کورونا اٹیک میں انگلینڈ کا یوٹرن،اب پاکستانی کھلاڑیوں کو خطرہ،جیتنے کے چانسز زیادہ

0 29

کورونا اٹیک میں انگلینڈ، کرکٹ بچ گئی،عزت چلی گئی،انگلش کرکٹ کا یہ ہے دہرا معیار،اپنی سیریز ،اپنا ہوم سیزن اور اپنے پیسہ کے لئے وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں اور انہو  ں نے360 ڈگری کا یو ٹرن لے لیا ہے،ابھی کل کی بات ہے کہ جنوبی افریقا میں انگلش ٹیم ٹی 20 سیریز سے فارغ ہوئی تھی اور ایک روزہ سیریز شروع ہونے جارہی تھی کہ ہوٹل اسٹاف کےصرف 2 ممبران کے کووڈ ٹیسٹ مثبت آئے تھے،انگلینڈ کے پلیئرز نے دورہ ادھورا چھوڑ دیا،جنوبی افریقا بورڈ منتیں کرتا رہا تھا کہ ایک روزہ سیریز کھیل لیں،ہمارے بھی معاہدے ہیں،ہمیں بھی بھاری خسارے کا سامنا ہے لیکن انگلش کرکٹ بورڈ نے کوئی متبادل راستہ اختیار نہیں کیا اور دورہ ادھورا چھوڑ دیا گیا.
اس کے چند ماہ بعد کرکٹ آسٹریلیا نے بنا کسی گڑ بڑ کے ہی جنوبی افریقا کے دورے سے محض خوف کی بنیاد پر انکار کردیا،اس کا اتنا نقصان ہوا کہ کینگروز ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل کی ریس سے ہی باہر ہوگئے لیکن کسی نے پروا نہیں کی اور یہ بھی نہیں سوچا کہ میزبا بورڈ کے ساتھ کیا بنے گی،اس کے کچھ دنوں بعد پاکستان سپر لیگ 6 میں کراچی میچز کے دوران کچھ کھلاڑیوں کے کووڈ ٹیسٹ مثبت آگئے تو پوری لیگ ملتوی کرنی پڑی،اس کے 2 ماہ بعد یہی کچھ آئی پی ایل کے ساتھ ہوا اور وہ بھی ملتوی ہوئی.
ہوم آف کرکٹ
یہ انگلینڈ ہے،ہوم آف کرکٹ،جہاں کی کرکٹ کو قد ر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،وہاں جمعرات سے شروع ہونے والی پاک انگلینڈ ایک روزہ سیریز کے آغاز سے 48 گھنٹےقبل انگلینڈ کے 7 اسکواڈ ممبران کے کورونا ٹیسٹ مثبت آگئے ،انگلش بائیو سیکیور ببل میں کورونا آگیا،میزبان ملک کے ہاف درجن سے زائد پلیئرزکو کورونا ہوگیا،ٹیسٹ مثبت آگئے لیکن مجال ہے کہ حریف پاکستان کرکٹ ٹیم یا اس کے بورڈ ککی جانب سے کسی بھی قسم کے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہو،الٹا انگلینڈ بورڈ نے کمال مستعدی کے ساتھ پوری ٹیم بدل دی،کپتان نیا بنادیا،حیرت کی بات تو یہ بھی نکلی کہ بین سٹوکس سمیت وہ پلیئرز جن کو پاک انگلینڈ سیریز میں شامل ہی نہیں کیا گیا تھا،ان کو واپس بلالیا گیا ور پوری ٹیم بدل کر نیا دستہ تشکیل دے دیا گیا ہے.انگلینڈ کے 3 کھلاڑیوں اور 4 اسٹاف ممبران کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں،اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ ان کے ساتھ رہنے والے تمام اسکواڈ کو قرنطینہ میں بھیج دیا گیا ہے،چنانچہ 7 کی وجہ سے پوری انگلش ٹیم اور کوچنگ اسٹاف سمیت تمام ممبران کمروں کی تنہائی کی نذر ہوگئے ہیں،ان سب کی جگہ نیا انگلش اسکواڈ اتارا گیا ہے اور کل تک ٹیم سے باہر رہنے والے بین سٹوکس کی واپسی ہوئی ہے اور وہ کپتان بھی بنادیئے گئے ہیں،ان کے ساتھ تمام نئے پلیئرز ہیں،ان میں وہ بھی ہیں جو انگلش ٹیم کی نمائندگی کر چکے ہیں اور ان میں وہ بھی ہیں جو پہلی بار شامل کئے گئے ہیں.
عمل کتنا تسلی بخش
انگلینڈ کرکٹ بورڈ کا یہ عمل کتنا تسلی بخش یا قابل قبول ہے؟ اس سوال کا مختصر جواب یہی ہے کہ کرکٹ کی بقا اور سیریز کے سر پر ہونے کی وجہ سے یہ مستحسن فیصلہ ہے،اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہئے کیونکہ اس میں دولت کی بچت ہے،خسارے سے بچائو کی تدبیر ہے اور سب سے بڑھ کر فینز ودیگر کے لئے تفریح کا سامان موجود ہے ،پھر ایک اور سوال ہوتا ہے کہ یہی کچھ پاکستان سمیت کسی اور ملک میں ہوا ہوتا تو انگلش بورڈ اور اس کے کھلاڑی وہاں رکتے اور ایک تبدیل اپوزیشن ٹیم سے کورونا کے خوف میں سیریز کھیلتے،دورہ جاری رکھتے؟
جواب دینا نہایت آسان
میرے لئے اس کا جواب دینا نہایت آسان ہے کہ انگلینڈ تو کیا بلکہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک ایک منٹ سے پہلے ہی دورہ ملتوی کردیتے اور پہلی دستیاب فلائٹ سے ملک ہی چھوڑ دیتے،چنانچہ ان تینوں ممالک کے لئے اب یہ ایک نئی مثال سیٹ ہوئی ہے کہ آج کے بعد یہ بھی دیگر ممالک میں کھیلتے ہوئے ایسے ناپسندیدہ واقعات پر راہ فرار اختیار نہ کریں بلکہ میزبان بورڈ کے ساتھ مل کر حل کی جانب جائیں،ان ممالک نے اگر اب بھی یہ رویہ نہیں بدلا تو پھر یہ نتیجہ نکالنے میں کسی کو مشکل پیش نہیں آئے گی کہ یہ اپنی دولت کے لئے سب کچھ کرنے پر تیار ہوتے ہیں لیکن دوسروں کے مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے بلکہ انجان بن کر چلے جاتے ہیں،پھر ایسے نتائج سے ان ممالک کی ساکھ پر برے اثرات مرتب ہونگے.بین سٹوکس کی کپتانی اور دیگر نئے پلیئرز کی آمد کے بعد پاکستان کرکٹ کے لئے کیا فائدہ ہوسکتا ہے،پہلی بات یہ ہے کہ جو ٹیم پہلےکھیل رہی تھی،وہ بھی نامکمل تھی لیکن اب جو ٹیم کھیل رہی ہے،وہ بھی نامکمل ہے اور ساتھ میں ردھم میں نہیں ہے،پہلی تیم سری لنکا سے جیت کر سامنے آرہی تھی،وننگ کمبی نیشن سیٹ تھا،پریکٹس پا تھی،اعتماد بحال تھا ،اب انگلش کھلاڑیوں کے لئےا ز سر نو سب کچھ سیٹ کرنا چیلنج ہوگا.کرک سین کا ماننا ہے کہ اس کا فائدہ پاکستان کرکٹ کو ہوسکتا ہے اور وہ اس انگلش ٹیم کے خلاف نہایت ہی آسانی کے ساتھ تاریخی فتح اپنے نام کر سکتی ہے ،اس کے لئے ضروری ہوگا کہ بہتر پلاننگ کی جائے اور اپنے دستہ کو ذہنی طور پر تیار کیاجائے.
سکندر اعظم بننے کا سنہری موقع
بابر اعظم کے لئے اب سکندر اعظم بننے کا سنہری موقع موجود ہے لیکن ایک اور خطرہ بھی سر پر ہوگا،انگلش بائیو سیکییور ببل میں گھمنے والے کورونا نے اگر انگلش پلیئرز کا شکار کیا ہے تو ابھی نئے آنے والے پلیئرز کی بھی ٹیسٹنگ ہونی ہے اور پھر اسی طرح گرین کیپسن نے بھی اس بائیو سیکیور ببل میں داخل ہونا ہے،انگلش پلیئرز کے قریب ہوکر اوپر تلے6 میچز کھیلنے ہیں،پاکستانی کھلاڑیوں کو حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہوگی کہ کووڈ ٹیسٹ ان کے گلے نہ پڑجائیں کیونکہ مہمان ٹیم کے اسکواڈز میں اتنے مسائل ہوجائیں یا اتنی تعداد کورونا کیسز کی نکل آئے تو وہ ٹیم تبدیل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے اور ایسے میں دورہ ختم ہونے کا خطرہ ہوتا ہے اور ویسے بھی پاکستان کو اس سیریز کے ختم ہوتے ہی ویسٹ انڈیز کے لئے روانہ ہونا ہے اور وہاں داخلہ کے لیے کورونا فری ہونا بھی ضروری ہے،ورنہ وہ سیریز بھی گلے پڑسکتی ہے.

Leave A Reply

Your email address will not be published.