پہلا ٹیسٹ،بھارت انگلینڈ کے خلاف اچانک فیورٹ،ٹرینٹ برج سےبڑی کمک

0 37

تجزیاتی رپورٹ : عمران عثمانی
بھارت اور انگلینڈ کی ٹیسٹ سیریز کی تیاری مکمل ہوگئی ہے،4 اگست سے ٹرینٹ برج ناٹنگھم میں پہلا ٹیسٹ کھیلا جارہا ہے اور اس کے لئے ویرات کوہلی نے اپنے ہم منصب جوئے روٹ کے ساتھ فوٹو سیشن بھی مکمل کرلیا ہے،انٹرویوز بھی ہوگئے ہیں اور ٹیموں کی لائن اپ بھی کلیئر ہوتی جارہی ہے.میانک اگروال کے سر پر گیند لگنے اور پہلے ٹیسٹ سے باہر ہونے کی باتیں بھی اب تھوڑی پرانی ہوگئی ہیں.ٹیمیں اپنے اچھے پلیئرز کا انتخاب کر رہی ہیں.جوئے روٹ کو بین سٹوکس کی یاد تو بہت آرہی ہے جنہوں نے دماغی آرام کے لئے یہ سیریزکھیلنے سے انکار کردیا تھا.روٹ کے لئے اگرچہ یہ بات کسی صدمہ سے کم نہیں ہے لیکن انہوں نے فی الحال اسی پر اکتفا کیا ہے کہ میرے دوست سٹوکس خوش رہیں اور ٹھیک رہیں.
دلچسپ مقابلے کا امکان
بدھ 4 اگست کی سہ پہر 3بجے پہلے ٹیسٹ میچ کی وسل بجے گی .کرکٹ فینزکے لئے بری خبر یہ ہے کہ بارش کی مداخلت بھی خوب رہے گی،محکمہ موسمیات کے مطابق آج منگل کو بارش ہوگی لیکن کل میچ کے پہلے روز موسم خوشگوار رہے گا لیکن اس کے اگلے 4 روز میں بارش کے امکانات زیادہ ہیں،اس طرح میچ بری طرح متاثر ہوسکتا ہے.بھارتی ٹیم میں بیٹنگ لائن اچھی ہوگی،چتشور پجارا،روہت شرما،اجنکا رہانے،کے ایل راہول اور ویرات کوہلی کے ساتھ رشاب پنت ہونگے.رویندرا جدیجا کی بیٹنگ بھی اچھی ہے اور اسپن کوالٹی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے جب کہ بائولنگ میں شردول ٹھاکر،جسپریت بمراہ اور محمد شامی خطرناک ہوسکتے ہیں.دوسری جانب انگلش ٹیم میں جوئے روٹ کے ساتھ رائے برنز،ڈوم سبلی اور زیک کرولی تجربہ میں بھارتی ٹاپ بیٹنگ لائن سے کہیں پیچھے ہیں.حسیب حمید یا جونی برسٹو میں سے کوئی ایک ہوگا،اسی طرح سام کرن ،جوس بٹلر بھی ہونگے اور پھر جمی اینڈرسن اور سٹورٹ براڈ جیسا تجربہ کار پیس اٹیک بھارت کی اچھی خاصی بیٹنگ کو ہلاسکتا ہے .دلچسپ مقابلے کا امکان ہے.
ٹیسٹ ریکارڈ نہایت ہی خراب مگر
ویسے تو کرک سین گزشتہ روز یہ شائع کرچکا ہے کہ بھارت کا انگلینڈ میں ٹیسٹ ریکارڈ نہایت ہی خراب ہے اور اسے چاہئے کہ وہ پاکستان سے سیکھے کہ ٹیسٹ میچ کیسے جیتا جاتا ہے اور سیریز کیسے بچائی جاتی ہے لیکن یہاں ٹرینٹ برج کے حوالہ سے بھارت کے حق میں ایک ایسی بات جاتی ہے کہ ہم پہلے ٹیسٹ میچ کی حد تک پیش گوئی کرسکتے ہیں کہ یہاں انگلینڈ کا جیتنا آسان نہیں ہوگا. ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2 کے آغاز کی یہ سیریز بھی ہے.بھارت انگلش میدان ایجز بول میں نیوزی لینڈ سے پہلی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل ہار کر اب کھیل رہا ہے جب کہ انگلینڈ کو نیوزی لینڈ کے ہاتھوں 2 میچزکی ٹیسٹ سیریز میں غیر متوقع شکست ہوئی ہے،اس لئے دونوں ٹیمیں ہی زخم خوردہ ہیں اور ایک دوسرے پر وار کرنے کے لئے بے چین ہیں.
انگلینڈ کی آنکھوں میں آنکھیں
ٹرینٹ برج ناٹنگھم میں بھارتی کرکٹ ٹیم کا ریکارڈ ایسا ہے کہ وہ انگلینڈ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکے اور کیوں نہ ہوکہ انگلینڈ میں نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزارنے اور 62 ٹیسٹ میچزمیں محض 7 فتوحات اپنے نام کرنے والی بھارتی ٹیم نے 2 میچز اس میں سے اسی میدان میں جیتے ہیں.بھارتی ٹیم نے انگلینڈ کے اس قدیم سنٹر میں پہلا ٹیسٹ 1959 میں کھیلا تھا اور آخری بار 2018 کے گزشتہ دورے میں قدم جمائے تھے.59 سال کی تاریخ میں یہاں کھیلے گئے 7میچز میں مقابلہ2-2سے برابر ہے جب کہ 3میچز بھی برابری پر تمام ہوئے .بھارتی ٹیم کے لئے دوسری اہم ترین بات یہ ہے کہ اسے یہاں 1996 سے تواتر کے ساتھ میچز مل رہے ہیں اور اس نے دونوں کامیابیاں رواں صدی میں اپنے نام کی ہیں.تیسرا حسن اتفاق یہ بھی ہے کہ بھارت نے اپنے آخری دورے کے دوران جو ٹیسٹ میچ یہاں کھیلا تھا،اس میں باوقار انداز میں 203 رنزسے کامیابی اپنے نام کی تھی.
بھارت کے 2018 کے ٹرینٹ برج ٹیسٹ کا احوال
یہ اگست 2018کے تیسرے عشرے کے ابتدائی روز تھے جب بھارت جیت رقم کرنے جارہا تھا.کپتان ویرات کوہلی نے دونوں اننگز میں 200 اسکور یوں کئے کہ وہ پہلی اننگ میں 97 پر آئوٹ ہوئے لیکن دوسری اننگ میں 103رنزکرنے میں کامیاب ہوگئے.بھارت نے پہلی اننگ میں 329 اور دوسری میں 7 وکٹ پر 352کئے تھے ،اس کے مقابل انگلش ٹیم 161 اور 317 تک ہی جاسکی تھی.ہردک پانڈیا اور جسپریت بمراہ نے ایک ایک اننگ میں 5،5 وکٹیں لی تھیں.بھارت نے اس فتح کے ساتھ ہی 5میچزکی سیریز میں کم بیک کیا تھا اور انگلینڈ کے خلاف پہلی کامیابی حاصل کرکے اس سیریز کو 1-2 میں بدلا تھا لیکن چونکہ خسارہ جاری تھا جو آگے جاکر مزید بڑھ گیا لیکن اس میدان کی حد تک بھارت کی یہ بڑی کامیابی تھی.پہلی فتح اس میدان میں اس نے 2007میں راہول ڈریوڈ کی کپتانی میں اپنے نام کی تھی.انگلینڈ یہاں 1959 کا ٹیسٹ جیتا تھا اور یا پھر 2011کی سیریز کا ٹیسٹ میچ 319رنزکے بھاری مارجن سے اپنے نام کرگیا تھا.2014 کا ٹیسٹ میچ یہاں ڈرا رہا تھا.
ٹرینٹ برج ناٹنگھم کے حوالہ سے بھارت کے لئے یہ حوصلہ افزا ریکارڈ ہے،اسی طرح خود کپتان کوہلی کے لئے بھی یہ آئیدیل جگہ ہے جہاں وہ اچھی اننگز کھیل سکتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ جب بھارتی کھلاڑی یہاں پریکٹس کرتے دکھائی دیئے تو وہ خاصے پرجوش تھے،بھارتی ٹیم کے حق میں ایک اور بات بھی جاتی ہے کہ یہاں کھیلے گئے 7 ٹیسٹ میچز میں سے 5 کا ٹاس اس نے جیتا اور یہ بات تو واضح ہے کہ انگلش کنڈیشن میں ٹاس کی اہمیت کتنی ہوتی ہے اور دسرت فیصلے سے اتنا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے کہ میچ ہی اپنے حق میں موڑ دیا جائے .
سیریز کے نتائج ماضی سے یکسر مختلف
بھارت اور انگلینڈ ٹیسٹ سیریز کے نتائج ماضی سے یکسر مختلف صرف ایک صورت میں ہوسکتے ہیں کہ اگست کے ماہ میں مہمان بیٹسمین گھومتی بائولنگ کا جم کر مقابلہ کریں،اگر باہر جاتی گیندوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو ٹیم ایک بار پھر 36 کے آکڑے کا شکار ہوسکتی ہے،گزشتہ سال کے آخر میں آسٹریلیا میں بھارتی ٹیم کی اننگ 36 تک محدود ہوگئی تھی.دنیائے کرکٹ کی نگاہیں اس ٹیسٹ سیریز پر مرکوز ہیں.5میچزکی یہ جنگ سنسنی خیز تب ہی ہوسکتی ہے کہ بھارتی پلیئرز جم کر انگلش بائولنگ کا سامنا کریں.سیریز کے دوران کورونا کے مثبت کیسز بھی آسکتے ہیں،اس کے لئے پلان بی تیار ہے.طویل فارمیٹ کی کرکٹ کو اس سیریز کے ساتھ نیا جمپ ملنے والا ہے.غیر جانبدار مبصرین اور شائقین کو بھی بے چینی سے انتظار ہے.
بھارت اور انگلینڈ کی ٹیسٹ تاریخ کی مکمل تفصیلات کے لئے یہ بھی پڑھیں
بھارت انگلینڈ ٹیسٹ سیریز میں کوہلی الیون پر پاکستان سوار ہوگیا،دلچسپ رپورٹ

Leave A Reply

Your email address will not be published.