بابر اعظم کے ٹاس جیتنے،فیلڈنگ کرنے،میچ ہارنے کی پیش گوئی 100 فیصد سچ،اب اگلی کہانی بھی جانئے

تجزیہ : عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ ٹیم کی زمبابوے کے خلاف شکست پر مختلف انداز میں رد عمل جاری ہے اور 99فیصد رائے یہی ہے کہ مڈل آرڈر کا جاری فلاپ شو ہی اس شکست کا سبب بنا ہے اور یہ بات درست ہے کہ جب ٹیم 2سے 3پلیئرز پر مسلسل انحصار کرے اور وہی کسی نہ کسی طرح کشتی پار لگارہے ہوں تو پھر ایسا دن ان کے لئے بھی آسکتا ہے کہ اس روز وہ بھی کچھ نہ کرسکیں اور ٹیم کا بیڑا غرق ہوجائے.ابھی تو زمبابوے کے دوسرے ٹی 20میچ میں بابر اعظم وکٹ پر رک بھی گئے تھے اورٹیم کے99میں سے آدھے اسکور ان کے ہی تھے لیکن دیکھ لیں کہ باقی پلیئرز کیا کرسکے.

سابق کپتان و چیف سلیکٹر انضمام الحق بھی یہ وجہ بیان کر رہے ہیں کہ مڈل آرڈر میں اچھے بیٹسمینوں کی ضرورت ہے ،انہوں نے تو حیدر علی کی اسکلز یا سیکھنے کی صلاحیت پر سوال اٹھایا ہے جو درست ہے.دوسری بات یہ ہے کہ کسی بھی بیٹسمین کو بغیر تیاری کے آپ اچانک اںٹر نیشنل میچ کھلادیں تو وہ بوجھ اٹھا نہیں سکے گا اور تیسری بات یہ ہے کہ مڈل آرڈر میں متبادل کون ہے.

آپ نے کرک سین پر شعیب اختر اور رمیز راجہ کو بھی پڑھ لیا .رمیز نے تو ذمہ داروں سے جواب طلب کرلیا ہے لیکن ذمہ دار کون ہیں ،یہ واضح نہیں کیا.اسی طرح اس شکست کے بعد ٹیم سے ڈراپ ایک اور سینئر کرکٹر شعیب ملک کا بھی رد عمل آیا ہے کہ ٹیم سلیکشن درست نہیں ہے اور انہوں نے تو محدود اوورز کرکٹ کے لئے نئے کوچ کی بات کی ہے.کسی نے بھی اس طرف اشارہ نہیں کیا جو کہ اس ٹیم کے انتخاب کے وقت ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا تھا کہ چیف سلیکٹر محمد وسیم نے کپتان بابر اعظم کی رائے کوردی کی نذر کرکے اپنی مرضی کی ٹیم سلیکٹ کی ہے اور اس وقت پاکستان کرکٹ کا یہ ہاٹ ایشو تھا جو اب دب چکا ہے.

کرک سین نے گزشتہ روز میچ سٹوری میں کیا لکھا تھا کہ

ہرارے میں موسم آج بھی کرکٹ کے لئے آئیڈیل ہوگا اور پچ اگر چہ تبدیل ہوگی لیکن خیال ہے کہ اس کے حالات بھی پہلے میچ کی طرح ہونگے کہ اسکور بنانا چیلنج ہوگا.ٹاس جیتنے والی سائیڈ ایک بار پھر بائولنگ کو ترجیح دے گی.بابر اعظم کی قسمت میں ٹاس کا سکہ جاسکتا ہے.زمبابوے ٹیم اگر چہ کمزور ہے لیکن اگر پاکستانی کیمپ کا یہی حال رہا تو عین ممکن ہے کہ وہ مسلسل 15 ناکامیوں کے بعد پاکستان کے خلاف ڈیبیو فتح رقم کرہی دے.

مجھے یقین ہے کہ آپ نے اس تبصرے کو بغور پڑھا ہوگا.اگر نہیں تو ایک بار پھر اس کی وضاحت کردیتا ہوں کہ میں نے لکھا تھا کہ ٹاس کا سکہ بابر اعظم کے حق میں جاسکتا ہے اور وہ پہلے بائولنگ کریں گے،صاف الفاظ میں لکھا تھا کہ پاکستانی کیمپ کا حال یہی رہا تو زمبابوے پاکستان کے خلاف 15ناکامیوں کے بعد ایک تاریخی فتح رقم کردے.

دوسرا ٹی 20 آج،پاکستانی کیمپ میں پینک بٹن آن؟ٹیم سلیکشن،ٹاس،وکٹ اور ممکنہ نتیجہ کا ذکر

چنانچہ ٹاس کی پیش گوئی،بابر کے متوقع فیصلہ کی بات 100 فیصد درست ہوئی اور اسی طرح پاکستان کی شکست کی جانب جو اشارہ کیا تھا ،وہ بھی 100 فیصد سچ ثابت ہوا ہے.یہی نہیں بلکہ اسی تبصرے میں لکھا تھا کہ پاکستانی ٹیم میں تبدیلی نہیں بنتی لیکن ٹیم منیجمنٹ نے محمد نواز کو ہی باہر بٹھادیا جو اپنی بیٹنگ کی مدد سے جنوبی افریقا میں پاکستان کو ایسے ہی ایک لوسکورنگ شو میں جتواچکے تھے.

پاکستان کرکٹ کی بنیادی خرابی کہاں ہے اور اس کا ذمہ دار کو ن ہے،اسے سمجھنا نہایت ہی ضروری ہے.گزشتہ 2 عشروں کی تباہی ایک داستان ہے جس نے آج یہ دن دکھایا ہے .ہم نے وقت سے قبل سعید انور اور ثقلین مشتاق جیسے پلیئرز کو نکال دیا.پھر 2007 آیا تو ہم نے انضمام الحق کو خدا حافظ کہا.پھر کچھ وقت اور گزرا تو محمد یوسف اور عبد الرزاق جیسے پلیئرز کو ذلیل کیا اور پھر کرکٹ ایک ایسے ہاتھ میں چلی گئی جس نے دفاعی اور خوف والے کھیل کی بنیا رکھ دی.اگر انضمام کو 2010 تک ٹیسٹ فارمیٹ کی کپتانی دی ہوتی اور اسی طرح 2010میں یوسف کو رخصت کرنے کی بجائے انہیں 2سال مزید دیئے جاتے،اس کے بعد مصباح کو صرف ٹیسٹ ٹیم تک رکھا جاتا اور محدود اوورز کرکٹ پر مصباح کی حکمرانی کی بجائے عبد الرزاق جیسے آل رائونڈر ہوتے تو آج پاکستانی ٹیم کچھ اور شکل میں ہوتی

ہم نے عبد الرزاق کو 31 سال کی عمر میں چلتا کردیاجنہوں نے 265 ایک روزہ میچز میں 5ہزار سے زائد رنز اور 269وکٹیں لے رکھی تھیں اور اسی طرح محمدیوسف کو اس وقت چلتا کیا جب وہ 2سال مزید کھیل سکتے تھے.

مزے کی بات یہ ہے کہ بڑے بڑے اسٹارز جو آج پاکستانی ٹیم اور سسٹم پر تنقید کر رہے ہیں،وہی ان پلیئرز کو نکلوانے میں پیش پیش تھے،ہمارا فوکس اسٹار ازم پر تھا،تیکنیکی پلیئرز ہماری ضرورت ہی نہیں تھے.ہم اسپیشلسٹ پلیئرز کو نکال کر رنگ برنگے ایسے آل رائونڈرز کے پیچھے تھے جن کا ٹریک ریکارڈ ہی ایک ہےکہ 15میچز کے بعد 3اننگز یا 10 بار مار پڑنے کے بعد 4وکٹیں لین یہ پرفارمنس ببھی ایسی کہ جو میچ ونر کبھی بھی نہیں بن سکی.

آج پاکستان کے پاس اعلیٰ پائے کا نہ فاسٹ بائولر ہے اور نہ ہی کوالٹی کا اسپنر،اسی طرح کوئی بیٹسمین نہیں ہے.بابر اعظم کے سوا کسی کے بارے میں کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ انضمام کی طرح 100 ٹیسٹ یایوسف کی طرح 90ٹیسٹ کھیل جائے گا.عبد الرزاق کی طرح کوئی آل رائونڈر ہے جو 5ہزار اسکور اور ساتھ میں 270کے قریب وکٹ لے جائے گا،ایسا اسپنر ہے جو ثقلین یا مشتاق کی طرح لمبی کرکٹ کھیل کر کوئی 300کے قریب شکار کرے گا اور فاسٹ بائولر جو 50یا 70ٹیسٹ کھیل کر 200 سے 300 وکٹیں مکمل کرلے گا تو یہ کیسی ٹیم ہے کہ اس کے پاس تینوں شعبوں میں اعلیٰ کلاس کے پلیئرز نہیں ہیں اور وہ انٹر نیشنل کرکٹ میں کوئی بڑی جنگ جیت جائیں گے.ہر گز نہیں بلکہ یہ ایسے پلیئرز ہیں جو ایک بار نہیں بلکہ کئی بار زمبابوے جیسی ٹیموں سے مات کھاجائیں گے .

حیدر سے پھر آصف،کرکٹ سلیکشن میں نئی چال،ٹاس ،2 تبدیلیاں،دیکھتے جائیں

(ٹاس کے فوری بعد کرک سین نے جو عنوان قائم کیا تھا،وہ بھی ایسے سادہ نہیں تھا،اوپر دیئے گئے عنوان کو ایک بار پھر ذرا غور سے دیکھ لیں )

پاکستان ٹیم میں مڈل آرڈر میں انضمام،یوسف،یونس،میاں داد ،سلیم ملک جیسا نام چاہئے،اسی طرح فاسٹ بائولرز میں ایک بائولروسیم،وقار،شعیب یا عاقب جاوید جیسا ہی آجائے اور آل رائونڈر میں اظہر محمود یا عبد الرزاق جیسا پلیئر ہی سیٹ کیا جائے.پھر یہ ٹیم چل سکے گی.محمد رضوان اور بابر اعظم کے ساتھ تمام شعبے کور نہیں کئے جاسکتے.24گھنٹے قبل میں ہرارے سے سیکڑوں میل دور بیٹھا اگر یہ لکھ رہا ہوں کہ پاکستان ہار سکتا ہے تو کیمپ میں موجود تھنک ٹینک کیا کر رہے ہیں.

2 تبصرے “بابر اعظم کے ٹاس جیتنے،فیلڈنگ کرنے،میچ ہارنے کی پیش گوئی 100 فیصد سچ،اب اگلی کہانی بھی جانئے

  1. بہت خوب، کیا پاکستان سیریز جیت جائے گا اس کے بارے میں تبصرہ فرمائیں

تبصرے بند ہیں