٹنگ کے مسائل
پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ کے مسائل ہیں،چلے آرہے ہیں.اوپنرز خراب کھیلے،لوز شاٹس کھیلتے پائے گئے،اسی طرح مڈل آرڈرز میں بھی یہ کچھ تھا،ایک وقت ایسا ہوا کہ جیسے سب کچھ جام ہوگیا ہو.اظہر علی کی اننگ میں ردھم نہیں تھا،اتنی بالیں کھیلیں.بابر اعظم کا 30 کر کے وکٹ دینا بھی عجب تھا،اب مشکل پچ پر آپ سیٹ ہوگئے ہوں اور پھر اس طرح آئوٹ ہوں تو یہ ان کے مقام کے خلاف ہے،انہیں اپنے آپ کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے.رمیز کہتے ہیں کہ یہ تو اسپنرز آئے تو کچھ راہ ہموار ہوگئی ورنہ پاکستانی ٹیم تو اس سےپہلے ہی پکڑی جاچکی تھی.
فائٹنگ اننگ،اچھی پارٹنر شپ
رمیز راجہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے لئے فواد عالم نے فائٹنگ اننگ کھیلی،فہیم اشرف کے ساتھ ان کی اچھی شراکت رہی،ایک طرح سے اسی نے پاکستان کو بچایا،اب ایک مشکل پچ پر فہیم اشرف اور فواد عالم نے بڑی ذمہ داری دکھائی ہے.کرک سین پڑھنے والوں کی توجہ کروائے گا کہ جب پاکستان کا اسکور 101 تھا تو یہ دونوں جمع ہوئے اور انہوں نے چھٹی وکٹ پر 85رنز جوڑد دیئے جس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان کا اسکور 5 وکٹ پر 186 ہوگیا تھا ،دونوں بیٹسمین آزادی کے ساتھ کھیل رہے تھے لیکن پھر کیا ہوا.
شروع کے غلط،آخری کے اور غلط
پاکستان کے ٹیل اینڈرز مکمل ناکام گئے ہیں،آخری3 وکٹیں 1 رن بھی نہ بناسکیں.رمیز کے نزدیک پاکستان یہ بوجھ نہیں اٹھاسکتا کیونکہ ٹیل اینڈرز کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا.آخری کی 5 وکٹیں 31میں گرجائیں تو یہ غلط ہے،حسن علی،یاسر شاہ وغیرہ کو اور کچھ دکھانا ہوگا،سیکھنا ہوگا کہ کیسے بیٹنگ کی جاتی ہےکیونکہ پاکستان کے‌ٹاپ 4 کھلاڑی 68 اور آخر کے 3 کھلاڑی صفر پر گئے ،یہ کوئی اچھی بات تو نہیں ہے،اس لئے دوسری اننگ میں ان غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا اور بار بار ایسی غلطیوں سے گریز کرنا ہوگا.
ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلنے کا ایک فائدہ
رمیز راجہ کے نزدیک پاکستان کا جب ویسٹ انڈیز سے میچ ہو،وہ چانس دیں گے،پاکستانی غلطی کرتے بھی رہے تو وہ چانس دیں گے،بہتر یہ ہے کہ غلطیاں نہ ہی کریں.اب پاکستانی بائولرز سے اچھی امیدیں ہیں،ایسے موسم میں عباس کا بال اچھا سوئنگ ہورہا ہے،یاسر کو بھی اسپن ملے گا.پاکستان ویسٹ انڈیز کو پھنسالے گا،مجھے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان ویسٹ انڈیز کو 150 کے اندر آئوٹ کردے گا اور 2017 جیسے قلیل اسکور کے باوجود بھی اچھی خاصی برتری لے لے گا.
کرک سین کا نوٹ
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وکٹ مشکل ہے لیکن اگر ویسٹ انڈیز کو ایک بھی اچھی شراکت مل گئی تو پاکستان کو لینے کے دینے پڑجائیں گے اور یہ بات نہایت ہی خطرناک ہوگی،اس لئے بابر اعظم کو اپنے بائولرز کا استعمال نہایت ہی عقل مندی سے کرنا ہوگا،جہاں شراکت لگنے لگے،وہاں بائولرز تبدیل کرکے ان کے اسپیل چھوٹے کردیں تا کہ بیٹسمین کو سب کے خلاف بیک وقت سیٹ ہونے میں مشکل پیش آئے .
پہلےٹیسٹ کے پہلے روز کی سمری
ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے کھلایا،ٹیم 2017 پر ڈھیر ہوگئی.فواد عالم 56 اور فہیم اشرف 44رنزبناکر نمایاں رہےجواب میں ویسٹ انڈیز کے آئوٹ ہونے والے دونوں کھلاڑی کھاتہ کھولے بغیر ہی واپس چلے گئے اور یہ سہرا محمد عباس کے نام رہا،کم روشنی کے باعث جب کھیل ختم ہوا تو میزبان ٹیم نے 2 وکٹ پر2 ہی اسکور بنائے تھے.4 اوورز کا کھیل ہی ممکن ہوسکا تھا.
یہ بھی خاصی دلچسپ خبر ہے
رمیز کو لارڈز میں دلہا مل گیا،انضمام کی بھارت سے ایک خواہش ،دلچسپ رپورٹ

Leave A Reply

Your email address will not be published.