بابر اعظم کے سکندر اعظم بننےکا ادھورا جشن،کوچز و سینئرز نظر انداز،پی سی بی ہی ذمہ دار

رپورٹ: عمران عثمانی

جمعرات کو پاکستان کرکٹ ٹیم نے بابر اعظم کے سکندر اعظم بننے کا جشن منایا اور کیک کاٹا اور باقاعدہ ایک تقریب سجائی ہے جس میں قومی کھلاڑی تالیان بجا کر اپنے کپتان کو ایک روزہ کرکٹ کا نمبر ون بیٹسمین بننے پر مبارکباد دیتے دکھائی دیئے ہیں.پی سی بی کی جانب سے جاری ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بابر اعظم نے سب سے پہلے کیک کاٹا اور ساتھ کھڑے ایک کھلاڑی کے منہ میں ڈال دیا،ای بات جو بہتر دکھائی دی کہ وہ محمد حفیظ کی تھی جو سینیئر ہونے کے ناطے پہلے نمبر پر نہیں بلکہ دوسرے نمبر پر موجود تھے.کرکٹرز نے تالیان بجاکر اور آوازیں نکال کر خوب خوشی منائی ،جشن منایا.

بابر اعظم نے اس موقع پر کہا ہے کہ نمبر ون بننے اور ٹی 20 کی بڑی اننگ کھیلنے کی بڑی خوشی ہے اور اس طرح پوری ٹیم کے ساتھ جشن منانا اچھا لگا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہئے.سابق کپتان سرفراز احمد نے بھی اس موقع پر مبارکباد دی اور کہا ہے کہ بابر آپ اس طرح اپنی فیلڈ کے نمبر ون بنے رہو اورآگے بھی کامیاب ہو.

اس ویڈیو میں محمد حفیظ سے وہ گلے ملے اور اس کے علاوہ کوئی ایسی بات دکھائی نہیں دی کہ جس سے پی سی بی کی جاری اس 1منٹ اور 9سیکنڈ کی جشن ویڈیو کی اہمیت سمجھ میں آتی.بابر اعظم ایک روزہ کرکٹ کے نمبر ون بیٹسمین بنے،ویرات کوہلی کی جگہ لی،بڑا کارنامہ تھا،اسی طرح جنوبی افریقا کے خلاف ٹی 20میچ میں سنچری بنائی،بڑا الگ کارنامہ تھا .کیا یہ سب ان کا اکیلے کا کارنامہ تھا.پی سی بی نے کوچنگ اسٹاف کے نام پر اتنی بڑی فوج جو بھرتی کی ہوئی تھی،اس کا اس میں کوئی کردار نہیں تھا ،خاص کر یونس خان جو بیٹسمینوں کی کوچنگ کے لئے رکھے گئے ہیں،ان کا کردار یا مشن یا رائے یا محنت کا کوئی حصہ نہیں تھا،اسی طرح ہیڈ کو چ مصباح الحق،بائولنگ کوچ وقار یونس اور بیٹنگ کوچ یونس خان اس خوشی میں شامل نہیں ہوسکتے تھے.ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک سائیڈ پر آخر میں وقار یونس تالیاں بجارہے ہیں لیکن باقی سب غائب ہیں.اسی طرح سینیئر کرکٹر محمد حفیظ کو اس موقع پر ان کے مقام کے مطابق عزتدی جاتی تو وہ بھی ظاہر ہے کہ بابر اعظم کی تعریف ہی کرتے.

پی سی بی نے کھلاڑیوں کی یہ نامکمل تقریب یا پھیکی یا کوچز و سینئرز کو عزت نہ دینے کی روایت برقرار رکھتے ہوئے جو جاری کی ہے،اس پر سنگین سوالات کھڑے ہوگئے ہیں.پاکستان کرکٹ کے سنجیدہ حلقوں نےا سے تشویشناک قرار دیا ہے کیونکہ بابر کا نمبر ون بننا اور ٹی 20 میں بڑی اننگ کھیلنا دونوں ہی بڑے کارنامے تھے،اگر جشن منانا بھی تھا تو پورے جاہ و جلال کے ساتھ منایا جاتا جس میں کوچز کو انکے مقام کے مطابق عزت دی جاتی اور سینئرز بھی اپنے مرتبہ پر کھڑے دکھائی دیتے.یہ ایک مضحکہ خیز جشن تھا ،اس سے تو صاف لگا ہے کہ جشن منانے والوں میں یکسانیت نہیں تھی،پی سی بی کو ادارہ جاتی بنیاد پرا سے دیکھنا چاہئے تھا اور اس کے بعد ہی اسے کمائی کے لئے ریلیز کرنا چاہئے تھا،پھر کہتے ہیں کہ ہم پر بلا جواز تنقید کی جاتی ہے.