تیسرا ٹی 20،سنچورین پاکستان کے لئے 2 اعتبار سے منفرد،محمد حفیظ کے لئے خوش قسمت

تجزیاتی رپورٹ:عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ ٹیم نے جنوبی افریقا کے خلاف ٹی 20 سیریز جیتنی ہے. ڈرا کا چانس کرنا ہے اور یا ہارنی ہے. اس کا فیصلہ اب ہونے کو ہے. 4 میچز کی سیریز 1-1 سے برابر ہے اور تیسرا میچ جیتنے والی ٹیم سیریز کھونے کے خوف سے آزاد ہوجائے گی. پھر چوتھے میچ میں ناکامی سے بچنے کی کوشش ہوگی کہ کسی طرح ٹرافی لی جائے اور اگر پاکستان کل ہارگیا تو پھر آخری میچ میں سارا زور سیریز برابر کرنے پر صرف ہوگا. اس لئے تیسرا میچ دونوں سائیڈز کے لئے بہت اہم ہے.

جنوبی افریقا اور پاکستان بدھ 14 اپریل کو سنچورین میں مدمقابل ہونگے. یہاں کا میدان پاکستان کے لئے 2 اعتبار سے خوش قسمت رہا ہے. رواں دورے میں دونوں ایک روزہ میچز یہاں جیتے گئے اور پاکستان ایک روزہ سیریز جیت گیا.دوسرے اعتبار سے تو بڑا ہی ایڈ وانٹیج ہے کہ سنچورین میں پاکستان ٹی 20 کرکٹ میں ناقابل شکست ہے. یہاں گزشتہ 8 سال کے عرصے میں ہوئے دونوں میچز پاکستان کے نام رہے ہیں. سپر سپورٹ پارک میں پاکستان کے دونوں میچز ہی میزبان ٹیم کے خلاف ہیں.

اتفاق سے دونوں میچز میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کی. 2013 میں 95 رنز کے بڑے اور 2019 میں 27 رنز کے معقول مارجن سے پاکستان کامیاب ہوا.

مارچ 2013 کے میچ کے ہیرو محمد حفیظ تھے جو اتفاق سے کپتانی بھی کر رہے تھے. انہوں نے 51 بالز پر 86 رنز کی بڑی اننگ کهیلی اور پاکستان نے ان کی وجہ سے 195 اسکور کئے. پروٹیز 100 پر دھر لئے گئے تھے. اس سیریز میں حفیظ صرف 13 اور 32 کی ہی اننگز کھیل پائے ہیں. ان سے ان کے پسندیدہ مقام پر 8 سالہ پرانی اننگ کی یادیں تازہ کئے جانے کی امیدیں ہیں.

فروری 2019 میں پاکستان کے 9 وکٹ پر بنائے گئے 168 رنز بھی خوب تھے. 26 سے زیادہ کسی کا اسکور نہیں تھا. آخر میں شاداب کے 8 بالز پر بنائے گئے 22 سکور نے کمک دی تھی ورنہ محمد رضوان 26،آصف علی 25 اور بابر اعظم 23 کرسکے تهے.عماد وسیم نے 19 اور فہیم اشرف نے 17 کئے.سب کا تھوڑا تھوڑا حصہ کام دکھایا. پھر محمد عامر نے 27 رنز دے کر 3 شاداب اور فہیم اشرف نے 2،2 وکٹیں لے کر پاکستان کو کامیابی دلوائی. پروٹیز 141 تک محدود رہے.