کوہلی کو شکست،ایل بی ڈبلیو میں وکٹ کا فاصلہ وسیع،آئی سی سی نےکیا تبدیلیاں کیں؟

کرکٹ کی دنیا میں تبدیلیاں اب معمول کی بات ہوگئی ہیں،وہ وقت گزرگیا جب دہائیوں تک کسی بھی تبدیلی کا سوچنا ایک خواب ہوا کرتا تھا.اب ہر سال کچھ نہ کچھ چلتا رہتا ہے،تیکنالوجی کے اس دور میں کہیں نہ کہیں تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوتی رہتی ہے .آئی سی سی کے 2روزہ اجلاس کے بعد کچھ اس قسم کی تبدیلیوں سے متعلق باز گشت جاری ہے.

کرک سین چند روز قبل یہ بتا چکا تھاکہ انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کی کمیٹی نے امپائر کال بحال رکھنے کی سفارش کی ہے اور آئی سی سی بورڈز میٹنگ میں اسے ہی سند ملے گی.یہ بات درست ثابت ہوئی ہے.حال ہی میں بھارتی کپتان ویرات کوہلی کی جانب سے بہت اعتراض تھا کہ امپائر کال ختم کی جائے،ڈی آر ایس میں آئوٹ ہے تو بس آئوٹ.ناٹ آئوٹ ہے تو بس پھر ناٹ آئوٹ.یہ امپائر کال کی کیا ضرورت ہے لیکن جمعرات کو ختم ہونے والے آئی سی سی کے 2روزہ اجلاس کے بعد جوبا ت سامنے آئی ہے.وہ یہ ہے کہ امپائر کال بحال رہے گی.مخصوص کنڈیشن میں ڈی آر ایس کچھ بھی ظاہر کرے ،امپائر کا سافٹ سگنل حتمی ہوگا،اس طرح اس معاملہ پر تو کوہلی کو شکست ہوئی ہے.

کوہلی کی مخالفت رائیگاں،آئی سی سی کرکٹ کمیٹی کا امپائر کال پر اہم فیصلہ

آئی سی سی نے اس کے علاوہ ڈی آر ایس میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں،جس مٰیں ایک تبدیلی یہ ہے کہ بال کو وکٹ کے زون میں مزید کچھ ترقی ملی ہے اس کی اونچائی کو کچھ مانا گیا ہے،اب بیلز کے اوپر کے حصہ کو بھی گیند کے ٹچ ہونے کامطلب وکٹ اڑانا ہی ہوگا،اس سے قبل بیلز کے نیچے کا حصہ آخری حد تھی اس میں امپائر کا فیصلہ تبدیل ہوسکے گا.پہلا قانون بیلز کے نچلے حصہ تک کا تھا اور اب بیلز کے اوپر کے حصہ کو بھی شامل کیا گیا ہے.امپائر کے فیصلے کو برقرار رکھنے کاپیمانہ یہ بنایا گیا ہے کہ ففٹی پرسنٹ سے زیادہ کا جھکائو دیکھا جائے گا کہ بال ففٹی پرسنٹ ایسی جگہ شو ہورہی ہے کہ امپائر نے ناٹ آئوٹ دیا ہے لیکن 50فیصد بال بیلز کے حصہ میں اسےآئوٹ میں بدلا جاسکتا ہے.اس طرح آن فیلڈ امپائر کی کال کھڑی بھی ہے اور تبدیلی کی طرف بھی جاسکتی ہے.
دوسرا اہم فیصلہ یہ ہوا ہے کہ فیلڈنگ سائیڈ والی ٹیم کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ آن فیلڈ امپائرز سے ریویو لینے سے پہلے کہہ سکتے ہیں کہ بیٹسمین شاٹ کھیلنے کی کوشش میں تھا.

تیسری اہم ترین تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ نو بال کی طرح اب شارٹ رن پر بھی تھرڈ امپائر براہ راست مداخلت کرسکیں گے اور فیصلہ کریں گے.

آئی سی سی نے گزشتہ سال کی طرح کووڈ -19والےکرکٹ رولز برقرار رکھے ہیں،تھوک پر پابندی ہوگی،نیوٹرل امپائر کی ضرورت نہیں ہوگی.کووڈ 19کامتبادل پلیئر لیا جاسکے گا.

انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے اس میں تھوڑا سا ریلیف دیا ہے کہ گیند کا وکٹ کو لگنے کا دائرہ تھوڑا وسیع کرکے امپائر کے فیصلے کی تبدیلی بھی مشروط کردی ہے،باقی 2تبدیلیاں بھی کوئی بڑی بات نہیں ہیں.اہم بات یہ ہے کہ امپائر کال کو ختم کرنے کے تمام مطالبات مسترد ہوئے ہیں،اس کی مخالفت میں سب سے تگڑی آواز ویرات کوہلی کی ہوتی تھی.آسان لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ پانی میں مدھانی مارنے والی بات ہے،اس میں کچھ ایسا نہیں ہے کہ جیسے بہت کچھ بدل گیا ہو.

اپنا تبصرہ بھیجیں