سنچری ٹیسٹ میں سنچری،انضمام الحق کا بڑا ریکارڈ جوئے روٹ کاہدف،خطرہ بڑھ گیا،منفرد معلومات

عمران عثمانی
Image By circleofcricket
انگلینڈ اور بھارت کے چنائی ٹیسٹ میں جوئے روٹ کی سنچری،پھر 100ویں ٹیسٹ میں سنچری کا تذکرہ تو آپ میچ کے پہلے روز کے اختتام سے قبل ہی یہاں پڑھ چکے ہیں اور یہ بھی جان چکے ہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ کی144سالہ تاریخ میں 100ویں ٹیسٹ میں 100رنزکا کارنامہ صرف9ویں کھلاڑی نے سرانجام دیا ہے اور وہ ہے انگلش کپتان جوئے روٹ،جنہوں نے بھارت میں بھارت کے خلاف یہ گراں قدر اور تاریخی اننگ کھیلی لیکن یہاں میں ایک اور اہم ریکارڈ کی جانب اشارہ کر رہا ہوں کہ جس کا تعلق پاکستان سے جڑا ہے،یہ اس وقت تک تو پوشیدہ ہے لیکن آج میچ کے دوسرے روز اگر یہ ریکارڈ ٹوٹ گیا تو پھر انٹر نیشنل میڈیا کی زینت بن جائے گا۔
جوئے روٹ کی 100ویں میچ میں سنچری،بھارتی پہلے دن ناکام،ویسٹ انڈیز ٹیم بھی بے بس
ریکارڈ کے تذکرے سے قبل ایک اور اہم بات بھی واضح کرتا چلوں کہ 100ویں ٹیسٹ میں سنچری کا کارنامہ 9ویں کھلاڑی نے ضرو ر سرانجام دیا ہے لیکن ایسا 10ویں بار ہوا ہے۔
9بیٹسمینوں نے 10بار کیسے کردیا؟سوال تو بنے گا،اس کا جواب یہ ہے کہ ایک کھلاڑی ایسے بھی گزرےہیں کہ جنہوں نے 100ویں ٹیسٹ میں 2بار سنچری جڑ دی۔مطلب دونوں اننگز میں تھری فیگر اننگ کھیل کر اسے مزید باوقار بنادیا۔ان کے تذکرے سے قبل ذرا ایک نظر پورے ریکارڈ پر ہی ڈالتے ہیں۔ٹیسٹ کرکٹ میں ایسا پہلی بار جولائی 1968میں اس وقت ہوا جب انگلینڈ کے کولن کائوڈرے نےاپنے ہوم گرائونڈ برمنگھم میں آسٹریلیا کے خلاف 100ویں ٹیسٹ میں 104رنزبنائے۔دوسری بار یہ اعزاز پاکستان کو حاصل ہوا جب دسمبر 1989میں بھارت کے خلاف انہوں نے لاہور میں 145رنزکی اننگ کھیل لی،ان کا 100واں میچ تھا۔ویسٹ انڈیز کے گورڈن گرینج نے اپنا100واں ٹیسٹ اپنے ہی علاقے سینٹ جانز ووڈ میں اپریل 1990میں انگلینڈ کے خلاف کھیلا اور149رنزبناڈالے۔اگست 2000میں انگلینڈ کے ایلک سٹورٹ نے مانچسٹر میںویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے 100ویں میچ میں 105رنزکی باری کھیل لی۔یہ 4واقعات ایسے تھے جس میں ریکارڈ بنانے والے بیٹسمینوں نے اپنے ہی ملک کا ایڈوانٹیج لیا،ظاہر ہے کہ ہوم گرائونڈ،ہوم کرائوڈ اور مرضی کی پچ کا بڑا کردار ہوتا ہے لیکن دنیائے کرکٹ میں 5واں کارنامہ ایک ایسے کھلاڑی نے ملک سے باہر انجام دیا جو کسی طرح بھی آسان نہ تھا،اوپر سے روایتی حریف کا دبائو بھی تھا۔
جی ہاں،پاکستان کے انضمام الحق نے بھارت کے خلاف بھارت میں بنگلور کے مقام پرمارچ 2005میں اپنے 100ویں ٹیسٹ میں سنچری بنادی،انہوں نے 184رنزکی بڑی اننگ کھیلی۔اگلا واقعہ پھر ہوم گرائونڈ کا تھا،آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ نے سڈنی میں اپنے 100ویں ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریز بنادیں،جولائی 2006میں جنوبی افریقا کے خلاف پہلی اننگ میں 120ا ور دوسری میں وہ 143رنز پر ناٹ آئوٹ گئے۔جولائی 2012میں جنوبی افریقا کے گریم اسمتھ نے انگلینڈ کے خلاف اس کے گھر اوول میں اپنے 100ویں میچ کو یادگار بنادیا جب انہوں نے131رنزکی اننگ کھیلی۔جنوری 2017میں جنوبی افریقا کے ہاشم آملہ نے سری لنکا کے خلاف جوہانسبرگ میں 134رنزکی اننگ کھیل کر اپنے 100ویں میچ کو یادگار بنادیا تھا.
اب 5فروری 2021کو انگلش کپتان جوئے روٹ نے بھی ملک سے باہر بھارت کے خلاف چنائی میں اپنے 100ویں میچ کی پہلی اننگ میں سنچری بنادی ہے،وہ یہ سنگ میل عبور کرنے والے دنیا کے 9ویں کھلاڑی ہیں مگر واقعہ 10ویں بار ہواہے۔
اب آتے ہیں اس ریکارڈ کی جانب جس کا شروع میں ذکر کیا تھاا ور جس کا تعلق پاکستان کے ساتھ جڑا ہے اور اتفاق سے مقام بھی بھارت کا ہے۔انگلش کپتان جوئے روٹ نے اپنے 100ویں میچ میں سنچری تو بنالی ہے لیکن وہ 128پر ناٹ آئوٹ ہیں،ہفتہ 6فروری کو میچ کے دوسرے روز وہ اپنی اننگ ایک بار پھر شروع کریں گے۔100ویں ٹیسٹ کی 10 سنچری اننگز میں سب سے بڑی اننگ کھیلنے کا اعزاز انضمام الحق کو حاصل ہے،جیسا کہ ذکر ہوا،انہوں نےبنگلور میں 184کی اننگ کھیلی تھی۔انگلش کپتان جوئے روٹ کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ اپنی اننگ کو طول بخشیں اور 57رنز مزید جوڑ کر وہ انضمام سے آگے نکل جائیں ،اگر ایسا ہو تو وہ 100ویں ٹیسٹ میں سب سے بڑی اننگ کھیلنے والے دنیا کے ٹاپ پلیئر بن جائیں گے اور انضمام کا ریکارڈ پیچھے رہ جائے گا،اتفاق سے انضمام نے بھی بھارت میں بھارت کے خلاف اتنا اسکور کیا تھا اور جوئے روٹ بھی بھارت میں بھارت کے خلاف کھیل رہے ہیں،روٹ نے اگر انضمام کا ریکارڈ توڑدیا تو پھر وہ ڈبل سنچری کی جانب پیش قدمی کریں گے جو اس کے بعد 15رنزکی دوری پر ہوگی اور سنچری میچ میں ڈبل سنچری دنیا ئے کرکٹ کے لئے ایک منفرد،بڑی اور قابل توجہ خبر ہوگی،یہ نیا ریکارڈ ہوگا۔
اس کے لئے چنائی میں 6فروری کو دوسرے روز کے کھیل کا انتظار کرنا ہوگا جوچند گھنٹوں کے بعد شروع ہونے والا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں