سنچری،نمبر ون ہونے کے باوجود بابر اعظم کے لئے سنگین خطرہ،تشخیص حاضر،علاج کی ضرورت

تجزیہ:عمران عثمانی

بڑے میچ کا بڑا کھلاڑی کون ہوتا ہے،رنزکے انبار لگانے،سنچریز جڑنے،حتیٰ کہ آئی سی سی پلیئرز رینکنگ بھی پلیئر کو بڑا نہیں بناتی،بڑا پلئیر وہ ہوتا ہے جو میچ جتوائے،بھلے 50اسکور کرے،بھلے سنچری سے دور ہو،بھلے رینکنگ کے پاس بھی نہ ہو،زمانہ ایک وقت تک سچن ٹنڈولکر کو بڑے میچ کا کھلاڑی نہیں مانتا تھا،انضمام الحق کو دیکھ لیں کہ ٹیسٹ کی چوتھی اننگ،ون ڈے کی دوسری اننگ میں سنچریز کرکے وننگ نوٹ پر اننگ فنش کرتے تھے.

پہلا ون ڈے،متعدد اتار چڑھائو کے بعد میچ پاکستان کے نام،اصل ہیرو بابر اعظم نہیں،کوئی اور

جمعہ کو پاکستان نے پروٹیز کے خلاف آسان میچ سخت مقابلہ کے بعد 3وکٹ سے جیتا،آخری 2اوور اور پھر آخری اوور،حتیٰ کہ آخری بال پر میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا تھا.ایک بال پر وکٹ گرسکتی تھی،بال ضائع ہوسکتی تھی،اسکور بننا ناممکن ہوسکتا تھا .مطلب چانسز ففٹی ففٹی ہوگئے تھے،یہ سب کیوں ہوا؟ صرف اس لئے کہ سنچری میکر اپنی اننگ کو ناقابل شکست اور میچ وننگ اننگ میں کیوں تبدیل نہیں کرسکا،ایک وقت تھا کہ 70 اور 80کے درمیان وکٹ دینا معمول تھا،اب سنچری بناتے ہی چل پڑتے ہیں،سنچری جیسی اننگ کے بعد وکٹ دینے کامطلب اچھا بیٹسمین ہونا نہیں بلکہ نہایت ہی کمزور ہونا ہے کہ سیٹ بلے باز کیسے آئوٹ ہوگیا،پہلی اننگ میں ڈیئر ڈوسین نے تو بابر سے بھی سخت حالات میں نہ صرف سنچری اسکور کی بلکہ 123تک گئے اور ناٹ آئوٹ گئے.

دانش عزیز کا ڈیبیو،پاکستان ٹاس جیت گیا،پہلے فیلڈنگ،سرفراز احمدبدستور باہر

یہی حال اما م الحق کا تھا،بابر کی وکٹ گرنے کے بعد ایک شاٹ پچ بال پر غیر ذمہ دارانہ انداز میں وکٹ کیوں گنوائی.80بالز پر 70کی اننگ سے آپ کی ٹیم میں تو جگہ بن گئی لیکن قد کاٹھ کتنا بڑھا.ان بلے بازوں کے آئوٹ ہونے کے بعد پاکستان کے ساتھ کیا ہوا؟بڑا خمیازہ بھگتنا پڑا.اگر میچ ہارجاتے یاٹائی بھی ہوجا تا تو ناقابل معافی جرم ہوتا،بابر اورامام ،خاص کر بابر اپنے ساتھی پلیئرز رضوان اور شاداب کے مشکور ہوں کہ انہوں نے گرتے پڑتے میچ جتوادیا.

یہ تنقید برائے تنقید نہیں ہے.اعدادوشمار پیش خدمت ہیں،جس وقت بابر آئوٹ نہیں ہوئے تھے تو پاکستان کا اسکور ایک وکٹ پر 186تھا.110 بالز پر صرف 88رنز درکار تھے.ان کے اور بعد میں امام کے آئوٹ ہونے کے بعد کیا ہوا.پاکستان نے 110 بالز میں 6وکٹیں گنوائیں اور بڑی مشکل سے 88رنز بنائے.اگر یہی سنچری میکر پلیئر سیٹ ہوکر اپنی اننگ جاری رکھتے تو پاکستانی فینز کو یہ سنسنی خیزی دیکھنی پڑتی؟

دوسری بات یہ ہے کہ جنوبی افریقا نے ایک ایسی پچ پر ٹاس ہارا تھا جہاں پہلے 2گھنٹے وکٹ پر پیسرز کے لئے مدد موجود تھی،اگر پاکستان پہلے کھیلا ہوتا تو پاکستان سے 273 نہیں بن سکتے تھے،اس کے باوجود پروٹیز نے 273بنالئے لیکن اگر شروع کی 4وکٹیں نہ گرتیں اور یہ ہدف 290سے 300کے درمیان ہوتا تو کیا ہوتا؟

چنانچہ یہ پرفارمنس قابل اعتماد نہیں ہے،وننگ نوٹ والی نہیں ہے اور قابل فخر بھی نہیں ہے،آج سنچری اور اگلے 2میچزمیں کچھ اسکور کرکے بابر کوہلی سے آگے نکل جائیں اور پہلی پوزیشن بھی لے لیں تو بھی یہ مسائل دور نہ ہوئے تو خسارے کا بڑا نوٹ تیار ہے.اس میں ٹیم سلیکشن کے بھی ایشوز چل رہے ہیں.آج کے میچ میں آصف علی کی سلیکشن غلط تھی،اسی طرح اوپننگ پیئر میں دونوں سائیڈز کے لیفٹ ہینڈڈ بلے باز رکھنا بھی عجب بات ہے.لیفٹ ،رائٹ کا کمبی نیشن ہی بہترین پیئر بنتا ہے.

بابر اعظم کی اننگ کی کمزوری کا اندازا اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 78ایک روزہ میچزمیں 13سنچریز بنائیں،16ففٹیز بنائیں لیکن ان کا ہائی اسکور 125 سے اوپر نہیں گیا.31ٹیسٹ کی 57کی اننگز میں 5سنچریز اور 16ففٹیز کے ہوتے ہوئے انکا ہائی اسکور صرف 143ہے.اس کا مطلب ہے کہ ان سے ڈبل سنچری کی امید کرنا بھی غلط ہوگا.پاکستانی کپتان کو اس پر غور کرنا ہوگا. یہ تنقید نہیں بلکہ تشخیص ہے،اس کے علاج کی ضرورت ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں