فائنل مقابلہ،پاکستان کی راہ میں جنوبی افریقاکا 6 سالہ انوکھا ریکارڈ حائل ہوگیا،فتح غیر یقینی؟

جنوبی افریقا کرکٹ ٹیم پاکستان کے خلاف آخری ائیک روزہ میچ میں قریب کمزور ہونے کے باوجود ایک ایسا ریکارڈ رکھتی ہے کہ جس کے بعد اگر تاریخ نے اپنے آ پ کو دہرادیا تو پاکستان کا پلان دھرے کا دھرا رہ جائے گا لیکن گرین شرٹس کو اسی بات کا یقین ہے کہ حریف ٹیم کے ٹاپ فائیو پلیئرز موجود نہیں ہیں اور سنچورین کے پہلے میچ میں فتح بھی حاصل کی تھی تو کنڈیشن و ماحول اور حریف کی کمزوری کے سبب وہ یقینی طور پر ایک ایسی کامیابی رقم کردیں گے کہ جو تاریخ بھی بدل دے گی اور کرکٹ جنوبی افریقا کے ریکارڈز کو بھی اتھل پتھل کرکے رکھ دیں گے.

کرکٹ جنوبی افریقا کا گولڈن ریکارڈ کیا ہے اور پاکستان کی راہ میں کیوں رکاوٹ ہے؟ تو اہم اپنے پڑھنے والوں کو بتاتے چلیں کہ جنوبی افریقا کرکٹ ٹیم 2015 کے بعد کبھی بھی باہمی سیریز کا فیصلہ کن میچ نہیں ہاری.آخری بار 2015میں جنوبی افریقی ٹیم فیصلہ کن میچ میں بھارت سے ہاری تھی،اس بات کو 6 سال ہونے والے ہیں،اس کے بعد اس نے بھارت سمیت متعدد ممالک کے خلاف باہمی سیریز کھیلیں جو فیصلہ کن میچ یعنی سیریز کے آخری میچ تک گئیں،کوئی نہیں جانتا تھا کہ 3 یا 5میچزکی سیریز کو ن جیتے گا لیکن پروٹیز پلیئرز کے اعصاب کو داد دینی پڑے گی کہ انہوں نے6 سال کے طویل عرصہ میں فائنل میچ جانے نہیں دیا اور ٹرافی کسی کو اس نے اٹھانے ہی نہیں دی بلکہ خود ہی جیتے.

بابر اعظم کا ریکارڈ امام الحق کے بیٹ پر،فائنل میچ میں سنہری موقع

2015 کے بعد سے پروٹیز نے 2021 تک 16 باہمی ایک روزہ سیریز کھیلی ہیں اور ان میں سے 13 جیتی ہیں لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ وہ سیریز ہاری ہو جو فائنل میچ پر چلی گئی تھی.اس نے اس دوران پاکستان،آسٹریلیا،بھارت،نیوزی لینڈ،انگلینڈ کو شکست فاش دی ہے.2015میں پروٹیز جولائی میں بنگلہ دیش گئے تھے اور وہاں 3میچز کی سیریز کا فیصلہ کن میچ ہارے تھے.

پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے بہر حال یہ ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ تاریخ اتنی آسانی سے تبدیل نہیں ہوتی ہے،اب اسی بات کو ہی دیکھ لیں کہ اگر پاکستانی ٹیم جنوبی افریقا سے اس کی کمزور لائن کے باوجود بھی ہارجائے تو کیا جواز ہوگا،یہی کہ پروٹیز کی تاریخ ثابت قدم رہی لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ فیصلہ کن میچ میں پاکستانی کپتان کو درست فیصلے کرنے ہونگے،ٹیم منیجمنٹ کو بہتر سلیکشن کرنی ہوگی ورنہ یہ تو ریکارڈز واعدادوشمار کی بات ہے جس کا ذکر کیا ہے لیکن شکست کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگی.

پاکستان اور جنوبی افریقا کی کرکٹ ٹیمیں 82واں ون‌ڈے میچ کھیل رہے ہیں اور پاکستانی ٹیم صرف 29جیت سکی ہے.51ہاری ہے لیکن تاریخ کے اعتبار سے یا ریکارڈ بک کے اوراق کےا اعتبار سے پاکستان کے پاس بھی جیتنے کا مستند حوالہ موجود ہے اور وہ یہ کہ جنوبی افریقا پاکستان کے خلاف کبھی 3 ایک روزہ میچزکی باہمی سیریز جیت نہیں سکا ہے،اتفاق سے اس سے قبل ایک ہی سیریز ایسی ہوئی تھی کہ جس میں 3ون ڈے میچز تھے ،پاکستان 1-2 سے جیت گیا تھا،اس کے علاوہ پاکستان،عرب امارات،جنوبی افریقا میں جتنی بھی سیریز ہوئیں ،وہ 5میچز کی تھیں اور پاکستان تمام ہار گیا تھا.

اپنا تبصرہ بھیجیں