حفیظ اسٹین کے نشانہ پر،پاکستان ٹیسٹ تاریخ کے قلیل اسکور پر ڈھیر،مصباح،یونس بھی شامل

عمران عثمانی
Image By espncricinfo
پاکستان کرکٹ ٹیم کا آغاز بدلا،نہ اختتام،ماضی بعید ٹھیک تھا نہ ماضی قریب،پاک ،پروٹیز کی باہمی ٹیسٹ سیریز کی کہانی چوتھائی صدی پرانی ہے،ہم 1995 سے پہلے ٹیسٹ سے لے کر2019کی آخری سیریز تک کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے آرہے ہیں۔
اس مضمون میں دنوں ممالک کی 2013 ٹیسٹ سیریز کا تذکرہ ہوگا،یہ مجموعی طور پرٹرافی کے لئے9ویں بار آمنے سامنے ہورہے تھے،گزشتہ 8سیریز میں پروٹیز کا غلبہ تھا،پاکستان ایک سیریزجیت سکا تھا جبکہ جنوبی افریقا نے 5میں میدان مارا تھا2سیریز ڈرا ہوئی تھیں۔
جنوبی افریقا سیریز دبئی،کپتانی مصباح کو منتقل،دفاعی کرکٹ کی بنیاد ررکھ دی گئی
دونوں ممالک میں 3میچز کی یہ سیریز جنوبی افریقا میں ہورہی تھی۔ایسا پہلی بار ہونے جارہا تھا کہ پاکستان 3میچز کی سیریز میں وائٹ واش ہوتا،3میچز کی سیریز پہلے بھی ہوچکی تھیں ،گرین کیپس کبھی بھی 3میچز ہار کر وائٹ واش نہیں ہوئے تھے لیکن 2013کے آغاز میں جنوبی افریقا نے پاکستان کو 3ٹیسٹ میچزکی سیریز میں پہلی بار کلین سویپ کردیا۔
یکم فروری 2013 کو پہلا ٹیسٹ میچ جوہانسبرگ میں شروع ہوا۔گریم اسمتھ نے مصباح الحق کو ٹاس میں ہرادیا۔پروٹیز پہلے کھیل کر کوئی پہاڑ سر نہ کرسکے اور 253پر پویلین لوٹ گئے،حیران کن طور پر اس اننگ کے پاکستانی ہیرو محمد حفیظ تھے جنہوں نے 16رنزدے کر 4آئوٹ کردیئے۔یہاں تک تو سب ٹھیک تھا لیکن پھر وہ ہوا جس کی یادیں اب بھی تکلیف دہ ہیں،جی ہاں اب سے 8برس قبل پاکستانی بیٹنگ لائن کو پھر موت پڑگئی۔مصباح کے دستے میں کھیلنے والے حفیظ6،ناصر جمشید 2،اظہر علی سب سے زیادہ 13،یونس خان صفر ،کپتان مصباح 12،اسد شفیق ایک،سرفراز احمد 2،عمر گل صفر،سعید اجمل ایک،جنید خان 8 اور راحت علی صفر۔یہ 11بیٹسمینموں کے 45 رنزہوئے،4ایکسٹررنز کے ساتھ پاکستان کی اننگ30ویں اوور کی پہلی بال پر 49رنزکے ساتھ تمام ہوگئی،آخری 7وکٹیں 13رنزکے اندر گری تھیں،تباہی کے مرکزی ہیرو ڈیل اسٹین تھے جنہوں نے8 اوورز ایک گیند میں سے 6اوورزمیڈن
کئے،8رنزدے کر 6وکٹیں لیں۔یہ ٹیسٹ کرکٹ کی پاکستانی تاریخ کا کم ترین اسکور بھی ہے یہ،اس سے کم پر پاکستان پہلے آئوٹ ہوا تھا اور نہ بعد میں ڈھیر ہوا،اس سے قبل پاکستان کا خراب ترین ریکارڈ اکتوبر 2002میں شارجہ میں آسٹریلیا کے خلاف 53 رنز پر آئوٹ ہونے کا تھا،پاکستان پہلی اننگ میں 59پر بھی آئوٹ ہوگیا تھا۔
جنوبی افریقا اپنے آخری دورہ پاکستان میں بھی کامیاب،کئی دلچسپ اتفاقات،انضمام الحق کا باب بند
پاکستان فالو آن ہوگیا لیکن جنوبی افریقا نے دوسری اننگ خود کھیلی اور3وکٹ پر 275رنزبناکر اننگ ڈکلیئر کی،جس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان کو جیت کے لئے480رنزبنانے تھے۔پاکستان جس کی پہلی اننگ میں کچھ بہترگیند بازی تھی،اس کی کھنچائی ڈی ویلیئرز نے سنچری کے ساتھ کردی۔میچ کے چوتھے روز مصباح الیون 268پر آئوٹ ہوگئی،ڈیل اسٹین نے 52رنزدے کر 5 جبکہ میچ میں 60رنزکے عوض 11شکار اپنے نام کئے۔مصباح کے 64 اور اسد شفیق کے 56 رنزقابل ذکر تھے۔جنوبی افریقا 211رنزکے بھاری مارجن سے جیت کر برتری لے چکا تھا لیکن سیریز ابھی باقی تھی۔
پاکستانی ٹیم میچ بناکر بھی ہارجاتی ہے۔14 فروری سے کیپ ٹائون میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان نےپہلے بیٹنگ کی اور338رنزکئے،یونس خان اور اسد شفیق کی سنچریز خاص بات تھی اور دوسرا اتفاق یہ تھا کہ دونوں نے 111،111 رنز بنائے۔میزبان سائیڈ سعید اجمل کی 96 رنزکے عوض 6وکٹوںکی عمدہ بائولنگ کی بدولت 326پرآئوٹ ہوگئی،پاکستان نے بہر حال 12رنزکی معمولی برتری لے لی لیکن اب دوسری اننگ کامسئلہ تھا،وہی بے اعتباری بیٹنگ لائن 169پر ڈھیر ہوگئی۔دونوں اوپنرز حفیظ اور ناصر جمشید صفر پر چلے گئے،اظہر علی کے 65 رنز نمایاں تھے۔جنوبی افریقا نے 182رنزکا ہدف 6وکٹ پر مکمل کرکے میچ 4وکٹ سے جیت لیا،سعید اجمل نے دوسری اننگ میں 4 اور میچ میں 10 وکٹیں لیں جو پاکستان کے کام آئیں نہ ہی ان کے اپنے ،کیونکہ پلیئر آف میچ کوئی اور تھا۔پاکستان سیریز ہار گیا تھا۔تیسرے ٹیسٹ میں کلین سویپ سے بچنے کا چیلنج درپیش تھا۔
پاکستان جنوبی افریقا چھٹی ٹیسٹ سیریز،بھر پور فائٹ،زبردست مزاحمت لیکن
سنچورین میں 22فروری سے شروع ہونے والا ٹیسٹ سیریز کا مختصر میچ یوں ثابت ہوا کہ پاکستانی بیٹنگ لائن دونوں اننگز میں ہمت ہارگئی۔جنوبی افریقا کے بنائے گئے409رنز اتنے زیادہ بھی نہ تھے کہ 20 22 بیٹسمین اسے پورانہ کرپاتے لیکن یہ مصباح الیون تھی جس نے یہ دن بھی دیکھا۔راحت علی کی 6وکٹیں کہنے کو بہت اچھی ہیں ،127رنزبھی انہوں نے دیئے لیکن پروٹیز 409رنزبناگئے تھے،یونس خان کے 33 رنزکے ساتھ پاکستان کی پہلی اننگ تو 156پر تمام ہوئی۔کیل ایبٹ نے29رنز دے کر 7وکٹیں لے لیں،فالوآن کے بعد قومی بیٹنگ لائن235رنزتو کرگئی لیکن پہلی اننگ کو ملا کر بھی یہ 409نہیں بنتے تھے،نتیجہ میں جنوبی افریقا اننگ اور 18رنز سے جیت گیا،کیل ایبٹ میچ اور ڈی ویلیئرز سیریز کے بہترین کھلاڑی تھے۔محمد 6اننگز میں سے 4میں ڈیل اسٹین کا شکار بنے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں