محمد رضوان کے ساتھ ہاتھ ہوگیا،بہتر پرفارمنس کے باوجود نظر انداز

تجزیہ : عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کی گزشتہ ایک سالہ کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے،انہیں گزشتہ سال انگلینڈ میں شاندار پرفارمنس پر وژڈن کے 5پلیئرز میں منتخب کیا گیا تھا،رضوان صرف ٹیسٹ ہی نہیں بلکہ تینوں فارمیٹ میں ورلڈ کلاس کارکردگی پیش کر رہے ہیں لیکن وژڈن نے ہی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ الیون کا جو انتخاب کیا ہے،اس میں محمد رضوان کو شامل نہیں کیا گیا،یہ نہایت ہی حیران کن امر ہے کیونکہ ان پر بھارت کے وکٹ کیپر رشاب پنت کو فوقیت دی گئی ہے.

کرک سین تھوڑی دیر قبل وژڈن کی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ الیون کی تفصیل اور اس پر اپنا تبصرہ پیش کرچکا ہے،یہاں ایک سلیکشن کے حوالہ سے بحث مقصود ہے.طریقہ کار کے مطابق ہر پوزیشن یا نمبر کے لئے معاصر پلیئرز میں سے بہترین پرفارمر کا انتخاب ہوتا ہے.وکٹ کیپر کے لئے بھارت کے رشی پنت فائنل الیون میں آئے ہیں.

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ الیون سے بابر اعظم اورکوہلی آئوٹ،پاکستان مکمل باہر،تنقید جائز

سب سے پہلے رشی پنت کی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پرفارمنس کا جائزہ لیتے ہیں،انہوں نے 11میچزمیں 18اننگز میں 662اسکور کئے ہیں.101ہائی اسکور ہے،41سے تھوڑی اوپر اوسط ہے.ایک سنچری اور 4ہاف سنچریز ہیں.لسٹ میں محمد رضوان سے کہیں نیچے ہیں.

اس کے مقابل پاکستان کے محمد رضوان نے 12میچزکی 18اننگز میں741 اسکور کئے ،115ہائی اسکور رہا.46سے زائد کی اوسط ہے اور ایک سنچری کے ساتھ 6ہاف سنچریز ہیں.ٹاپ 20 میں ان کا 20واں نمبر ہے ،رشی پنت سے 10 درجہ بلندی پر ہیں.اسکور بھی زیادہ،اوسط بھی اچھی اور ہاف سنچریز بھی زیادہ ہیں.

رشی پنت نے اگر چند میچز میں میچ وننگ یا میچ بچانے والی اننگز کھیلی ہیں تو محمد رضوان نے تو ہر مشکل اننگ،ہر مشکل وقت میں اسکور کیا ہے تو وکٹ کیپر کے لئے رضوام کی جگہ رشی پنت کی سلیکشن سوالیہ نشان ہے،ادارہ چونکہ معتبر ترین ہے،اس لئے اس کی سلیکشن اگر اہمیت کی حامل ہوتی ہے تو کسی پلیئر کے ساتھ زیادتی افسوسناک پہلو ہے.