سنچورین کےموسم،پچ کا احوال،امام الحق کی سنچری،بابر کی اننگ کیوں رائیگاں،تبدیلی درکار

رپورٹ:عمران عثمانی


(پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقا،پہلا ون ڈے میچ،سنچورین،جمعہ،2اپریل 2021،دوپہر ایک بجے،پاکستانی وقت.موسم صاف رہنے کی پیش گوئی ہے اور وکٹ بیٹنگ کے لئے سازگار ہوگی لیکن پہلے گھنٹے میں پیسرز اور آخری گھنٹوں میں اسپنرز کے لئے بھی مدد موجود ہوگی.)

پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان 3ایک روزہ میچزکی سیریز کا آغاز کل جمعہ سے ہورہا ہے.2اپریل 2021کو سپر سپورٹ پارک سنچورین میں دونوں ممالک 2021 کا پہلا ون ڈے میچ کھیلیں گے بلکہ جنوبی افریقا کی بات کریں تو وہ ایک سال کے بھی کچھ دیر بعد ایک روزہ میچ کھیل رہا ہے،اس نے آخری بار مارچ 2020میں ہوم گرائونڈ میں ون ڈے میچ آسٹریلیا کے خلاف کھیلا تھا جبکہ پاکستان نے زمبابوے کے خلاف گزشتہ سال کے آخر میں ہوم گرائونڈ زمیں ایک روزہ سیریز کھیلی اور جیتی تھی تو دونوں ممالک رواں سال کا پہلا ایک روزہ میچ کھیلیں گے.

آئی سی سی ورلڈ کپ سپر لیگ میں یہ پاکستان کی دوسری اور جنوبی افریقا کی پہلی سیریز ہے.پاکستانی کرکٹ ٹیم تینوں میچز جیت کر بھارت کیا بلکہ سب سے اوپر پوائنٹس ٹیبل پر نمبر ون ہوسکتی ہے اور ساتھ میں ون ڈے درجہ بندی میں بھی اس کا چھٹے سے 5واں نمبر ہوجائے گا.

سنچورین میں پاکستان کا ریکارڈکیسا،ایک بڑی ہی تلخ یاد وابستہ

جنوبی افریقا اپنے نئے کپتان تیمبا باووما کی قیادت میں سامنے آئے گا جبکہ بابر اعظم کا اصل امتحان یہاں ہوگا،دونوں ممالک کا آخری ایک روزہ میچ ورلڈ کپ 2019میں ہوا تھا جب پاکستان نے 23جون کو اسے 49رنز سے شکست دے دی تھی.دونوں ممالک کے باہمی مقابلوں کا احوال کرک سین پہلے ہی پیش کرچکا ہے کہ 78میچزمیں سے پاکستان صرف 28جیتا اور 50ہارا ہے،اسی طرح سنچورین میں پروٹیز کے خلاف 6میں سے 4مقابلے ہارچکا ہے اور صرف 2میچ جیتا ہے.یہ اعدادوشمار زیادہ اچھے نہیں ہیں لیکن ایک اہم بات بابر اعظم کے ذہن میں ہونی چاہئے ،اس کا ذکر آگے چل کر کرتے ہیں.

ورلڈ کپ سپر لیگ پوائنٹس ٹیبل،پاکستان کس انوکھی نصف سنچری کے قریب،کیسا سنہرا موقع

جنوری 2019میں پاکستان نے جنوبی افریقا میں جو ون ڈے سیریز کھیلی تھی،اس کا ایک میچ یہاں ہوا تھا،امام الحق کی سنچری رائیگاں چلی گئی،بابر اعظم کے 69 اور حفیظ کے52رنزکا فائدہ محض اتنا تھا کہ پاکستان 6وکٹ پر 317کرگیا لیکن کمال بات یہ رہی کہ وہ میچ ہارگیاتھا.بارش کے باعث ڈک ورتھ پر جنوبی افریقا کے لئے 33اوورز میں 175کا ہدف بنتا تھا لیکن وہ 2وکٹ پر 187کرچکا تھا،اس لئے 13رنز سے جیت گیا،سب سے زیادہ پٹائی شاداب خان کی ہوئی جنہوں نے 6اوورز میں46رنزدیئے،شاہین نے6اوورز میں 37رنزدیئے،دونوں کو وکٹ نہ ملی،حسن علی نے 33رنز دے کر ایک وکٹ لی تھی.عامر بھی ناکام رہے تھے.مارچ 2013 میں پاکستان نے یہاں پروٹیز کو 191پر آئوٹ کرکے مصباح کی قیادت میں میچ جیتا تھا اور یا پھرپہلی کامیابی فروری 1993میں 22رنز سے اپنے نام کی تھی.

خسارے کے باوجودپاکستان ون ڈے سیریز کیوں جیت سکتا،کووڈ رپورٹ بھی آگئی

پاکستان کی موجودہ ٹیم میں بابر،حسن،شاداب،شاہین،امام وغیرہ سب ہی ہیں لیکن اس بار کسی نے سنچری کرنی بھی ہوتو اس کی
ا فادیت بھی ثابت کرنی ہوگی.افادیت محض جیت سے ہی نہیں ہوتی بلکہ اسٹرائیک ریٹ کی بھی اہمیت ہوتی ہے،امام نے یہاں 2برس قبل 116 بالزپر101رنزکئے تھے،یہ ذاتی نوعیت کی اننگ تو تھی مگر اجتماعی طور پر بہتر حصہ نہیں رکھتی تھی.بابر نے بھی 69رنزکے لئے 72بالیں کھیلیں تھیں،اب ایسا نہیں چلے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں