انضمام الحق کی جیت کے باوجود 2 بڑی خرابیوں کی نشاندہی،ناکام پلیئرز کا نام لینے سے گریز

پاکستان کی فتح پر جتنی بھی مبارکباد دی جائے کم ہے،انضما م الحق کہتے ہیں کہ پاکستان کے ٹاپ آرڈر نے اس دورے میں تسلسل کے ساتھ جس طرح پرفارم کیا،اس کی مثال نہیں ملتی،اسی طرح فخر زمان بھی کم بیک کرگئے،بابر اعظم اس سیریز میں جیسے کھیلے ہیں،میرے خیال میں یہ اگلے لیول کے پلیئر ہیں،یہ سارے ریکارڈز توڑیں گے،آج کی اننگ اس نے ایک بار پھر صفر سے شروع کی،ان کی بیٹنگ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتری آرہی ہے جب فخر مار رہے تھے تو انہوں نے خود کو روکا اورفخر کو اسٹینڈ دیا،یہ بڑی سیریز ہے،انہوں نے کپتانی بھی اچھی کی ہے.

پاکستانی ٹیم نے سیریز ڈرا کرنے کی پوری کوشش کی،شعیب اختر کا انکشاف

سابق کپتان انضمام کہتے ہیں کہ محمد رضوان بہت سٹائلش پلیئر نہیں ہیں لیکن اسکور کم کرتے ہیں تو یہ کافی اچھی چیزیں دکھائی دی ہیں.انضمام نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ 2 باتیں پریشانی کا باعث ہیں،ہم جیت رہے ہیں تو تعریف ہی کرتے جائیں تو یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن راکٹ سائنس کلیئر ہے،ہماری 2کمزوریاں ہیں،3 پلیئرز کے بعد کوئی نہیں چلا،حفیظ اچھا پلیئر ہے،نہیں چل سکا لیکن نمبر 5 اور 6 کے پلیئرز اچھے درکار ہیں ،کیونکہ 3بار ایسا ہوا ہے کہ جیتا ہوا میچ ہارے یا پھنساگئے.دوسری بات اسپنرز کی طرف سے ہے.عثمان قادر نہیں چل سکے تو ہمیں ایک لیگ اسپنر درکار ہے.

انضمام کہتے ہیں کہ ہر وقت پہلے 3پلیئرز نہیں چلا کرتے کیونکہ بعد والے پلیئرز کو بھی دیکھنا ہوگا.کوچنگ اسٹاف کی محنت ہمیں سکرین پر دکھائی نہیں دی لیکن ان کا بہت بڑا کردار ہے،اس لئے ان سب کو بھی بہت بہت مبارک ہو.پاکستان نے ورلڈ ٹی 20 میں جانا ہے،اس لئے ان کمزوریوں کو ابھی سے دور کرنا ہوگا ورنہ مشکل ہوگی،یہ 2کمزوریاں دور کردیں .پاکستان کی ٹیم ٹی 20 کی نمبر ون ٹیم بن جائے گی اوربھارت میں اچھے مقام پر کھڑی ہوگی.

انضمام مڈل آرڈر کے حوالہ سے نام نہیں لے سکے مگر سب نے دیکھا ہے کہ حیدر علی اور آصف علی مکمل طور پر ناکام گئے ہیں،پی سی بی منیجمنٹ کو دیکھنا ہوگا.یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ نئے چیف سلیکٹر محمد وسیم کی سلیکشن مسلسل بہتر جارہی ہے،ان کے حوالہ سے کہیں سے کوئی جملے سننے کو نہیں ملے.