پی سی بی کو انضمام بھی مبارک،اب شعیب اختر اور عامر سہیل کا بھی بند وبست کرلیں

عمران عثمانی
Image By news
پاکستان کرکٹ ٹیم 26 جنوری سے جنوبی افریقا کے خلا ف 2ٹیسٹ میچزکی سیریز کا آغاز کر رہی ہے،باہر کی دنیا میں 4بڑی ٹیموں سے ہارنے کے بعد اب اپنے ملک میں بڑا چیلنج درپیش ہے۔پی سی بی کے لئے بھی ،کوچنگ اسٹاف کے لئے بھی اور بہت سے لوگوں کے لئے یہ سیریز نہایت ہی اہمیت کی حامل ہوگی۔شکست کی صورت میں بہت کچھ دائو پر لگے گا۔
پی سی کی پالیسی کی داد دینی پڑے گی ،ایک ایک کرکے سب سابق کرکٹرزومبصر کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے،شروع میں محمد یوسف بہت تنقید کرتے تھے،انہیں بھی کوچنگ کیمپ میں لے لیا گیا،پھر یونس خان بیٹنگ کوچ بنادیئے گئے۔وقار یونس کو بھی ساتھ لگادیا،مشتاق احمد بھی مل گئے،رمیز راجہ توپہلے بھی ہولا ہاتھ رکھتے ہیں،ہر دور میں پرو پی سی بی ہوتے ہیں،جاوید میاں داد درمیان میں بولنے لگے تھے،ان کے بھانجے فیصل اقبال کے کوچ بننے کے بعد وہ بھی چپ سادھ چکے ہیں۔
نیوزی لینڈ سیریز کےا ختتام تک انضمام الحق،رمیز راجہ اور شعیب اختر اپنے یوٹیوب چیلنلز پر بولتے رہے ہیں اور بعض اوقات پی سی بی،کوچنگ اسٹاف اور کھلاڑیوں کی کلاس بھی لگائی ہے لیکن ان میں سے رمیز تو ویسے ہی کمنٹری ٹیم کا حصہ ہونگے،انضمام کی بھی پی سی بی نے خدمات حاصل کرلی ہیں اور انضمام بھی اس پر خوشی سےپھولے نہیں سمارہے ہیں۔انضمام فرماتے ہیں کہ
تاریخی سیریز کا حصہ بننے پر بہت خوش ہوں۔اپنے تجزئیے، تجربےاور اینالسز سے پاکستان کرکٹ کے فینز کو محظوظ کروں گا۔کیا محظوظ کریں گے؟
کیا پرانے قصے سنائیں گے اور یا پھر اگر ہار گئے تو ہار پر کیسے محظوظ کریں گے؟
محمد یوسف،جاوید میاں داد،انضمام الحق کے آزادی والے تبصرے تو اب ختم سمجھیں لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ شعیب اختر کاکیا کرے گا؟
شعیب اختر کے لئے لگتا ہے کہ کوئی نوکری سیٹ نہیں ہوسکی،چند ماہ قبل یہ خبریں عام تھیں کہ انہیں پی سی بی میں ذمہ داری مل رہی ہے اور خود شعیب اختر نے بھی اطلاع دی تھی کہ ان سے پی سی بی نے رابطہ کیا ہےلیکن بیل منڈھے نہیں چڑھی۔
شعیب اختر نے حال ہی میں نیوزی لینڈ کے خلاف شکست پر خاصی تنقید کی تھی ،وہ آگے بھی کریں گے،اسی طرح عامر سہیل بھی خوب بولتے ہوتے ہیں۔
پی سی بی کو چاہئےکہ وہ ان دونوں کے لئے بھی کچھ انتظام کر ہی لے تاکہ چاروں جانب سے آوازیں بلند ہوں کہ ہر چیز ٹھیک جارہی ہے۔
انضمام الحق کی جانب سے بطور مہمان خصوصی پی سی بی ڈیجیٹل پر میچ رویوز اور اینالسز پیش کرنے کی ذمہ داری قبول کرنا بھی افسوسناک ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی 23 جنوری کو پاکستان کرکٹ کی اگلی ممکنہ 16رکنی سلیکشن،11کرکٹرز کے انتخاب یا پروٹیز سے گزشتہ ہاری گئی سیریز پر اپنے تبصرے کی بجائے کچھ اور بول رہے ہیں،انہوں نے 2ہفتہ بعد شروع ہونے والی انگلینڈ بھارت کی ٹیسٹ سیریز پر ابھی سے بات کردی ہے اور اس میں بھی ٹیم سلیکشن پر رائے دے رہے ہیں۔
انداز اکیا جاسکتا ہے کہ 2ہفتہ بعد شروع ہونے والی سرحد پار سیریز کا ٹاپک اہم ہے یا 2دن بعد شروع ہونے والی ملکی تاریخ کی اہم ترین ٹیسٹ سیریز؟
پاک جنوبی افریقا ٹیسٹ ہسٹری،نوجوان کرکٹرز کے لئے اپنے تجربات سمیت بتانے اور کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن بات وہی ہے ناکہ پی سی بی ڈیجیٹل پر آنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں