پاکستان سمیت اہم ممالک کی شکست،بھارت فاتح،آئی سی سی گلوبل ایونٹس8سے 6کرنے پر راضی،بریکنگ نیوز

عمران عثمانی
Image By insidesport
انٹر نیشنل کرکٹ کی بڑی اور بہت حد تک تسلی بخش خبر یہ ہےکہ آئی سی سی اوربھارت میں مستقبل کے کرکٹ ایونٹس کے حوالے سے جاری جنگ ختم ہوگئی ہے او ر اس کے لئے مستقل حل بھی نکل آیا ہے۔2023 سے2031کے 8 سالہ آئی سی سی فیوچر ٹور پروگرام میں گلوبل ایونٹس کی تعداد کے حوالے سے بڑا ڈیڈ لاک تھا،آئی سی سی ہر سال ایک گلوبل ایونٹ کا خواہش مند تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ ہر سال ایک ایک ایونٹ ہوتا۔بھارت،انگلینڈ اور آسٹریلیا کو یہ منظور نہیں تھا جس کے باعث ایک سال سے معاملہ لٹکا ہواتھا۔نیوزی لینڈ نے بھی اس معاملہ میں ان کی حمایت کردی تھی جبکہ باقی بورڈز جیسا کہ پاکستان اور دیگر ممالک ہیں،وہ 8ایونٹس کی حمایتی تھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی سی سی بورڈز میٹنگ 2019 میںیہ منظور کیا گیا تھا کہ 8ایونٹس ہونگے لیکن اس کے بعد بگ تھری نے نہ صرف مخالفت کی تھی بلکہ مقابلہ میں 4ملکی ورلڈ چیمپئن سپر لیگ کا علان بھی کردیا تھا،اختلافات اتنے شدت اختیار کرگئے تھے کہ آئی سی سی کا اگلے 8 سالہ پلان کا منصوبہ کھٹائی میں پڑگیا،نتیجہ میں اس کی میزبانی کی بولی سمیت کئی عمل متاثر ہوگئے۔
کرک سین تحقیق کے مطابق اب آئی سی سی نے 2قدم پیچھے ہٹتے ہوئے 8کی بجائے 6ایونٹس کروانے کا فیصلہ کرلیا ہے جس پر بھارت سمیت باقی3 ممالک متفق ہوگئے ہیں۔اس طرح اب بولی کا عمل بھی جلد شروع ہوجائے گا۔صورتحال کا غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائےتو یہ ایونٹس معمول کے مطابق ہی ہونگے،ہر 2 سال بعد ورلڈ ٹی 20 ہونا تھا،8سال میں اس کے 4 ایڈیشن ہوں گے جبکہ ورلڈ کپ 4سال بعد ہوتا ہے تو اس کے 2 ایونٹس 8سال میں ہونگے،اس طرح آئی سی سی اضافی گلوبل ایونٹ رکھنے میں ناکام ہوگا۔کرک سین کا تجزیہ یہ ہے کہ آئی سی سی بگ تھری کے آگے اپنا منصوبہ ہار گیا ہے اور اس کے لئے 8کی بجائے اس نے 6ایونٹس کی منظوری دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے،ا س کا حتمی اعلان اگلے چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی اس معاملہ پرخاموشی اختیار کر رکھی ہے اور وہ ان 6میں سے ایک ایونٹ کا امید وار ہے،ورلڈ ٹی 20کا ایک ایڈیشن پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں ہوگا۔