کورونا نتائج آگئے، ٹیم کی کل اڑان ،روہت شرما کپتان کی بجائے نائب ،نیوزی لینڈ سے بھی اہم خبر

عمران عثمانی
ٰٰImage By PCB/Twitter

سری لنکا کرکٹ کے لئے اہم ترین مرحلہ آگیا،کیا اتفاق ہے کہ آئی لینڈرز اس وقت جنوبی افریقا میں سیریز بچانے،انجریزسے لڑنے میں مصروف ہیں لیکن ان کے ملک کی جانب ایک اہم ترین ٹیم فلائی کرنے والی ہے۔مکمل طور پر لاک ڈائون میں جکڑے انگلینڈ کے ملک سے ان کی نیشنل ٹیم کل ہفتہ 2جنوری 2021کو کولمبو کے لئے پرواز پکڑ رہی ہے،تمام اسکواڈ کے کورونا ٹیسٹ بھی ہوگئے،ان کے نتائج بھی آگئے جس کے مطابق تمام کھلاڑیوں کے کووڈ ٹیسٹ منفی آگئے ہیں،ٹیم گا لے میں 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلے گی،یہ وہ سیریز ہے جو گزشتہ سال مارچ میں اس وقت ملتوی ہوگئی تھی جب انگلستان ٹیم سری لنکا پہنچ کر دوسرا پریکٹس میچ کھیل رہی تھی۔
انگلش ٹیم 10 دن ہمبنٹوٹا کے بائیو سیکیور ببل میں گزارے گی۔14 اور 22 جنوری سے شیڈول ٹیسٹ میچز ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہیں اور انگلینڈ کے لئے یہ اہم ترین ہے کیونکہ فائنل ریس آخری مراحل میں ہے۔نیوزی لینڈ کے پوائنٹس ٹیبل پر اوپر آنے کے بعد اب صورتحال دلچسپ ہوگئی ہے۔کیویز کے فائنل کے امیدوار ہونے کی وجہ سے بھارت،آسٹریلیا اور انگلینڈ کے لئے تھرتھلی مچ گئی ہے۔انگلش ٹیم کا سری لنکا میں ٹیسٹ ریکارڈ زیادہ اچھا بھی نہیں ہے لیکن ان دنوں لنکن ٹیم انجریز اور مسائل کا شکار ہے۔
انگلینڈ کی شکست ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن کی پوائنٹس ٹیبل کی صورتحا ل کو مزید دلچسپ بنادے گی کیونکہ اس وقت آسٹریلیا اور بھارت کی سیریز بھی جاری ہے،نیوزی لینڈ اور پاکستان سیریز کا دوسرا وآخری ٹیسٹ ہونا ہے،ان کے نتائج بھی نہایت اہمیت کے حامل ہونگے۔بھارت آسٹریلیا سیریز اس وقت 1-1 سے برابر ہے ۔بھارت اس سیریز کوجیتنے کے لئے بہت ہی پر عزم ہے،ویرات کوہلی کے بغیر اس نے ٹیسٹ جیت لیا ہے جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں کپتانی کرنے والے اجنکا رہانے کوباقی ماندہ 2 میچز کے لئے بھی کپتانی دے دی گئی ہے۔روہت شرما جن کو بھارت کی محدود اوورز سیریز کے لئے اگلے کپتان کے طور پر ڈسکس کیا جاتا ہے،وہ اس سیریز میں رہانے کے نائب ہونگے،اس طرح انہیں قیادت نہیں دی گئی،مفروضے یہ تھے کہ وہ کوہلی کی عدم موجودگی میں کپتانی کریں گے لیکن دیکھتے رہ گئے ہیں۔روہت شرما نے انجری کی وجہ سے اسکواڈ کو اب ہی جوائن کیا ہے۔بھارت نے اپنے اسکوڈ میں ٹی نتارجن کو بھی شامل کرلیا ہے،وہ زخمی ہونے والےامیش یادیو کی جگہ لیں گے۔محمد شامی بھی ان فٹ ہوگئے تھے،اس طر ح بھارتی ٹیم انجریز میں گھرے ہونے کے باوجود دوسرا ٹیسٹ جیت گئی تھی ،اس لئے یہ حالات اس کے لئے زیادہ تشویشناک نہیں ہونگے۔
دونوں ممالک کے درمیان 4 میچز کی سیریز کا دوسرا ٹیسٹ7جنوری سے سڈنی میں شروع ہوگا لیکن اس وقت تک 3 جنوری سے شروع ہونے والا پاک نیوزی لینڈ ٹیسٹ ختم ہوچکا ہوگا،اس لئے کیوی ٹیم کی پوزیشن یا آسٹریلیا کے لئے جو بھی خطرہ ہوگا،وہ واضح ہوچکا ہوگا۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی ٹاپ پوزیشن 2 ہی ہونگی۔فائنل میں 2 ہی ٹیموں نے جانا ہے اور یہ فائنل 6ماہ بعد لارڈز میں کھیلا جائے گا لیکن اس کے لئے امیدوار اب 4 ہوگئے ہیں،آسٹریلیا نے اگر بھارت کو ہرادیا یا بھارت نے آسٹریلیا کو ہرادیا تو ایک ٹیم کی صورتحال کلیئر ہوجائے گی۔پھر بھارت ،انگلینڈ کی سیریز ہونی ہے،وہ اہم ہوگی لیکن اگر یہ دونوں سیریز برابری پر ختم ہوئیں تو نیوزی لینڈ جیسی ٹیم کو اوپر آنے کا موقع ملے گا۔اس لئے ان سیریز میں ایک ٹیم مکمل فرق سے ہارے گی تو صورتحال بہتر ہوجائے گی۔جنوبی افریقا اور سری لنکا سیریزکے نتائج کا ان پر اثر نہیں ہوگا۔
ویسے کیویز بھی تھوڑا انجری میںہیں،پیسر میٹ ہنری آگئے ہیں ،پاکستان ٹیم میں بابر اعظم کی واپسی کی صورت مشکل دکھائی دیتی ہے۔یہ ٹیسٹ 3 جنوری سے کرائسٹ چرچ میں شروع ہوگا۔