ہوم آف کرکٹ میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کا منفی کھیل،بزدلانہ روش،میچ ڈرا

رپورٹ : عمران عثمانی

لارڈز ٹیسٹ میں دنیا کی صف اول کی ٹیم نیوزی لینڈ کی منفی کرکٹ،انگلینڈ کی بہت کم حد تک مثبت کرکٹ،میچ ڈرا ہوگیا،آسان لفطوں میں یوں کہہ لیں کہ کیویز نے بلند پرواز کی لیکن آخر میں وہ بھی سہم گئے اور اپنے پروں پر پانی نہیں پڑنے دیا جس کے بعد انتہائی گولڈن موقع گنوادیا،انگلینڈ میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل کے لئے موجود کیوی ٹیم کو میزبان ملک کے خلاف 2میچزکی ٹیسٹ سیریز کا ملنا کسی تحفہ سے کم نہیں ہے لیکن اس سیریزکے پہلے میچ میں کیوی ٹیم نے جس انداز کی پلاننگ کی اور بیٹنگ کی،اس سے اس کے نمبر ون بننے یا ٹیسٹ چیمپئن شپ ٹائٹل کی دوڑ میں آنے پر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں.’

اتوار کو لارڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کے5ویں روز پہلے کیوی ٹیم کی بیٹنگ نے میچ کو یقینی ڈرا کی جانب دھکیلا تو پھر بارش کی مداخلت سے میچ کے فیصلہ کن ہونے کی رہی سہی امیدیں بھی ختم ہوگئیں.کھانے کا وقفہ بھی بارش کی وجہ سے جلد کیا گیا ،بارش رکنے کے بعد جب میچ شروع ہوا تو نیوزی لینڈ نے تب جاکر 169 رنز6 وکٹ پر اننگ ڈکلیئر کی ورنہ کھانے کے وقفہ سے قبل اسی اسکور پر ان کی اننگ جاری تھی،اس طرح یہ یقین ہونے کے بعد کہ اب ہم نہیں ہاریں گے ،تب کیویز نے اننگ ختم کی،یہ ایک منفی اور بزدلانہ سوچ تھی،بہر حال دوسری جانب انگلینڈ کو فتح کے لئے 273 رنزکا ہدف ملا اور 75 اوورز،انداز اکر لیں کہ 75 اوورز میں اسے 273رنزکا تعاقب کرنا تھا.ہوم آف کرکٹ، ہوم آف انگلینڈ میں انگلش ٹیم کو 3 اعشاریہ 64 کی رن اوسط درکار تھی لیکن اس نے کسی بھی مرحلہ پر میچ جیتنے کی کوشش نہیں کی اور ڈرتے ڈرتے کھیلے.

انگلش اننگ کا ڈر سمجھ بھی آتا ہے کہ پہلی اننگ میں خسارے میں تھے،آخری دن کا کھیل ،چوتھی اننگ،کسی بھی ڈرامہ کا ڈر مگر کسی بھی مرحلہ پر کوشش کا نہ کیا جانا منفی کھیل کی عکاسی کرتا ہے.49 رنزکا اوپننگ اسٹینڈ لے لیا تھا،اس کے بعد اٹیکنگ کرکٹ بنتی تھی لیکن کہاں جناب!

49 رنزکی اوپننگ شراکت 24 ویں اوور میں جاکر ٹوٹی جب پہلی اننگ میں سنچری کرنے والے رائے برنز25رنزبناکر آئوٹ ہوگئے،اس کے لئے انہوں نے 81بالیں کھیلیں.7 رنزکے اضافہ کے بعد 2کے انفرادی اسکور پر زیک کرولی جب آئوٹ ہوئے تو انگلش ٹیم اور سہم گئی،نتیجہ یہ نکلا کہ ڈوم سبلی اور جوئے روٹ نے سست بیٹنگ کرنی شروع کی اور اس بات پر زور دیا کہ وکٹ نہ گرنے پائے،چنانچہ اننگ کے 56 ویں اوور تک روٹ اور سبلی اسکور کو 136 تک ہی لے جاسکے،80 رنزکی شراکت کاخاتمہ جوئے روٹ کی وکٹ گرنے کی شکل میں ہوا جو 71 بالز پر 40رنزکرکے نیل ویگنار کا شکار بنے.نئے بیٹسمین اولی پوپ نے بھی یہی سلسلہ جاری رکھا.کیوی کپتان کین ولیمسن نے آخری گھنٹہ کے کھیل میں5اوورز قبل جب ڈرا میچ مان لیا تو امپائرز نے کھیل ختم کرنے کا اعلان کردیا،انگلینڈ نے دوسری اننگ میں 70 اوورز کے کھیل میں 3 وکٹ پر170 رنزبنائے ،وہ فتح سے 103 رنز دور رہا،اوپنر ڈوم سبلی کی ثابت قدمی کا انداز ااس امر سے لگالیں کہ انہوں نے 60 رنز کے لئے 207 بالیں کھیلیں.اولی پوپ20 رنز پر ناٹ آئوٹ رہے.41بالیں وہ بھی کھیل گئے.

دوسری اننگ میں نیل ویگنار نے27رنز دے کر 2 اور ٹم سائوتھی نے37رنزکے عوض ایک وکٹ لی جبکہ ٹم سائوتھی میچ میں80رنز دے کر 7وکٹ لینے میں کامیاب رہے،اسی طرح انگلینڈ کے لئے ڈیبیو کرنے والے اولی رابنسن نے میچ میں 101رنز دے کر 7وکٹیں لی ہیں.

اس سے قبل نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کو لارڈز ٹیسٹ جیتنے کے لئے 273 رنزکا ہدف دیا . اتوار کی صبح نیوزی لینڈ نے 62 رنز 2 وکٹ سے اننگ شروع کی،گزشتہ روز کی سست بلے بازی کے نقصان کا اندازا اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج اس کے بیٹسمینوں نے تیز بیٹنگ کی تھوڑی کوشش ضرور کی لیکن بہت دیر ہوچکی تھی ،اس کوشش میں وکٹیں بھی گریں،اس میچ کا کیوی نقطہ نظر سے منفی پوائنٹ ایک روز قبل کا آخری سیشن تھا جب اس نے 103رنزکی برتری کے ساتھ 30اوورز میں صرف 62 اسکور کئے،میچ اسی وقت ڈرا کردیا تھا . آج ٹام لیتھم 36،نیل ویگنار10،راس ٹیلر 33 اور ہنری نکولس 23رنزبناکر وکٹ دے گئے.نیوزی لینڈ نے 22 اوورز کے کھیل میں مزید 107رنزجوڑے،بارش کے سبب کھانے کا وقفہ جلد کردیا گیا،نیوزی لینڈ نے اس وقت تک 6وکٹ پر169 رنزبنالئے تھے اور اس کی مجموعی برتری272 رنزکی تھی،اولی رابنسن نے 3 وکٹیں لیں.

لارڈز ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں نیوزی لینڈ نے 378 رنزبنائے تھے،ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے اوپنر ڈیون کونوے نے ڈبل سنچری کی تھی جبکہ انگلش ٹیم اوپنر رائے برنزکی 132 رنزکی جوابی سنچری کی بدولت 275 رنزبناکر آئوٹ ہوئی تھی.لارڈز ٹیسٹ اس اعتبار سے تو یاد رکھاجائے گا کہ یہاں ڈیبیو بیٹسمین کونوے نے ڈبل سنچری کی لیکن کیویز کے لئے یہ اچھا سائن نہیں ہے کہ مقابل انگلش ٹیم میں بین سٹوکس سمیت کئی سپر اسٹارز موجود نہیں تھے اور اس کے باوجود بھی کیوی ٹیم اچھی پوزیشن کے ہوتے ہوئے بھی میچ جیتنے میں ناکام ہوگئی .کونوے سپر اسٹار،میچ کے ہیرو،مین آف دی میچ بن کر خوش ہیں تو شاید یہی کافی ہوگا.دونوں ٹیموں کے مابین سیریز کا دوسرا وآخری ٹیسٹ میچ 10 جون سے ایج باسٹن میں شروع ہوگا،اس کے بعد کیوی ٹیم کو ایجز بول سائوتھمپٹن کا رخ کرنا ہوگا،جہاں 18جون سے بھارت کے خلاف ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا تاریخی فائنل کھیلا جائے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں