لارڈز میں انگلینڈ اچانک ہارگیا،بھارت کی تاریخی فتح مگر کیسے

0 21

رپورٹ : عمران عثمانی
لارڈز ٹیسٹ بھارت نے151رنزسے جیت لیا،اپنے یوم آزادی کے اگلے روز اس نے انگلینڈ کے سب سے بڑے قلعہ میں بڑا شگاف ڈال دیا،میچ کے آخری روز انگلینڈ کے لئے 2 سیشن ،پھر آخری سیشن کے 22 اوورز گزارنا نا ممکن ہوگیا.جوئے روٹ کا روٹ لگا،نہ ہی کوئی بیٹسمین سیٹ ہونے کے لئے آیا .بھارت نے 5میچزکی سیریز کا دوسرا ٹیسٹ 151 رنز سے جیت کر 0-1 سے برتری حاصل کرلی ہے.
بھارت بیک فٹ سے فرنٹ فٹ پر کیسے
پیر کو ہوم آف کرکٹ میں میچ کے آخری روز بھارت کسی طرح بھی فتح کے قریب نہیں تھا کیونکہ اس نے دن کا آغاز جب کیا تو 186پر6اآئوٹ تھے.برتری صرف 159 رنزکی تھی،انگلینڈ کے پاس جیتنے کی راہ بھی تھی لیکن اس کے بائولرز پرا س وقت پہاڑ گرا جب ابر آلود موسم میں بھی وہ بے اثر ہوگئے.انگلش بائولرز نے اگر چہ رشی پنت کو22اور ایشانت شر ماکو بھی اس وقت فارغ کرکے 8 کھلاڑی آئوٹ کردیئے جب مجموعی اسکور 209 ہوا تھا لیکن پھر محمد شامی نے حریف بائولرز کو مار مار کر شامی بنادیا،انہیں جسپریت بمہرا کا ساتھ ملا،دونوں نے مزید وکٹ نہیں گرنے دی اور لنچ تک میچ کا نقشہ ہی بدل دیا.بھارت کا اسکور 8وکٹ پر 286 ہوگیا تھا،محمد شامی شاندار ہاف سنچری مکمل کرکے وکٹ پر موجود تھے.
اننگ ڈکلیئر میں تاخیر سہی
دوسرے سیشن میں بھارت نے 9بالیں کھیل کر مزید 12 اسکور کئے اور 298 رنز 8 وکٹ پر اننگ ڈکلیئر کرکے انگلینڈ کو جیت کے لئے272 رنزکا ہدف دیا،قریب 60 اوورز اسے کھیلنے تھے،اسکور اب زیادہ تھا،اس لئے میچ نے ڈرا ہوناتھایا بھارت نے جیتنا تھا.بھارتی اننگ کے ہیرو اوراسے شکست کے خوف سے آزاد کرنے والے محمد شامی تھے جوجارحانہ انداز میں 70 بالز پر 56 کر کے ناٹ آئوٹ گئے.انہوں نے6 چوکے اور ایک چھکا لگایا جب کہ جسپریت بمراہ بھی 64 بالز پر 34 رنزکے ساتھ ناٹ آئوٹ آئے.انگلینڈ کی جانب سے مارک ووڈ 51رنز دے کر 3 اور اولی رابنسن 45 جب کہ معین علی84رنز دے کر 2،2 وکٹ لینے میں کامیاب رہے.
انگلینڈ کا فتح کے لئے نہیں ،شکست سے بچنے کی کوشش کا آغاز
جیسی نیت ہو،ویسے نتائج ہوتے ہیں،اچھی ٹیمیں تھوڑا رسک بھی لیتی ہیں،عام طور پر 50 اوور ز کے ایک روز ہ میچ میں 272 رنز مشکل نہیں ہوتے،یہاں 10 اوورز فالتو تھے،ہوم گرائونڈ تھا.تھوڑی دیر کےلئے یہ بھلانا ضروری تھا کہ یہ ٹیسٹ میچ ہے اور اس کا آخری روز ہے لیکن آج کی کرکٹ میں ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی اٹیک کرے اور دفاع کا وہی نقصان ہوتا ہے جو پاکستان نے گزشتہ رات ویسٹ انڈیز میں اٹھایا تھا.انگلینڈ کے دونوں اوپنرز رائے برنز اور ڈوم سبلی کھاتہ کھولے بنا ہی پویلین پہنچ گئے اور پورے انگلش کیمپ میں سنسنی پھیل گئی.44کے مجموعہ پر حسیب حمید9 اور 67 کے اسکور پر جونی بیئرسٹو 2کر کے آئوٹ ہوگئے.
بھارت کی سب سے بڑی کا میابی
بھارتی ٹیم کی اس وقت خوشی کی انتہا نہیں رہی جب اسی 67 کےا سکور پر پہلی اننگ میں 180کے ساتھ ناقابل شکست اور ناقابل تسخیر رہنے والے انگلش کپتان جوئے روٹ تسخیر ہوگئے.روٹ بمراہ کی گیند پر اپنے ہم منصب ویرات کوہلی کو 33 اسکور کرکے کیچ دے گئے.یہاں سے بھارت کی جیت یقینی لگنے لگی تھی،انگلینڈ نے 67 رنز 4 وکٹ پر چائے کا وقفہ کیا تھا،مطلب آخری سیشن میں اس کے پاس 6 وکٹیں موجود تھیں لیکن آتے ہی سب سے پہلی وکٹ روٹ کی گری تو ہر جانب پریشانی پھیل گئی.
نازک موقع پر اچھی شراکت
انگلینڈ کے لئے نازک ترین موقع پرجوس بٹلر اور معین علی نے 16 اوورز گزار دیئے .90کے مجموعہ پر یہ شراکت اس وقت ٹو ٹی جب کھیل ختم ہونے میں صرف 22 اوورز باقی تھی،پہلے معین 13 اور پھر سام کرن صفر پر گئے،انگلینڈ کو ایک بار پھر جوس بٹلر اور اولی رابنسن نے مدد دی اور 12 اوورز گزاردیئے لیکن جب 10اوورز سے بھی کم کا کھیل باقی تھا تو بمراہ نے اولی رابنسن کو ڈرامائی ایل بی ڈبلیو کردیا،کیچ کی اپیل مسترد ہونے پر کوہلی نے ریویو لیا تھا جو کیچ تو نہیں تھا لیکن ایل بی تھا،یہ انگلینڈ کو بڑا دھچکا تھا کیونکہ پھر اسی اسکور پر 96 گیندیں کھیل کر بڑی دھال بنے جوس بٹلربھی 25 کرکے چلتے بنے،اب آخری وکت پر 8اوورز مشکل تھے،چنانچہ جمی اینڈرسن بھی اسی اوور میں چلتے بنے،انگلش ٹیم 52ویں اوور میں صرف120 رنزبناکر آئوٹ ہوگئی،بھارت نے یہ میچ 151رنزکے بڑے مارجن سے جیت لیا.ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2023 کی یہ بڑی اور پہلی کامیابی بھی ہے.بھارت کی فتح میں مرکزی کردار محمد سراج نے ادا کیا جنہوں نے صرف32 رنز دے کر 4 اور جسپریت بمراہ نے 33رنز دے کر 3 وکٹیں لیں ،ایشانت شرما نے بھی 2 آئوٹ کئے.
کرک سین کا خصوصی نوٹ
بھارتی ٹیم نے لارڈز کرکٹ گرائونڈ میں اس لئے تاریخی جیت اپنے نام کی ہے کہ 19 ویں ٹیسٹ میچ میں یہ اس کی صرف تیسری جیت ہے،ہوم آف کرکٹ میں بڑی ٹیمیں میچ جیتنا چاہتی ہیں .12 ناکامیوں کے بعد 3 فتوحات ہیں جب کہ صرف 4میچز ہی ڈرا ہوسکےہیں .انگلینڈ کے لئے یہ بڑی ذلت آمیز ناکامی ہے.
میچ کا کنٹرول ادھر سے ادھر
بھارتی کرکٹ ٹیم میچ کے پہلے روز حاوی رہی،دوسرے روز بھی اچھی رہی لیکن تیسرے دن انگلینڈ کا کنٹرول ہوگیا تھا اور چوتھے روز سارا دن میچ انگلینڈ کے نام رہا،انگلش ٹیم 5ویں روز بزدلی کی وجہ سے یہ ٹیسٹ ہاری ہے.بھارتی ٹیم کو اس کامیابی پر ہر جانب سے اچھے پیغامات ملیں گے،اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ مکمل انگلش ٹیم نہیں ہے کیونکہ متعدد پلیئرز ان فٹ ہونے کی وجہ سے باہر ہیں اور جمی اینڈرسن بھی مکمل فٹ نہیں تھے،اس کے باوجود کھیلے.اہم بات یہ ہے کہ جوئے روٹ کی 180 رنزکی اننگ رائیگاں گئی،انگلینڈ کا بھارت کو مختلف اوقات پر بڑے جھٹکے دینا بھی کام نہ آیا،پاکستان کے لئے بھی اس میں بڑا سبق ہے.
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2023 کی پہلی فتح
آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بھارت نے پہلی فتح حاصل کی ہے،اسے اس پر 12 پوائنٹ ملے ہین،اس کے مجموعی پوائنٹس 14 ہوگئے ہیں ،پہلا نمبر پے.بھارتی ٹیم اب اس سیریز کے لئے زیادہ فیورٹ ہوگئی ہے کیونکہ اس نے یہ ٹیسٹ میچ 2 سیشن سے بھی کم وقت میں آئوٹ کرکے سب کچھ لوٹ لیا ہے.انگلش کیمپ میں سناٹا ہے،لارڈز کے تاریخی پویلین میں مردگی چھائی تھی،کوچز اور کپتان سر پکڑے موجود تھے کیونکہ یہ ایسے وقت پر شکست تھی کہ جس کا سوچا بھی نہیں گیا تھا،ایسی غلطیاں پاکستانی ٹیم کی تعریف میں ہوتی ہں.
یہ بھی پڑھیں
لارڈز ٹیسٹ کس کا،بھارت کا دفاعی کھیل،نتیجہ کی ممکنہ پکچرز

Leave A Reply

Your email address will not be published.