فیصلہ کن معرکہ،سرفراز احمد کے ساتھ دیگر 2کون سے کھلاڑی فائنل،سیریزکا چیمپئن کون،بریکنگ نیوز

تجزیہ:عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ ٹیم کل بروز بدھ جنوبی افریقا کے خلاف ایک بار پھر اہم ترین معرکہ میں میدان میں اترے گی.سنچورین میں جنوبی افریقا اور پاکستان آئی سی سی ورلڈ کپ سپر لیگ سیریز کا فیصلہ کن معرکہ کھیلیں گے.قومی کرکٹ ٹیم کی اس میچ میں کامیابی کے امکانات کتنے ہیں،ہم اس پر بحث کریں گے اور یہ بھی دیکھیں گے کہ حتمی الیون میں کون کون سے کھلاڑی شامل ہونگے،شاداب خان کے ان فٹ ہونے اور دانش عزیز و محمد آصف کے مکمل فلاپ ہونے کے بعد کون سے نئے چہرے میدان میں اتارے جاسکتے ہیں.قومی کیمپ میں موجود کون سے کھلاڑی کل گرین کیپ پہنے میدان میں اتریں گے.

سب سے پہلے حتمی ٹیم سلیکشن کی بات کر لیتے ہیں اور یہ ضروری بھی ہے لیکن اس سے بھی قبل پاکستان کے اب تک کے کھیلے گئے میچز کو دیکھتے ہیں کہ کہاں اور کہاں ہمیں پریشانی ہوئی.دونوں میچز میں مڈل آرڈر فلاپ ہوئی بلکہ آخری میچ کا عالم یہ تھا کہ پاکستان نے 9وکٹ پر 324 اسکور کئے تھے،گویا 11 کھلاڑی بیٹنگ کے لئے میدان میں اترے،اب آپ اندازا کرلیں کہ 11میں سے ایک کھلاڑی فخرزمان نے 155 بالز پر 193کی اننگ کھیلی.یہ قریب 26 اوورز بنتے ہیں.باقی ماندہ 24 اوورز میں 10بیٹسمینوں نے صرف 131 اسکور کئے،کہاں 24 اوورز ،کہاں 10 بیٹسمین اور کہاں محض 124 اسکور.یہی حال پہلے میچ کا تھا کہ جب بابر اور امام نے 177رنزکی شراکت صرف 28اوورز میں بناڈالی.بابر نے104بالز پر 103 اور امام نے 80 گیندوں پر 70 جبکہ دونوں نے 29 اوورز میں 174 اسکور بنائے،ان کے علاوہ باقی بیٹسمینوں نے 100رنزکے لئے 21اوورز کھیلے .دونوں میچز میں مشترکہ بیماری ایک ہی رہی ہے کہ مڈل آرڈر میں کوئی ایک مستند بیٹسمین ذمہ دارانہ اننگ نہیں کھیل سکا تو اب تیسرے اور فائنل میچ میں تبدیلی نہایت ہی ضروری ہوگئی ہے.

سرفراز احمدجنوبی افریقا میں مجرم،ڈی کاک کیسے کلیئر،برطانوی اخبارنے تو لٹار ہی دیا

7اپریل کے سنچورین کے فائنل معرکہ میں اوپننگ کے لئے فخر اور امام ہونگے.بابر اعظم بھی کھیلیں گے،اسی طرح محمد رضوان بھی ایکشن میں ہونگے.آگے کیا ہوگا،اس کے لئے قومی کیمپ میں 2باتیں ہوسکتی ہیں.پہلی بات یہ کہ دانش عزیز کی جگہ حیدر علی کو لایا جائے جبکہ محمد آصف کی جگہ حسن علی لے لیں تو سوال ہوگا کہ شاداب کی جگہ کون لے گا؟شاداب لیگ اسپنر بھی ہیں تو ٹیم کو ایک اسپنر کی بھی ضرورت ہے اور اس کے لئے کیمپ میں عثمان قادر موجود ہیں،عثمان قادر کے آنے سے بیٹنگ لائن تو کمزور نہیں ہوگی؟
شاہین آفریدی،محمد حسنین،فہیم اشرف،حسن علی،حارث رئوف کے ساتھ عثمان قادر کی شمولیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک بیٹسمین کم ہوجائے گا لیکن اوور آل دیکھا جائے تو فہیم اور حسن بیٹنگ بھی اچھی کرلیتے ہیں اور ان کے ساتھ فخر،امام،حیدر،بابر،رضوان بھی ہونگے لیکن پاکستانی کیمپ اس کے علاوہ دوسری لائن پر بھی جاسکتا ہے کہ محمد حسنین کو ڈراپ کرکے حسن علی کو لایا جائے اور مڈل آرڈر میں سرفراز احمد کو موقع دیا جائے کہ وہ بطور بیٹسمین کھیلیں،اس صورت میں ہمارے پاس شاہین،فہیم،حارث اور حسن میڈیم پیسر ہونگے اور عثمان قادر اسپنر ہونگے.مطلب بائولنگ کی آپشن پوری پوری ہی ہونگی.

ایک بہترین آپشن اور بھی ہوسکتی ہے کہ شرجیل خان اور فخر کو بطور اوپنر لایا یا جائے.ون ڈئون پر امام الحق آئیں،پھر بابر اعظم آئیں،پھر محمد رضوان اور اس کے بعد حیدر علی یا سرفراز میں سے کوئی ایک ،شرجیل کو کھلانے کی صورت میں حیدر کےا مکانات کم ہونگے جبکہ سرفراز احمد کے زیادہ ہونگے.

کرک سین کا ماننا ہے کہ ٹیم میں فخرزمان،امام الحق،بابر اعظم،محمد رضوان ،سرفراز احمد ،حسن علی،فہیم اشرف،عثمان قادر،شاہین آفریدی،حارث رئوف اور محمد حسنین یا آصف علی ہوسکتے ہیں،اس طرح ٹیم میں سرفراز احمد ،حسن علی کی شمولیت یقینی ہے تاہم عثمان قادر کی شمولیت وکٹ دیکھ کر کی جائے گی اور آصف علی اور حیدر علی بھی ففٹی ففٹی مقابلہ ہوسکتا ہے.

پاکستان کرکٹ ٹیم نے دونوں میچزمیں بعد میں بیٹنگ کی اور ہدف کے تعاقب میں دونوں بار مشکلات پیش آئی ہیں لیکن سنچورین کی تیز پچ پر اگر پاکستان ٹاس ہارگیا تو اسے پہلے کھیلنا پڑسکتا ہے اوریہ ایک او ر بڑا امتحان ہوگالیکن پروٹیز کے پاس 5سینیئرز پلیئرز آئی پی ایل کی وجہ سے نہیں ہیں اس لئے بیٹنگ پہلے ہویا بعد میں،پاکستان فیورٹ ہے اور میچ کے ساتھ سیریز بھی جیت سکتا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں